آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہر اتوار کو میں دو کام کرتا ہوں، صبح اٹھتے ہی گھر والوں کو گاڑی میں بٹھاتا ہوں اور دیسی ناشتے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہوں، تلاش کا لفظ میں نے اِس لیے استعمال کیا کیونکہ میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ کوئی نئی جگہ دریافت کی جائے، کچھ جگہیں البتہ آزمودہ ہیں جہاں کبھی بھی جایا جا سکتا ہے.

سو جس دن تجربے کا موڈ نہ ہو اُس دن ہم اِن مخصوص جگہوں میں سے کہیں چلے جاتے ہیں اور مکمل بدپرہیزی کرتے ہوئے دیسی ناشتے کا لطف اٹھاتے ہیں۔ 

کسی مصنف کا قول ہے، شاید میرا اپنا ہی، جو شخص لاہور میں رہتے ہوئے اتوار کو ناشتے میں ڈبل روٹی اور بغیر زردی کا انڈہ کھائے اُس سے نکاح کرنا ٹھیک نہیں۔ مرغ چنے، نہاری، سرے پائے، کھد، مغز، حلوہ پوری، خدا کی یہ نعمتیں لاہور میں جہاں جہاں بہترین ملتی ہیں اس کی تفصیل فدوی کے دل میں محفوظ ہے، کبھی موقع ملا تو آپ کی خدمت میں بیان کر دی جائے گی۔ 

اِس قسم کے ناشتے کے بعد اگر لسّی پی لی جائے تو بندہ ’’ہائی‘‘ ہو جاتا ہے اور سرور سے نیند آنے لگتی ہے مگر اس کے باوجود میں کوشش کرکے دوسرا کام یہ کرتا ہوں کہ شہر کی کوئی تاریخی جگہ دیکھ لوں، اتوار کی صبح سڑکوں پر رش بالکل نہیں ہوتا، سو ہم ایسی جگہوں پر بھی گاڑی لے جاتے ہیں جہاں عام دنوں میں پیدل چلنا ممکن نہیں ہوتا۔ 

لاہور میں دیکھنے والے مقامات چپے چپے پر بکھرے ہوئے ہیں، خاص طور سے اندرونِ شہر جہاں ہر مکان ہی سو ڈیڑھ سو سال پرانا ہے، کہیں کوئی تاریخی حویلی ہے، کہیں کسی بادشاہ کا ویران مقبرہ ہے، کہیں کوئی اجڑا ہوا باغ ہے اور کہیں کوئی پرانا مندر۔

اگر آپ لاہور کے شاہی قلعے کی طرف جائیں تو قلعے کی بیرونی دیوار کے ساتھ ہی ایک سڑک اندر کی طرف مڑتی ہے، اس علاقے کا نام ہیرا منڈی ہے، یہاں پرانے ٹیکسالی دروازے کے قریب لاہور کی چار سو سالہ پرانی حویلی ہے جو مغل دور میں تعمیر کی گئی تھی اور بعد میں دھیان سنگھ کی ملکیت میں آ گئی۔ 

پنجاب جب سکھوں کے قبضے سے نکل کر انگریزوں کے ہاتھ میں گیا تو مقبرہ انار کلی میں پروٹسٹنٹ فرقے کی عبادت کے لیے جگہ مخصوص کی گئی جسے اکثر لوگ لاہور کا پہلا چرچ کہتے ہیں مگر ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ پہلی مرتبہ انگریزوں نے دھیان سنگھ کی حویلی کو عارضی طور گرجا گھر بنایا تھا، لاہور کا تاریخی گورنمنٹ کالج بھی پہلی مرتبہ دھیان سنگھ کی حویلی میں قائم 1862میں قائم کیا گیا تھا، آج کل اِس حویلی میں لڑکیوں کا کالج ہے جسے فاطمہ جناح کالج برائے خواتین کا نام دیا گیا ہے۔ 

اِس حویلی کا موجودہ دروازہ بعد میں تعمیر کیا گیا تھا، جب آپ اِس میں داخل ہوتے ہیں تو دائیں طرف چند مکانات ہیں جن کے پیچھے شاہی قلعے کی دیوار ہے جبکہ حویلی کا داخلی دروازہ بائیں جانب ہے جو اب بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ 

اِس دروازے سے آپ حویلی میں داخل ہوں تو سامنے وسیع باغ ہے جس کے چاروں جانب دو منزلوں میں کمرے ترتیب سے بنے ہیں، یہ حویلی شاید 36کنال پر واقع تھی مگر اب 32کنال رہ گئے ہیں، کچھ زمین پر لوگوں نے قبضے کر رکھے ہیں۔ 

