آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

شہروں میں شہر کراچی: ایک مطالعاتی جائزہ

مصنّفہ:نسرین اسلم شاہ

صفحات: 483

قیمت: 2500 روپے

ناشر: رائل بُک کمپنی،بی جی-5،ریکس سینٹر بیسمنٹ، نزد پنوراما سینٹر، کراچی۔

کراچی اپنے اندر ایک عجیب کشش رکھتا ہے۔ مختلف نسلوں، قوموں، مذاہب، رسوم و رواج اور تہذیبوں کو اپنے اندر سمونے والے اس بین الاقوامی شہر کا مزاج اس مُلک کی قومی زبان اُردو کے عین مماثل ہے کہ دونوں ہی جذب و قبول کی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ ایک زمانے تک مُلک کا اوّلین دارالحکومت قرار پانے والے اس شہر کی اہمیت آج بھی جوں کی توں ہے کہ مُلکی معیشت کے چلنے والے پہیّے کی اصل قوّتِ محرّکہ یہی شہر ہے۔بانیِ پاکستان قائدِاعظم محمّد علی جناح کے مولد و مسکن و مدفن شہر نے ساحلی سے صنعتی شہر بنتے بنتے وقت کے کتنے جبر اپنے سینے پر سہے، یہ بجائے خود ایک طویل تاریخ ہے۔ 

رئیس ؔ امروہوی نے اپنے قطعات میں محض اس مُلک ہی کی نہیں، بلکہ اس عظیم شہر کی بھی تاریخ تحریر کر دی ہے کہ جب انہوں نےکراچی میں قدم رکھا، تو اس شہر کی وسعت پر مختلف تہذیبوں کے اثرات دیکھتے ہوئے کمالِ فن کی بلندی پر قطعہ کہا؎’’لالو کھیت و ملیر کو احمق…لالو کھیت و ملیر کہتے ہیں…ہم تو ان میں سے ہر علاقے کو…ایک برِّصغیر کہتے ہیں‘‘۔جب کراچی مصائب و آلام میں گِھرا اور لاشوں پر لاشیں اُٹھنے لگیں، تو اُن کے قلمِ معجز نما نے یوں کلام کیا؎’’پہلے تھا ہم کو ناز کہ اپنا ہے ایک شہر…سایوں کا شہر اور سویروں کا شہر ہے …لیکن ہے اب یہ حال کہ یہ روشنی کا شہر…اندھوں کا شہر اور اندھیروں کا شہر ہے ‘‘۔ممتاز شاعر شبنم رومانی نے ’’مثنوی سیرِ کراچی‘‘ بھی تحریر کی تھی۔ یہ سب باتیں ’’شہروں میں شہر کراچی:ایک مطالعاتی جائزہ‘‘ کے’’ اوراقِ جانفشانی‘‘ پر نظر ڈالتے ہوئے بے ساختہ یاد آگئیں۔ 

رئیس کلّیہ فنون و سماجی علوم، میریٹوریس پروفیسر، شعبہ سماجی بہبود ، ڈائریکٹر، سینٹر آف ایکسی لینس فار ویمنز اسٹڈیز، جامعہ کراچی، ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ نے برسوں اس شہر کی کُوچہ گردی کی۔ گلیوں اور محلّوں کی خاک چھانی۔ سرکاری و غیر سرکاری دفاتر اور علاقوں کا دورہ کیا۔ بلامبالغہ اَن گِنت افراد سے ملاقاتیں کیں، تب کہیں جا کر اُنہوں نے اس شہر کو ’’شہروں میں شہر کراچی‘‘قرار دیا۔یہ ایک ایسی تحقیق ہے، جس پر سرسری بات کرنے کی بجائے تفصیل سے گفتگو مقصود ہے۔ جو لوگ تحقیق کی دشوار گزار راہوں، گھاٹیوں سے گزرنے کا تجربہ رکھتے ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ایسی جگہوں میں ’’دو چار بہت سخت مقام آتے ہیں۔‘‘تعلیم و تدریس کا وسیع تجربہ رکھنے والی، بارہ اہم کتابوں کی مصنّفہ، بے شمار اداروں کے ادارتی عملے میں شامل، بہت سے طلبہ کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کروانے والی ہمہ وقت ’’وقت کی استعمال کنندہ‘‘ ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ کو کراچی سے عشق ہے اور جس کا ثبوت اُن کی تحریر کردہ یہ پیشِ نظر کتاب ہے کہ جسے کراچی کے بارے میں معلومات کا ایک بیش بہا خزانہ قرار دینے میں کوئی تکلّف نہیں، بلکہ اسے کسی حد تک کراچی کا انسائیکلوپیڈیا بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ 

کتاب کے مندرجات کو دو حصّوں میں پیش کیا گیا ہے۔ اوّل حصّے میں کراچی سے متعلق وہ مضامین شامل ہیں، جن میں اس شہر کی وجہِ تسمیہ سے لے کر محلِ وقوع، خُوب صُورت مقامات، عبادت گاہوں، قبرستان، مزارات، لائبریریز، مَردم شماری، منصوبوں، اہم شخصیات وغیرہ کا احوال ہے۔تاہم، یہ مروّجہ مضامین کی شکل میں نہیں ہیں، محض ابتدائی معلومات کی فراہمی تک محدود ہیں،البتہ کتاب کا دوسرا حصّہ کراچی کے مختلف ٹاؤنز اور اُن سےوابستہ اہم باتوں کے بیان پر مشتمل ہے۔جس میں ٹاؤنز کے ساتھ اہم مقامات کی، جن میں تعلیمی وفلاحی ادارے، شفاخانے، بینکس، فیول اسٹیشنز، گاڑیوں کے شورومز، شادی ہالز، پولیس اسٹیشنز، کھانے پینے اور گھومنے پھرنے کی اہم جگہیں شامل ہیں، تمام تر تفصیل بھی شامل کی گئی ہے۔مصنّفہ نے ’’پیش لفظ‘‘ میں ایک جگہ تحریر کیا ہے،’’اس شہر سے مجھے ایک عجیب اُنسیت ہے، جس کی وجہ سے مَیں کبھی اسےچھوڑنے کا تصوّر نہ کر سکی۔ باوجود کئی مواقع ملنے کے، کراچی ہی میں رہنے کو ترجیح دی۔‘‘اوریہ کتاب لکھ کر اُنہوں نے اس شہر سے اُنسیت کا حق ادا کر دیاہے۔ نیز،کتاب کے آخر میں شامل تصاویر نے بھی کتاب کی افادیت مزیدبڑھا دی ہے۔         

سنڈے میگزین سے مزید