آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا ،کبھی انسان بہت عیش و عشرت کی زندگی گزارتاہے تو کبھی تنگ دستی کی ۔شاید اسی کو زندگی کہتے ہیں ۔ہمارے اطر اف میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیںجو اپنی زندگی کے دن بہت مشکل سے گزار رہے ہیں ۔انہیں میں عذرا نامی ایک خاتون کا شمار بھی ہوتا ہےجو گزشتہ ایک سال سے لاہور کی سڑک پر گاڑی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،یہی ان کا گھر ہے ،جس میں دوزح بھی جنت بھی۔ حالاں کہ وہ بہت قابل خاتون ہیں اور لندن کے سب سے بڑے بینک ’’بی سی سی آئی ‘‘ میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہوکر اپنی خدمات بھی انجام دے چکی ہیں ۔ان کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ وہ اس طر ح سڑک کنارے اپنی زندگی گزارنے لگیں ۔ان کی زندگی کی کہانی کو جاننے کے لیے ہم نے فون پر ان سے رابطہ کیا ،اس سلسلے میں ان سے ہماری کیا گفتگو ہوئی اس کی تفصیلات نذر قارئین ہیں ۔

س:اپنے خاندان اور تعلیم کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

ج:میرے نانا کا تعلق حیدر آباد دکن کے شاہی خاندان اور نانی کا لکھنو تھا ،جب پاکستان آزاد ہوا تو نانااپنی ساری جائیدا د انڈیا میں چھوڑ کر پاکستان آگئے ۔یہاں کراچی کی پیر الہی بخش کالونی میں رہائش اختیار کی ۔بعد ازاں نانا نے کارساز پر گھر خریدا ،جس میں والدہ رہا کرتی تھیں ۔میں اکلوتی اولاد ہوں ۔ والد کا انتقال میری پیدائش سے قبل ہو گیاتھا ۔والدہ 2000ء میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔ان کے انتقال کے بعدمیں نے وہ گھر ایک ٹرسٹ کے نام کر دیا، کیوںکہ یہ میری والدہ اور نانا کی وصیت تھی ۔ 

والدہ بہت قابل خاتون تھیں،انہوں نے انگلینڈ اور جرمنی سے تعلیم حاصل کی۔ اب میں اکیلی ہوں ،میرے خاندان کا کوئی بھی فرد نہیں ہے ۔میں نے ابتدائی تعلیم کراچی کےایک نجی اسکول سے حاصل کی ۔میٹر ک کرنے کے بعد لندن چلی گئیں۔مجھے بچپن سے ہی بی سی سی آئی بینک (BCCI) میں کام کرنے کا شوق تھا ،کیوں کہ اس بینک کےسر براہ آغا حسن عابدی میرے آئیڈیل تھے میں ان کی شخصیت سے بہت زیادہ متاثر تھی ۔ان کے ساتھ کام کرنا میرا خواب تھا ۔لندن جانےکے بعد پہلا مسئلہ ملازمت تھا ۔

اتنا علم تھاکہ میٹرک پاس لڑکی کو معمولی ہی ملا زمت مل سکتی ہے ۔ہوا بھی یہی بینک آف انگلینڈ میں کلرک بھرتی ہوگئی ۔ایک دن آغاصاحب سے ملنے ’’بی سی سی آئی ‘‘چلی گئی ۔خوش قسمتی سے آغاصاحب سے ملاقات ہوگئی ۔میںنے اپنی خواہش کا اظہار کیاکہ میں آپ کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں ۔جواباًآغا صاحب نےکہا ،آپ تو میٹرک پاس ہیں ۔میںنے کہا تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ ہے لیکن گھر پر پڑھوں گی اور امتحان دینے پاکستان جائوں گی ۔

انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا ۔میری خواہش پر انہوں نے مجھے اپنے بینک میںملازمت دے دی ۔میر الکی نمبر ’’9‘‘ ہے ۔بی اے کے بعد 9 مضامین میںماسٹرکیا ۔لندن سے چار سال کا بینکنگ کا ڈگری کورس کیا اور مختلف ملکوں سے 550 سینڈوچ کورسز بھی کیے ۔

