آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نئی دلی: مسلمان تھانے میں پناہ لینے پر مجبور، صحافی نے آڈیو جاری کردی

نئی دلی: مسلمان تھانے میں پناہ لینے پر مجبور، صحافی نے آڈیو جاری کردی


نئی دہلی میں ہندوتوا نظریے کے حامی انتہا پسندوں کے مسلمان مظاہرین پر مظالم کی نئی روداد خود بھارتی صحافی نے سنادی۔

بھارتی دارالحکومت کے علاقے شاہدرہ کے تھانے میں 22 مسلمان پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ان پناہ لیے ہوئے مسلمانوں نے مدد کے لیے فون کیا جس کی آڈیو صحافی برکھادت نے جاری کردی۔

دوسری جانب فساد زدہ دارالحکومت نئی دلی کے شمال مشرقی علاقوں میں کرفیو لگا کر کسی بھی شخص کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ دلی کے 4 علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر میں ہونے والے فسادات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد10ہوگئی ہے، جبکہ 135 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

فسادات سے متاثرہ علاقے موج پورمیں پانچ موٹر سائیکلوں کو آگ لگادی گئی، چھ میٹرو اسٹیشن آج بھی بند رہے، آر ایس ایس کے غنڈوں کی جانب سے ٹائرمارکیٹ میں مسلمانوں کی دکانوں کو آگ لگانے کی ویڈیو بھی سامنے آگئی۔

اس سے قبل بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں فسادات پر غور کے لیے وزیرداخلہ امیت شاہ کی زیرصدارت اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعلیٰ کیجریوال، پولیس کمشنر، کانگریس، بی جےپی کے رہنماوں سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

دلی کے وزیراعلیٰ کا کہناتھا فیصلہ کیاگیاہےکہ تمام پارٹیزشہرمیں امن کی واپسی یقینی بنائیں گی۔

دلی کےوزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ تشدد روکا جائے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام فریقین شہرمیں امن کی واپسی یقینی بنائیں گے۔

دوسر ی جانب بھارتی دارالحکومت نئی دلی اور شہریت قانون کیخلاف مظاہرے کے دوران فسادات پر دلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔

بھارتی میڈیاکےمطابق ہیومن رائٹس لاء نیٹ ورک کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ دلی فسادات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، ہلاک ہونے والوں کے ورثاء اور متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی کی جائے۔

درخواست میں بعض نمایاں سیاسی شخصیات کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان سیاسی شخصیات نے اپنی نفرت انگیز تقاریر سے عوام کو تشدد پر اکسایا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید