آپ آف لائن ہیں
منگل6؍شعبان المعظم 1441ھ 31؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

انجینئر سیّد حماد حسین

وہ آواز بھی کیا آواز تھی !جسے سنتے ہوئے ایک سحر طاری ہوجاتاتھا ۔ وقت گویا تھم جاتا تھا ، اس آواز کی مٹھاس ، بیان کی چاشنی ، انداز کی دل کشی ، ترنم کی دل آویزی ، لہجے کی سادگی ، زبان کی روانی ، الفاظ کی آسانی و فراوانی ہر ہر خوبی سننے والے کو پوری طرح اپنی گرفت میں رکھتی تھی ، ہر بات کانوں سے سیدھا دل میں اترتی اور نقش ہوجاتی تھی ۔ کوئی موضوع ہوتا ،یوں محسوس ہوتا کہ بیان کرنے والے کے دما غ میں علم وعرفان کا دریا بہہ رہاہے۔ چار چار پانچ پانچ گھنٹے گزر جاتے تھے ، نہ سنانے والا تھکتا تھا، نہ ہی سننے والے کو کسی اکتاہٹ کا گمان گزرتا ۔ کبھی رُلادینا ، کبھی ہنسا دینا اور کبھی ایسا محو کردینا کہ الفاظ کی حقیقت مجسم ہوجائے اور سننے والا جلووں میں کھوجائے ۔ یہ مختصر سی جھلک ہے اس شخصیت کی شعلہ نوائی کی جس نے تقریباً چالیس برس تک مسلسل شب وروز نگری نگری قریہ قریہ اپنے آقائے نام دار ،حبیب مختار ،مدنی تاج دار ، محبوب پر وردگار حضور نبی کریم ﷺ کی محبت و عظمت ، ان کے دین کی حقیقت اور راہِ نجات کی ہدایت کے چراغ لوگوں کے سینوں میں روشن کیے اور حق سے وابستگی کو پختہ کیا ۔ وہ خدا مست حق پرست اسی مبارک نصب العین کے لیے اپنی تمام توانائیاں وقف کیے جہاں بھر کا گشت کرتے رہے، جو رحمت ربّانی اور فیضِ محبوبِ سبحانی سے ان کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے تھا ۔ اس راہ میں انہیں تھکن کا احساس کبھی نہیں ہوا ۔ مصائب و آلام اور آزمائشوں نے انہیں مصلحت پسندی نہیں سکھائی ، وہ نگہ بلند کیے ، پُرسوز جذبے لیے اپنے دل نواز سخن کے موتی بکھیرتے رہے ۔ وہ درویشی و فقیری کی قبا اوڑھے اپنے عزم صمیم کی تکمیل کے لیے اخلاص اور سچائی کے ساتھ ہر دم رواں دواں رہے۔وہ استقامت و استقلال کی ناقابل تسخیر چٹان تھے ۔ مختصر مدت میں انہوں نے وہ مثالی کارہائے نمایاں انجام دئیے کہ انہیں مجدد ِمسلک اہل سنت کا خطاب ملا۔وہ خطیب اعظم پاکستان کہلائے۔ ذکر رسول ﷺ اور مدحت نبی ﷺ ہی سے انہیں شغف تھا ،وہ اپنے محبوب کملی والے آ قا ﷺکی تعریف و توصیف ہی کے حوالے سے جانے پہچانے جاتے تھے،یہی ان کا اعزاز اور یہی ان کا امتیاز تھا۔

اقلیمِ خطابت کے تاج دار ،عاشقِ رسولؐ ،محبِ صحابہؓ و آلِ بتولؓ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی ؒ برسوں پہلے ماہ رجب کی 21 تاریخ(1404 ھ)کو اذانِ فجر کے بعد اپنے آقا و مولی کے حضور درود و سلام کا قدسی نغمہ محبت و عقیدت سے پیش کرتے ہوے راہی ٔ جناں ہوئے،اپنے پیچھے وہ اپنی نیک نامی ،بیش بہا عمدہ خدمات،صدقۂ جاریہ کی مثالی یادگاریں ،گراں قدر تصانیف،سیکڑوں موضوعات پر اپنی سحربیانیاں ،نیک اولاد ،قابل تلامذہ اور لاکھوں مریدو عقیدت مند اور اپنی شخصیت و عظمت کے گہرے نقش اور اچھی نیک یادیں چھوڑ گئے جو انہیں ہر دم اہلِ ایمان کے دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ وہ خود کہا کرتے تھے ’’ مَیں مر کر بھی نہیں مروں گا کیوں کہ میں ان کا نام لیوا ہوں جن کی ذات اس کائنات کی تخلیق کا سبب ہے ، جن کی شان محبوبی کا جلوہ دکھانے کے لیے بزم محشر سجائی جائے گی ، جن کا نام ہر درد کی دوا ہے ، میرا ایمان ہے کہ جسے ان سے عشق ہوجائے اور جو ان کا ہوجائے وہ لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے ، ایک عالم سے دوسرے عالم میں منتقل ہوتا ہے وہ ہرگز نہیں مرتا ، دل اسے یاد رکھتے ہیں ، زبانیں اس کا ذکر کرتی ہیں ‘‘ ۔ وہ کہتے تھے کہ ’’ بسنا چاہتے ہو تو میرے نبی ﷺ کو دل میں بسالو ، دوام چاہتے ہو تو باقی رہنے والے اللہ کے حبیب ﷺ کی محبت دوامی کرلو جس کو یہ نعمت مل جائے اسے موت بھی نہیں مارتی ،بلکہ وہ زندگی عطا کرتی ہے جو قابل رشک ہے ۔ ‘‘

