آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

میں صرف اسے سننے گیا تھا کہ آخر کرپشن کی کہانیوں میں حقیقت کتنی ہے اور احتساب میں شفافیت کتنی۔ اس نے بات کرنی شروع کی تو ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ یہ انٹرویو نہیں ہے بس آپ کی معلومات کے لئے ہے لہٰذا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط سمجھ میں آگئی۔

’’اس ملک میں بلاامتیاز احتساب تو محض نعرہ ہے جن کا شروع ہوتا ہے وہ جلد ہی صدر یا وزیراعظم بن جاتے ہیں باقی نوگو ایریا ہے‘‘۔ لو جی اس نے تو بات ہی ختم کردی۔

زمانہ طالب علمی میں وہ بڑے متحرک تھے۔ پی پی پی کی طلبا تنظیم PSFکے صدر بھی رہے اپنے کالج میں مگر بات کرنے سے اندازہ ہوا کہ سیاسی رومانس بھی جاتا رہا۔

شاید جس عہدہ پر فائزہیں اس کا تقاضا بھی یہی ہے… تو پھر احتساب کی کہانی ختم ہی سمجھیں، میں نے تجسس میں سوال کیا۔ ’’مظہر صاحب، قانون میں ایسا جھول چھوڑ دیا جاتا ہے جس کا فائدہ ملزمان کو ہی پہنچتا ہے۔ ابھی تو مشکل سے 20فیصد احتساب کا عمل شروع ہوا کہ NROاور ڈیل کی علامات ظاہر ہونی شروع ہو گئیں ایک طرف سابق حکمران کی فائلیں ادھر، ادھر ہوئیں تو دوسری طرف موجودہ وزارتوں کے معاملات بھی بند ہونے لگے۔

رہی بات کرپشن کی تو اس ملک میں اگر صحیح معنوں میں احتساب ہوتا تو اچھی خاصی نئی نوکریاں سرکاری دفاتر میں آ گئی ہوتیں کیونکہ 50فیصد تو ویسے ہی فارغ کردئیے گئے ہوتے‘‘۔

چونکہ آجکل پوسٹنگ کراچی میں ہے تو سندھ میں کرپشن کی صورت حال پر زیادہ بات ہوئی۔

اس نے انکشاف کیا کہ تقریباً چار سو شکایت میں سے زیادہ تر چھوٹے افسران کے خلاف ہیں۔ تو کیا سندھ میں کرپشن کم ہے، میں نے سوال کیا۔ یار، آپ بھی بادشاہ آدمی ہیں۔ ’’بات اتنی ہے کہ احتساب ہو ہی نہیں پاتا۔ کون سا ادارہ ہے جہاں کرپشن نہیں؟۔

ان افسران اور سیاست دانوں کے اثاثے اور محلات دیکھیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ہم نے سیاست کو کچھ زیادہ ہی بدنام کردیا ہے۔ چار پانچ سو منتخب نمائندوں میں سے بمشکل 30یا 40کے خلاف پورے ملک میں احتساب ہورہا ہے‘‘۔ میں نے سوال کیا۔ ’’بےنامی کا کیا بنا۔

شور تو بہت سنا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ چند ہفتوں نہیں تو مہینوں میں سزا ہو جائے گی۔ اب تحقیقات JITکے پاس ہیں اور ثبوت بہت ہیں مگر وکیل کمزور ہیں۔ ہمارے پاس تو ابھی موصوف کےکچھ 40کے قریب پلاٹوں کی تحقیقات ہے۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے‘‘۔

ایک آدھ وزیر کے خلاف نئی تحقیقات شروع ہوئی ہیں۔ میں نے پوچھا، ’’سندھ کی سابقہ حکومتوں کے معاملات کیا شفاف تھے‘‘۔ اس نے کہا، ’’ہمارے سامنے صرف ایک سابق وزیر اعلیٰ کا کیس ہے‘‘۔ یہ اندازہ کرنا اب مشکل نہیں تھا کہ ملک میں کرپشن کیوں نہیں کم ہورہی ہے۔

خود احتسابی کی بات بھی کی اور احتساب کے نئے قانون کی۔ ’’قانون میں سقم اس لئے بھی چھوڑ دیا جاتا ہے کہ معاملات چلتے رہیں۔ یہ ادارہ جب تشکیل پا رہا تھا تو جلدبازی میں کام کیا گیا۔ اگر آپ ارب پتی یا کھرب پتی لوگوں یا افسران پر ہاتھ ڈال رہے ہیں تو تحقیقات کرنے والوں اور وکیلوں کی فیس بھی لاکھوں میں ہونی چاہئے تاکہ وہ کمزور نہ پڑ جائیں‘‘۔

