آپ آف لائن ہیں
جمعرات15؍شعبان المعظم 1441ھ 9؍ اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کراچی: وارداتیں 15072، پولیس کی کوششوں سے مقدمات صرف 307

ایڈیشنل آئی جی کراچی آفس کے پی او میں قائم شدہ وِکٹم سپورٹ یُونٹ روزانہ کی بنیاد پر موبائل فونز اور وہیکلز چھیننے کی وارداتوں کا نشانہ بننے والے شہریوں سے ان کے فراہم کردہ فون نمبرز پر رابطہ کرکے انہیں تھانے آنے کی دعوت دے کر واردات کا مقدمہ درج کرانے کے لیے حوصلہ افزائی اور ایف آئی آر کے اندراج کے لیے ہر طرح کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔

اِس یونٹ کے قیام سے اَب تک کراچی کے شہریوں سے 6506 موبائل فونز چھینے یا چوری کئے جاچکے ہیں۔ وارداتوں کے نشانہ بننے والے شہریوں کے دیئے گئے فون نمبرز پر وکٹم سپورٹ یونٹ کے جانب سے 5668 متاثرہ شہریوں سے رابطہ کیا گیا جبکہ 838 شہریوں کے فون نمبرز پر کال اٹینڈ نہیں کی گئی۔ اس تعداد میں صرف 32 مالکان نے ایف آئی آر کے اندراج پر رضامندی ظاہر کی اور متعلقہ تھانوں کی پولیس نے مقدمات درج کئے۔

اسی طرح 14 اکتوبر 2019 سے 21 فروری 2020 تک 8566 مختلف گاڑیاں چوری یا چھینی گئیں۔ ان وارداتوں کے ٹارگٹ 7079 شہریوں کے دیئے گئے فون نمبرز پر رابطہ کیا جاسکا، 1487 شہریوں نے فون کالز اٹینڈ نہیں کیں جبکہ 275 مالکان کو راضی کرکے فوری طور پر ایف آئی آر کا اندراج عمل میں لایا گیا۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے پیش کردہ رپورٹ کا ازخود جائزہ لیا اور عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ اس قسم کی وارداتوں کی ایف آئی آر فوری طور پر رپورٹ کرائیں تاکہ ان جرائم پیشہ افراد کو قرار واقعی سزا دِلوائی جاسکے۔

انہوں نے کہا ہے کہ عوام کے تعاون کے بغیر پولیس اِن ملزمان کو ان کے انجام تک نہیں پہنچا سکتی۔

قومی خبریں سے مزید