س:آپ بی سی سی آئی میں کس عہدے پر تھیں ؟

ج:میں بی سی سی آئی میں مختلف شعبوں کی سربراہ کے عہدے پر فائز رہی۔ 1975ء میں جوائن کیا تھا اور 1992 ء تک اسی بینک کے ساتھ منسلک رہی ۔بینک بند ہونے کے تقریباً 2 سال بعد میں پاکستان واپس آگئی ،کیوں کہ مجھے لندن میں رہ کر فقیروں کی طر ح زندگی نہیں گزار نی تھی ۔بینک بند ہونےکے بعد حکومت ِبر طانیہ نے ہم سے سب کچھ لے لیا تھا۔ گھر ،گاڑی وغیرہ۔ یہاں تک کہ لندن میں میرے دو فارم ہائوسز تھےوہ بھی لے لیے گئے تھے ۔میرے پاس امریکا اور کینیڈا کی شہریت ہے لیکن میں وہاں رہنا نہیں چاہتی تھیں ،سو پاکستان آگئی ۔

س: پاکستان آنے کے بعد کہاں قیام کیا ؟

ج:ابتداء میں کراچی میں والدہ کے ساتھ رہی ،لیکن چند ماہ بعد میں لاہور منتقل ہوگئی ، یہاں میں نے اپنا بوتیک کا کام شروع کیا ،جس میں چٹا پٹی کے غرارے ،شرارے،فینسی بیڈ شیٹ ، گوٹے کی جائے نماز اور قرآن شریف رکھنےکےکور تیار کیے جاتے تھے۔پہلے لاہور کے ایک مال میں دُکان لی ،جس میں بوتیک بنایا لیکن کچھ عر صے بعد ہی گھر پر بوتیک کھول لیا،کچھ ورکرز اور ٹیلرز رکھے ۔اچھا خاصا منافع ہوتا تھا ۔لیکن ایک صاحب نے میرے ساتھ فراڈ کیا ،جس کی وجہ سے اتنا نقصا ن اُٹھنا پڑا کہ کرائے کا گھر بھی خالی کرناپڑا ۔اس سے قبل میرے ساتھ ایک اور حادثہ ہوا تھا ۔

ایک دفعہ ار جنٹ کام سے مجھے کرا چی آنا پڑا ،آنے سے کچھ دن پہلے ہی کرائے کے گھر میں شفٹ ہوئی تھی میں نے سامان بھی نہیں کھولا تھا ۔کراچی آنے کے بعد مالک مکان نے میرا سارا سامان پھینک دیا اور گھر کسی اور کو کرائےپر دے دیا جب میں واپس آئی تو مالک مکان نے گھر میں داخل نہیں ہونے دیا ۔میں نے کہا مجھے اپنا سامان تو لینے دیں کہا آپ کے پاس کو ئی کنٹریکٹ پیپرز ہیں تو ہمیں دکھا دیں وہ پیپرز تومیرے سامان میں تھے ۔خاصی گر ما گرمی ہوئی لیکن کچھ حاصل نہ ہوا ۔

اپنی دوست کے گھر کچھ دن رہی لیکن آخر کب تک رہتی ۔کراچی میں بھی میرا کوئی گھر نہیں ہے ،اس لیے لاہور میں رہتی ہوں ۔فی الحال میرے پاس بس یہ ایک گاڑی ہے ۔اب میں پیسوں کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہی ہوں ،جیسے ہی انتظام ہو جائے گا تو میں فوری طور پر ایک گھر کرائے پر لے کر بوتیک کا کام دوبارہ شروع کروں گی ۔حالاں کہ بہت سے سیاسی اور بزنس مین سے میرا رابط تھا لیکن میں نے ان میں کسی سے بھی مدد نہیں مانگی ۔

