آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مولانا سے پوچھیں کس کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کیا، عبد الغفور حیدری


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے رہنما عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن سے پوچھیں کس کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کیا۔

تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ عمران خان ہمت کریں اور مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف آرٹیکل چھ کا مقدمہ بنائیں،میزبان محمد جنید نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پہلے اپوزیشن کیخلاف کرپشن کے الزامات میں تحقیقات شروع کروائیں اور اب غداری کے مقدمات کی تیاری شروع کردی ہے۔

جے یو آئی ف کے رہنما عبدالغفور حیدری نے کہا کہ روزاول سے 2018ء کے انتخابات کے نتائج اور حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے، ہماری تحریک کو سازش کہنے والوں کی عقل پر رونے کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتا، ہم نے دھرنے سے پہلے اسی بیانیہ کو لے کر پندرہ ملین مارچ کیے، جے یو آئی ف کے احتجاج اور پی ٹی آئی کے دھرنے میں بہت فرق ہے، ہم نے پندرہ ملین مارچ کیے مگر ایک دروازہ بھی نہیں ٹوٹا، لاکھوں لوگوں کا آزادی مارچ کیا ایک سڑک بھی بند نہیں ہوئی، عمران خان نے تو دھرنے میں سول نافرمانی کرتے ہوئے بجلی گیس کے بل پھاڑ دیئے تھے۔ عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ جے یو آئی ف کی تحریک ابھی بھی جاری ہے، ہماری اب بھی کوشش ہے کہ عمران خان مستعفی ہوجائے، عمران خان کی حکومت منتخب نہیں سلیکٹڈ ہے، پی ٹی آئی کو اقتدار میں سولہ مہینے ہوگئے مگر کہیں کامیاب نہیں ہوئی، ہماری تحریک ملک و قوم کے مفاد میں ہے، ہماری جدوجہد کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومت برخاست ہوجائے۔

عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں تو ان سے پوچھیں کس کی یقین دہانی پر انہوں نے دھرنا ختم کیا میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے، مولانا فضل الرحمٰن سے میں نے ایسی بات نہیں سنی اگر انہوں نے ایسی بات کی ہوگی تو ان سے سوال پوچھیں، فواد چوہدری کی باتیں بیہودہ ہوتی ہیں اس کی کسی بات پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا، فواد چوہدری کل کہاں تھا، آج کہاں ہے اور آئندہ جس کی حکومت ہوگی وہاں ہوگا، عمران خان کی مولانا فضل الرحمٰن پر آرٹیکل چھ لاگو ہونے کی بات شرمناک ہے، عمران خان کو شوق ہے تو قوت آزمائی کرے اور مولانا فضل الرحمٰن کو گرفتار کرے، عمران خان آرٹیکل 62پر بھی پورا نہیں اترتا۔

سینئر تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ عمران خان ایک دفعہ مولانا فضل الرحمٰن کیخلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کر دیں تاکہ انہیں بھی پتا چل جائے کہ ان کیخلاف اگر سازش تھی تو کون کررہا تھا اور مولانا فضل الرحمٰن کو یقین دہانیاں کس کس نے کروائی تھیں، بات نکلی تو اتنی دور تک جائے گی کہ عمرا ن خان بھی حیران پریشان ہوجائیں گے، پاکستان میں آرٹیکل چھ کا مقدمہ بنانا مذاق بن گیا ہے، جس شخص پر سپریم کورٹ کے حکم سے آرٹیکل چھ کا مقدمہ بنا اور اسے سزا ہوگئی اس کو حکومت بچانے کی کوشش کررہی ہے۔حامد میر کا کہنا تھا کہ آرٹیکل چھ کا مقدمہ صرف حکومت بناسکتی ہے، عمران خان ہمت کریں اور مولانا فضل الرحمٰن کیخلاف آرٹیکل چھ کا مقدمہ بنائیں، مولانا فضل الرحمٰن پوری قوم کو بتائیں انہیں انتخابات کی یقین دہانی کس نے کروائی تھی، مولانا فضل الرحمٰن سے بات پرویز الٰہی کی ہوئی تھی، میرے خیال میں عمران خان یہاں مولانا فضل الرحمٰن کی نہیں پرویز الٰہی کی بات کررہے ہیں، عمران خان نے پرویز الٰہی کو کٹہرے میں لانا ہے تو لے آئیں۔ میزبان محمد جنید نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پہلے اپوزیشن کیخلاف کرپشن کے الزامات میں تحقیقات شروع کروائیں اور اب غداری کے مقدمات کی تیاری شروع کردی ہے، وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے غیررسمی بات چیت میں مولانا فضل الرحمٰن کیخلاف غداری کے مقدمے کا اشارہ دیا، وزیراعظم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کیخلاف آرٹیکل چھ لگنا چاہئے۔

اہم خبریں سے مزید