اِس اتوار ہمیں یہ حویلی دیکھنے کا موقع ملا، اپنی مخدوش حالت کے باوجود یہ حویلی اب بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے، اس کے کمرے، دروازے، چھتوں پر ہوئی مینا کاری، اب بھی بہت کچھ اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ سب سے حیران کن جگہ اِس حویلی کا تہہ خانہ ہے، سیڑھیاں اتر کر جب ہم اس تہہ خانے میں گئے تو یوں لگا جیسے یکدم چار سو سال پرانے دور میں داخل ہو گئے ہوں، ایک عجیب سا خوابناک ماحول تھا، تہہ خانے کے آخری سرے پر کاٹھ کباڑ رکھا تھا، پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ سرنگ کا راستہ ہے جو یہاں سے شاہی قلعے تک جاتی ہے، سرنگ اب بھی موجود ہے مگر اس کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ 

کیا ہی اچھا ہو اگر حکومت پنجاب اِس سرنگ کو بحال کرکے اسے سیاحوں کے لیے کھول دے، ایسی ہی ایک سرنگ غالباً مقبرہ جہانگیر میں واقع تہہ خانے میں بھی میں نے دیکھی تھی، وہ بھی شاہی قلعے تک جاتی ہے مگر اسے بھی بند کر دیا گیا ہے۔ 

دھیان سنگھ بہت دلچسپ کردار تھا، یہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا وزیر اعظم تھا، رنجیت سنگھ کے بیٹے شیر سنگھ کو تخت پر بٹھانے میں بھی دھیان سنگھ کا کلیدی کردار تھا، مگر 1843میں دھیان سنگھ اور شیر سنگھ دونوں کو ایک بغاوت کے نتیجے میں قتل کر دیا گیا، تاہم اگلے ہی روز دھیان سنگھ کے بیٹے ہیرا سنگھ ڈوگرا نے اپنے باپ کے قاتلوں کا بدلہ لے کر انہیں مار ڈالا، بعد ازاں ہیرا سنگھ بھی اقتدار کی اِس جنگ میں قتل ہوا، دھیان سنگھ کا بڑا بھائی گلاب سنگھ ڈوگرا وہ شخص ہے جو بعد میں جموں کشمیر کا مہاراجہ بنا۔ 

سو، ایسے شخص کی حویلی لاہور میں موجود ہے جو سکھوں کا ہیرو تھا، ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم میں سے کوئی ’’گیان سنگھ‘‘ اِس حویلی کو سیاحوں کے لیے کھول دے، سکھ یاتریوں کو اِس طرف راغب کرے، وہ کرتارپور یا واہگہ سے لاہور آئیں، دھیان سنگھ کی حویلی کی سیر کریں، سرنگ کے راستے شاہی قلعے پہنچیں، ساتھ ہی رنجیت سنگھ کی سمادھی پر حاضری دیں، ہیرا منڈی میں رات کا کھانا کھائیں اور ایک بھرپور تاریخی ٹور کے بعد امرتسر واپس جائیں، وہ تمام عمر لاہور کے سحر میں گرفتار رہیں گے مگر افسوس کہ اِس میں سے کوئی ایک کام بھی نہیں ہو سکے گا۔ 

دھیان سنگھ کی حویلی لاہور کے اُن مقامات میں سے ایک ہے اکثریت جن سے واقف ہی نہیں، اِس حویلی کے احاطے میں ہی عین سامنے چھوٹی چھوٹی ایک دو پرانی حویلیاں ہیں جنہیں اُن کی اصل شکل میں دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ان میں سے ایک میں کالج کی لائبریری قائم ہے، شاید یہ اُس زمانے میں دھیان سنگھ کے ملازمین کی رہائش گاہیں ہوں، مجھے اِس بارے میں علم نہیں۔

لاہور کا حسن اب ماند پڑ چکا ہے، تاریخی مقامات کے آگے پیچھے پلازے ہیں جہاں تیل کے ڈپو سے لے کر ٹائروں کی دکانیں قائم ہیں، جا بجا بینرز اور بدنما اشتہارات لگے ہیں، بجلی کے کھمبوں سے سانپوں کی طرح تاریں لٹک رہی ہیں اور رہی سہی کسر ہماری غربت نے پوری کر دی ہے جس کی وجہ سے ہم اِن تاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال بھی نہیں کر سکتے۔

 اِس کے باوجود لاہور ہماری محبوبہ ہے، ایسی محبوبہ جس کا حسن اگر ماند پڑ جائے تو بھی عاشق کی محبت کم نہیں ہوتی۔ میں تو ہر اتوار کو اپنے محبوب سے ملتا ہوں، آپ کا شہر بھی آپ کا محبوب ہے، اس سے ملاقات کیا کیجیے۔