س:اس طرح گاڑی میں رہتے ہوئے آپ کو کتنا عر صہ ہوگیا ہے ؟

ج: تقریبا ً ایک سال ہو گیا ہے ۔

س:یہ گاڑی آپ کی ملکیت ہے ؟

ج:جی یہ میری ذاتی گاڑی ہے ۔ایک دفعہ میںنے ایک صاحب کو کچھ پیسے اُدھار دیے تھے لیکن بعدمیں وہ میرے پیسےواپس نہیں کر پارہے تھے ،اُس کے بدلے انہوں نےمجھے یہ گاڑی دے دی تھی ۔

س:آپ کو اس طر ح سڑک پر رہتے ہوئےکسی قسم کی پریشانی یا ہراسگی کا سامنا نہیں کرناپڑتا ؟

ج:ذاتی طور پر تو مجھےکسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیںہوتا ،ہاں ! ہراسگی کے حوالے سے مجھے کچھ مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔کبھی کوئی گزرتے ہوئے کوئی جملہ بولتا ہو اچلاجاتا ،کبھی کوئی کہتا ہے کہ ہماری ماں نہیں ہے آپ ہمارے گھر چلیں! ہم آپ کی اپنی ماں کی طر ح خدمت کریں گے ۔پیار ،محبت سے اپنے گھر میں رکھیں گے ۔مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی اگر سب اولادیں اپنے ماں ،باپ سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں تو آج پاکستان میں شیلٹر ہومز کیوں ہیں۔ 

ہمارا معاشرہ بے راہ راوی کا شکارہورہا ہے کسی بھی اکیلی عورت کو عزت کی نگا ہ سے دیکھا ہی نہیں جاتا ۔سڑک کنارے کھڑی عورت کو پتا نہیں کیوں ہمارا معاشرہ بد کردار سمجھتا ہے ،مگر ایسا نہیں ہے کہ اس دنیا میں کوئی نیک یا اچھا شخص نہیں ۔نیک لوگ بھی اس دنیا میں ہیں اور بہت مرتبہ نیک لوگ بھی میرے پاس مدد کے لیے آئےہیں ۔

س:جن سیاسی لوگوں سے آپ کی دوستی تھی ،ان میں سے کسی نے آپ کی مدد کی؟

ج: میری بڑے بڑے بزنس مین اور سیاسی لوگوں سے بات چیت تھی لیکن میں نے اپنے آپ سے ایک عہد کیا ہے کہ سوائےاللہ کے میں کسی کی مدد نہیں لوں گی ۔میں کسی کے احسان تلے دبنا نہیں چاہتی ۔ایسا نہیں ہے کہ میرے دوستوں یا جاننے والوں نے مجھے سے رابطہ نہیں کیا ۔ لیکن میں نے سب سے واضح طور پر کہہ دیا کہ میں کسی کی ہمدردی یامالی مدد نہیں چاہتی ۔

مجھے پوری اُمید ہے کہ میں بہت جلد اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑی ہوجائوں گی۔ ویسے ایک بات یہ بھی ہے کہ ہر شخص مطلبی ہے ،آپ سے اچھے سے بات اُسی وقت کرے گا،جب اُس کو آپ سےکوئی کام ہوگا ۔ان لوگوں سے مدد نہ لینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وقت پڑنے پر میں پوری بہادری سے ان کی برائیوں اور غلط کاموں کو سر ِعام بتا سکوں ۔

س:لندن سے پاکستان کیا سوچ کے آئیں ؟

ج:جب میں پاکستان آرہی تھی تو میرے ذہن میں کچھ بھی نہیں تھا کہ میں وہاں جاکرکیا کروں گی ۔ جیسا کہ میں نےپہلے بتایا کہ لندن سے آنے کے بعد پہلےوالدہ کے پاس کراچی میں رہی ،پھرلاہورچلی گئی ۔وہاں جاکر اچانک میرے ذہن میں بوتیک کھولنے کا خیال آیا تو میں نے یہ کام شروع کردیا ۔

س:دنیا کے سب سے بڑے بینک میں کام کیا تو پاکستان میں کسی بینک میں ملازمت کیوں نہیں کی ؟

ج :لندن سے میں یہ سوچ کرآئی تھی کہ میں کسی آفس یا بینک میںملازمت نہیں کروں گی ، بلکہ اپنا ذاتی کام ہی کروں گی۔