انسان کی کام یابی اسی میں ہے کہ وہ اپنی تخلیق کے مقصد کو پہچان کر اسی سمت بڑھے اور وہ نصب العین اختیار کرے جو نجات کا ضامن ہو۔مولانا اوکاڑویؒنے اپنی ظاہری زندگی کے مہ و سال مدحت ِ رسول ﷺ میں گزارے ، وہ اپنے تعارف میں بھی ممتاز تھے اور اپنی تعریف و توصیف کے لحاظ سے بھی ایسے سرفراز ہوئے کہ ہر اہلِ ایمان کے لیے محبوب و محترم ٹھہرے ۔

مولانا محمد شفیع اوکاڑوی عرب شیوخ کے اس یمنی خاندان کے فرد تھے جو امیر المؤمنین سیدنا صدیق اکبر ؓ کی کو ششو ں سے حلقۂ بگوشِ اسلام ہوا تھا ،اس خاندان کے لوگوں کا ذریعۂ معاش تجارت تھا اور تجارت کے لیے سفر کرتے ہوئے اس خاندان کے کچھ افراد سر زمین ہند میں آبسے تھے۔غیر منقسم ہندوستان کے قلعہ نما شہر کھیم کرن میں مولانا اوکاڑوی ؒ کے آباؤ اجداد نے سکونت اختیار کی اور اپنی نیک نفسی اور درویشی کے سبب اس علاقے میں اس خاندان کوعزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اس خاندان کے ایک بزرگ شیخ اللہ دتا کا قلب ایسا جاری تھا کہ قریب بیٹھا ہو اشخص بھی اسمِ الہٰی کی آواز سنتا تھا ،کہا جاتا ہے کہ نیند کی حالت میں بھی ان کے قلب کا ذکر جاری رہتا تھا ۔ مولانا اوکاڑوی کے والد ماجد شیخ میا ں کرم الہٰی سلسلہ ٔعالیہ نقش بندیہ کے مشہور و ممتاز بزرگ شیرربانی حضرت میاں شیر محمد شرق پوری ؒ سے وابستہ تھے ۔حضرت شیر ربانیؒ نے مولانا اوکاڑوی ؒ کی ولادت سے ایک برس پہلے ہی ان کے والد کو مولانااوکاڑوی کی ولادت اور علوِ مرتبت کی بشارت دے دی تھی ۔میاں کرم الہٰی نے اپنے فرزند کی ولادت سے قبل خوا ب دیکھا کہ آسمان سے چمکتا ہوا چاند ان کی آغوش میں آیا اور ہر سمت اس کی روشنی پھیلی ۔کھیم کرن شہر میں حافظ کرم الہٰی صاحب نامی ایک نابینا بزرگ تھے ۔علاقے کے تمام مسلمان گھرانوں کے بچے اور بڑے ان سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ وہ بصارت سے تومحروم تھے، مگر بصیر ت کا یہ حال تھا کہ مکتب میں موجود ہر بچے پر ان کی نظر ہوتی تھی یہاں تک کہ کوئی بچہ پڑھتے ہوئے خاموش ہوجاتا تو اسی کانام لے کر وہ پکارتے اور کہتے کہ تمہاری آوازنہیں آرہی ۔کھیم کرن کی جس مسجد میں حافظ کرم الہٰی صاحب کا مکتب تھا ،اس میں نمازیوں کے استعمال کے لئے پانی کا کنواں تھا ،وہ آدھی رات کے وقت اس کنویں سے ڈول (بالٹیاں)نکال کر ٹنکی بھر دیتے تاکہ فجر میں آنے والے نمازیوں کو سہولت رہے۔ نمازی حیران ہوتے کہ یہ کام کون کرتا ہے۔حافظ کرم الہٰی صاحب میاں کرم الہٰی کے استاد بھی تھے اور دوست بھی ، میاں کرم الہٰی نے ان سے اپنے خواب بیان کئے تو حافظ کرم الہٰی صاحب نے تعبیر یہ بتائی کہ اللہ تعالیٰ ایسا بیٹا دے گا جس سے دین کی روشنی ہر طرف پھیلے گی اور خلق کو ہدایت و فائدہ پہنچے گا ۔2 رمضا ن المبارک 1348ھ کو عصرکی اذان ہوئی ، میاں کرم الہی کھیم کرن شہر کی بمبلوں والی مسجد میں نماز ادا کرنے گئے اور ان کے ہاں وہ مبارک بیٹا تولد ہوا جس کی حضرت شیر ربّانی نے بشارت دی تھی ۔ مسجد میں عصر کی نماز ختم ہوئی تو گھر سے کسی نے جاکر فوراً ولادت کی خبر سنادی ، مسجد میں خوشی سے تکبیر و رسالت کے نعرے گونجے ، حافظ کرم الٰہی نے آکر نومولود کے کانوں میں درود و سلام کے ساتھ اذان و تکبیر کہی ۔ میاںکرم الہٰی نے اپنے بزرگوں کی ترغیب پراپنے پہلے فرزند کانام محمدشفیع رکھا ۔قدرت نے مولانا اوکاڑوی کو ہر حسن سے خوب نوازا تھا،آواز میں بلا کی کشش اور سوز تھا ۔

