آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

قراۃالعین فاروق، حیدرآباد

آج کل کھانا پکانا اتنا مشکل نہیں رہا، جتنا پہلے زمانے میں ہوا کرتا تھاکہ پہلے تو ہر گھر میں سِلوں پر مسالے پیسے جاتے، کئی کئی قسم کی چٹنیاں بنتیں، مربّے، اچار ڈالے جاتے۔یہاں تک کہ مہمانوں کی تواضع کے لیے شربت بھی گھر ہی میں تیار کیے جاتے۔ کسی کی کوئی دعوت کرنی ہو یا کوئی تہوار آنے والا ہو، گھر کی خواتین کئی روز پہلے ہی سے تیاریاں شروع کر دیتیں، گھر والے تو کیا محلّے والوں تک کو پتا چل جاتا کہ فلاں گھر میں دعوت ہونے والی ہے۔ اور ایک آج کا تیز رفتار دَور ہے، بہت سی روایات، رہن سہن کے طور طریقے بدلے ہیں، تو وہیں کھانے پکانے کے انداز بھی یک سر بدل گئے ہیں۔ نت نئی تراکیب، یوٹیوب چینلز، ٹی وی پر دکھائے جانے والے کوکنگ شوز اور پھر پیکٹ کے مسالوں نے تو جیسے زندگیاں ہی آسان کر دی ہیں۔

پہلے زمانے میں کسی عورت کا سگھڑ پن پرکھنے کے لیے یہ دیکھا جاتا کہ وہ کس پُھرتی اور تیز رفتاری سے با ورچی خانے کے امور سر انجام دیتی ہےاور سلام ہے اُن خواتین پر کہ وہ گھریلو ذمّے داریوں، ساس ، سُسر کی دیکھ بھال، بچّوں کی بہترین پرورش کے ساتھ ساتھ کڑھائی، بُنائی وغیرہ کے لیے بھی وقت نکال لیتی تھیں۔ پر آج کے اس نفسانفسی کے دَور میں، اتنی آسانیوں کے با وجود خواتین کے پاس وقت ہی نہیں بچتا۔ 

حالاں کہ اب تو قریباً ہر گھر ہی میں پیکٹ کے مسالے استعمال ہوتے ہیں، جب کہ بعض خواتین کا تو یہ حال ہے کہ وہ چاہتی ہیں، بس ایک جادو کی چَھڑی گھمائیں اورگھر کے سارے کام ہوجائیں، جو عموماً ماسیاں، کام والیاں ہی کرتی ہیں۔ کھانا پک جائے، جو ویسے ہی پیکٹ کے مسالوں سے پکتا ہے۔ بچّے پل بڑھ جائیں، جو پہلے ہی انٹرنیٹ پر پل رہے ہیں۔ بس اُن کاسارا دھیان موبائل فون، سوشل میڈیا یا گپ شپ ہی میں لگارہے کہ انہیں یہی فکر دامن گیر رہتی ہے کہ کہیں کسی برانڈ کی سیل مِس نہ ہوجائے۔ 

کوئی میسج اَن دیکھا نہ رہ جائے۔ کسی واٹس ایپ گروپ میں اَیڈ ہونے سے محروم نہ رہ جائیں۔میسجز کے جواب دینے، انٹرنیٹ استعمال کرنے کی دُھن میں یہ فراموش ہی کر بیٹھتی ہیں کہ چولھے پر سالن بھی رکھا ہے، جو اکثر اوقات جل ہی جاتا ہے۔ اکثر خواتین تواس چکر میں یہ تک بھول جاتی ہیں کہ انہوں نے سالن میں نمک، مرچ بھی ڈالا ہے یا نہیں۔ فون پر بات کرنے میں اتنی مشغول ہو جاتی ہیں کہ کچن ہی سے باہر نکل جاتی ہیں اور پیچھے کھانے کا خانہ خراب جاتا ہے۔ 

جب جلنے کی بُو سارے گھر میں پھیلتی ہے ،تو ایک دَم احساس ہوتا ہے کہ وہ تو چولھے پر ہنڈیا چڑھا کر آئی تھیں۔ افسوس کہ آج کی عورت کے پاس اتنی آسانیوں، سہولتوں کے باوجود وقت نہیں۔ باقی کام تو ایک طرف، اگر خواتین صرف کھانا بناتے ہوئے خاص طور پر موبائل فون استعمال نہ کریں اور اپنی پوری توجّہ کھانا پکانے پر مرکوز رکھیں، تو یقیناً کھانا جلد بن جائے گا اور ذائقہ بھی لاجواب ہوگا۔ اور اس طرح اُنہیں اپنی دیگر سرگرمیوں کے لیے وقت بھی مل جائے گا۔

سنڈے میگزین سے مزید