س:جب بینک بند ہوا تو آپ نے لندن میں ملازمت تلاش کیوں نہیں کی ؟

ج: اس لیے تلاش نہیں کی ،کیو ں کہ میں وطن آنا چاہتی تھی۔ مجھے اپنے ملک سے بہت محبت ہے جو مجھے میرے نانا سے ملی ہے ،بس اسی وجہ سے میں نے وہاں مزید رہنے کے بارے میں نہیں سوچا ۔ایک اوروجہ یہ بھی تھی کہ انگریزوں نے ہمارے ساتھ جو کچھ بھی کیا تھا ۔اس کااثرمجھ پر تھا۔پھر میری خواہش تو پوری ہوگئی تھی ۔بینک بھی بند ہو گیا تھا ۔

س:آپ کے پاس لند ن کی شہریت بھی تھی،پھر وہاں دوسری نوکری کیوں نہیں کی ؟

ج:جی میرے پاس شہریت تو تھی لیکن بی سی سی آئی بینک کے ساتھ جو دھوکہ ہوا تھا ،اس کے باعث ہماری شہریت بھی ختم ہوگئی تھی ۔میں وہاں رہ کر انگریزوں کی غلامی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔میرے پا س لندن میں انگریز ڈرائیور تھا ،گھریلو کاموںکے لیے میڈ تھی۔بینک کے بند ہونے کے بعدہم سے سب کچھ لے لیا گیا ۔ایک دوسال بی سی سی آئی کے ملازمین نے بینک کے لیے مقدمہ بھی لڑا لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوئے ۔ تو پھر وہاں کیوں قیام کرتی ۔

س :کھانے پینے کے اخراجات اور دیگر ضروریات کیسے پورے کرتی ہیں ؟

ج:میں نے اپنی کچھ قیمتی چیزیں بیچی تھیں ،فی الحال ان پیسوں سے اپنی ضروریات پوری کررہی ہوں ۔کبھی کوئی اپنے گھر سے کچھ کھانے کے لیے دے جاتا ہے ۔ویسے آ پ کوا یک بات بتادوں کہ میرے اندر سے بھوک ،پیاس کا احساس مٹ چکا ہے ۔میں کھانا کھائوں یا نہ کھائوں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ،جس جگہ میں ہوں وہاںایک مسجد ہے ۔ واش روم اور نہانے کے لیے وہاں چلی جاتی ہوں ۔قریب میں گاڑیوں کا ایک گیراج بھی ہے کبھی کبھار وہاں بھی چلی جاتی ہوں ۔

س: زندگی سے کوئی شکایت ہے ؟یا کوئی ایسی خواہش جو ابھی تک پوری نہیں ہوئی ہے؟

ج:آج میرے حالات اتنے زیادہ خراب ہوچکے ہیں کہ میرے پاس رہنے کے لیے گھر تک نہیں لیکن اس کے باوجود مجھے اپنی زندگی سے کوئی شکوہ ،شکایت نہیں ہے ۔میں ابھی بھی زندگی سے اتنی ہی مطمئن ہوں جتنی حالات اچھے ہونے پر تھی ۔میری نانی ہمیشہ کہا کرتی تھیں کہ زندگی میںجو بھی چیز ملے اس کو انجوائن کرو اور اللہ کاشکر ادا کرو ۔میں دنیا کے سات ،آٹھ ممالک میں رہی ہوں ، ملکوں ملکوں گھومی ہوں،دو عمرے کیے ہیں ۔

علاوہ ازیں اپنا ہر شوق اور ہر خواہش پوری کی ہے۔ اب کوئی خواہش باقی نہیں رہی ۔میں آپ سے ایک بات ضرور کہنا چاہوں گی کہ گدھے پرکتابیں لادنے سے عالم نہیں بنتے اور پیسہ آجانے سے خاندان نہیں بنتے۔ مجھے اللہ کی ذات پر پورا یقین ہے جب اچھے دن نہیں رہے تو یہ بری دن بھی نہیں رہیں گے، بہت جلد میرے حالات پہلے سے بھی اچھے ہوجائیں گے ۔