۱۹۴۹ء سے مولانا اوکاڑوی کی با قاعدہ شب وروز خطابت کا آغاز ہوا اور ۱۹۸۴ء تک یہ عالمی اعزاز صرف مولانا اوکاڑوی ہی کاحصہ ہے کہ انہوں نے اٹھارہ ہزار سے زائد تقاریر کیں جن سے بے شمار افراد کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہوئی اور جانے کتنے افراد نے ان کی تقاریر سے متاثر ہوکر خود کو دین کے لیے وقف کیا ۔ ان کی تقریر کا یہ خاصہ تھا کہ جو سنتا اسے مضمون یاد ہوجاتا ،چناں چہ یہ واضح حقیقت ہے کہ ان کی تقاریر سن کر بے شمار افراد خود مقرر بن گئے اور ان ہی کے انداز میں تقریر کرکے مقبول ہوئے ۔ بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مولانا اوکاڑوی خطابت کے شہنشاہ تھے اور اپنے اندازکے موجدوامام تھے۔ وہ انداز جسے سیکڑوں نے اپناکر کام یابی حاصل کی اور شہرت و عزت حاصل کی ۔ مولانا اوکاڑوی جس قدر عوام و خواص میں مقبول و محترم تھے اسی قدر اپنے خاندان کے ہر فرد کے نزدیک بھی قابل تعظیم اور مکرم تھے ۔ یہ ان کے اخلاص نیت ، صدق دلی اور کام یابی کی واضح دلیل ہے ۔

مولانا اوکاڑوی کہا کرتے تھے کہ ’’ مَیں تقریر شروع کرنے سے پہلے خود کو بارگاہِ نبوی ﷺ میں پیش کرکے فیض و کرم کا طالب ہوتا ہوں ، اور میرا ایمان ہے کہ وہیں سے فیضان آتا ہے جو سامعین کو بھی پہنچتا ہے ۔ ‘‘ انہیں سننے والے بار بار سنتے تھے اور ہر بار کیف و سرور پاتے تھے ، آواز و انداز اور لہجہ و بیان کی خوبیاں اپنی جگہ خوب تھیں مگر مولانا اوکاڑوی کا سامعین پر اس قدر اثر انداز ہونا بلاشبہ خصوصی فیضان ہی تھا ۔ انہیں اپنے محبوب ومطلوب رحمۃ للعالمین آقا ﷺ سے والہا نہ عشق اور خاص نسبت و تعلق تھااور وہ احادیث و ارشادات صرف سامعین کو متاثر کرنے کیلئے نہیں سناتے تھے بلکہ خود ان کا اپنا احوال یہ تھا کہ وہ ہر طرح اس سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے جوکسی ایمان والے کو اللہ کا مقرب اور بارگاہِ محمدی ﷺ کا محبوب بناتا ہے۔ان کی وضع قطع ، گفتارو کردار اور اخلاق وعادات اور صورت و سیرت میں عشق نبوی ﷺ کی جھلک نمایاں نظر آتی تھی ۔دیکھنے والوں نے انہیں دیکھا کہ وہ جب کبھی دیارِ حبیب ﷺ مدینہ منورہ جاتے تو حرمِ نبوی ؐ شریف میں ان کی آ نکھیں نم ہوتیں وہ حضور ﷺ کے قدموں میں ہچکیاں بھرتے ثنا خوانی اور درود وسلام میں مشغول نظرآتے۔اہلِ سنت کی طرف سے ماہِ محرم میں دس روزہ مجالس انہی کی یادگارہیں ۔شب عاشورہ میں وہ واقعات ِ کربلابیان کرتے ۔کراچی کے باشندے یہ حقیقت ہر گز فراموش نہیں کرسکتے کہ مولانا اوکاڑوی کے خطاب کی اس مجلس میںلاکھوں کا اجتماع ہوتا ۔شبِ عاشورہ کا وہ بیان اب بھی ہر سال محرم میں ہر سمت گونجتا ہے۔انہوں نے چار کتابیں اہلِ بیت ِ رسول ﷺ کی عظمت و شان اور احوال میںلکھیں ۔