یہاں تو کئی لوگ دوران ٹریننگ ہی کرپشن میں ملوث پائے گئے مگر فارغ کردئیے گئے۔ پھر ڈیل آڑے آ جاتی ہے۔ ’’تو کیا ہونا چاہئے‘‘، میں نے پوچھا۔ ’’سزائیں سخت ہونی چاہئیں اگر منشیات ناسور ہے اور اس پر انتہائی سزا ہے تو کم سے کم ایسے افسران اور حکمرانوں کو بھی ایسی ہی سزا ملنی چاہئیں۔ البتہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی معاملات کو الگ الگ رکھنا چاہئے۔

تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہماری طرف سے شور مچانا کیس کو خراب کردیتا ہے۔ میں نے اپنے بڑوں کو یہ بات سمجھانے کی بڑی کوشش کی ہے۔ جو افسران بھرتی کئے جائیں انہیں وائٹ کالر کرائم پر مکمل عبور حاصل ہو۔ پچھلے 20برسوں اور خاص طور پر چند سالوں میں جو لوگ نوکری پر آئے اس ادارے میں ان میں خلاف میرٹ خاصے تھے جس کے اثرات اب ظاہر ہورہے ہیں۔

آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے معاملات کو بھی شفاف ہونا چاہئے۔ ایسے سب لوگوں کے فرنٹ مین ہوتے ہیں۔ بار ثبوت صرف ملزم پر ہی نہیں ہونا چاہئے، ثبوت تو ہمارے پاس بھی ہونے چاہئیں اور ثابت کرنا چاہئے‘‘۔ اس نے خاصی باتیں کر ڈالیں۔اس سے ملاقات کے بعد میں باہر آرہا تھا تو کچھ جونیئر افسران بھی ملے جن سے بات کرکے اندازہ ہوا کہ معاملات ہر سطح پر خاصے خراب ہیں۔ کچھ ماہ پہلے بھی یہاں آیا تھا۔

اس وقت کوئی دوسرے افسر تھے جن کا اب تبادلہ ہوگیا ہے۔ میں نے کچھ عرصے پہلے ایک کالم لکھا تھا، ’’اور کرپشن جیت گئی‘‘۔ بلاامتیاز احتساب تو آپ بھول جائیں کم از کم احتساب تو امتیازی نہ ہو۔

یہ ’’نعرہ‘‘ لگانے میں بڑا اچھا لگتا ہے کہ: سب سے پہلے احتساب مجھ سے شروع ہو! مگر جب شروع ہوتا ہے تو قانون ہی تبدیل کردیا جاتا ہے۔ کئی ارب کی ریکوری دیکھنے میں اور سننے میں اچھی لگتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ کھربوں کی کرپشن ہے۔ پورے کا پورا کراچی اس کی نذرہوگیا ہے صرف زمینوں کی بندر بانٹ میں۔

جاتے جاتے تبدیلی سرکار اور کپتان کی بات سنتے جائیں۔ ان کو اندازہ ہی نہیں ہو پارہا کہ ناک کے نیچے کیا ہورہا ہے۔ دوستوں کو بچانے کی کوشش کریں گے تو سوالات آپ پر بھی اٹھ سکتے ہیں۔

خدارا ایسی غلطی نہ کریں۔ کچھ ایسے افسران کو ترقی دے کر اعلیٰ عہدہ دے دیا گیا جن کے خلاف خود آپ کے ماتحت اداروں نے ’’انسانی اسمگلنگ‘‘ کا الزام لگایا اور تحقیقات بھی مکمل کیں۔

تصور کریں جس افسر نے محنت سے ثبوت جمع کئے اس کی ترقی نہ ہوسکی جس کے خلاف تحقیقات ہوئی وہ ترقی پاگیا ۔ ماشاء اللہ اس کا نام حال ہی میں IGسندھ کے لئے بھی تجویز کیا گیا تھا۔

BRTکے معاملے کو تو ایک طرف رہنے دیں مگر جاوید اقبال صاحب نے تو موجود سرکار کے حوالے سے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ ان کے معاملات بعد میں دیکھیں گے۔

تازہ ترین