۱۹۵۳ء میں تحریکِ ختمِ نبوت کے سلسلے میں مولانا اوکاڑوی کا کردار تاریخ کے صفحات پر زر یں نقش ہے۔انہیں پورے ضلع منٹگمری کا(امیر )مقرر کیا گیا تھا ۔ مولانا اوکاڑوی کی شعلہ نوائی نے پورے علاقے میں ہر مسلمان کو ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے سربکف مجاہد بنادیا ۔ تحریک کے مطالبات یہ تھے کہ رسول کریم حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں ،ان کے بعد کسی ظلّی و بروزی نبی کا تصور ہی ممکن نہیں ،مرزا احمد قادیانی بلاشبہ مرتد و کافر ہے اس کے ماننے والے اور پیروکار سب پاکستان کے قانون میں غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جائیں ۔

وہ ہر ایک مسلمان کو اپنے نبی ﷺ کا سچا دیوانہ بنانے کی دھن میں تھے ۔ 1956 ء میں انہوں نے جماعت ِ اہلِ سنت پاکستان کی بنیادرکھی ،وہی اس کے بانی اور امیرِ اول تھے ۔اس وقت تک مولانا اوکاڑوی کی کئی تصا نیف شائع ہوچکی تھیں ۔ جن میں نمایاں یہ تھیں ۔ذکرِ جمیل۔ راہِ حق۔ ذکرِ حسینؓ ۔ انہوں نے کراچی آکر شبانہ جلسوں کا سلسلہ شروع کیا ، روزانہ کسی نہ کسی علاقے میں ان کا خطاب ہونے لگا ۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس کا سلسلہ بھی جاری کیا ۔ سیدنا غوثِ اعظم ؒکی یاد میں گیارہ روزہ مجالس کا بھی آغاز ہوا ۔ کراچی کے در و بام بھی ذکر رسول ﷺ سے گونجنے لگے ۔ مولانا اوکاڑوی کا انداز خطابت ایسا دل کش تھا کہ لوگ انہیں بہت شوق سے سننے لگے ۔ ان کے ہر خطاب کی مجلس میں اجتماع قابل دید ہوتا ۔ مولانا اوکاڑویؒ نے میمن مسجد میں روزانہ درسِ قرآن وحدیث کا سلسلہ بھی شروع کیا ۔

1972 ء میں مولانا اوکاڑوی ؒ نے سولجر بازار کے علاقے میںایک سو بیس برس سے مسجد کے لئے وقف ایک قطعہ زمین پر جامع مسجد گل زارِ حبیب ﷺ کی خشتِ اول سے تعمیر شروع کی اور نمازِ جمعہ وہاں پڑھانے لگے۔قریباً اٹھائیس برس کی خطابت میں مختلف مساجد میں سورۂ فاتحہ سے سورۂ توبہ تک نو قرآنی پاروں کی تفسیر بیان کی ۔ قرآن فہمی کا ذوق رکھنے والے مولانا اوکاڑوی کے درس قرآن میں بہت تسکین پاتے ۔وہ بلاشبہ ملت کے محسن تھے، وہ اپنی ذات میں ایک جہاں تھے۔قدرت نے انہیں بہت نوازا تھااور انہوں نے قدرت کی نوازشات کی قدر کی اور خود کو ہر طرح ان کااہل ثابت کیا۔

مولانا اوکاڑوی وہ واحد خطیب تھے جنہیں پاکستان کے ہربڑے چھوٹے شہر ، گاؤں وغیرہ میں خطاب کے لیے مدعو کیا گیا ۔ مولانا اوکاڑوی شہرت کے لحاظ سے ایسے خوش نصیب تھے کہ ان کی ذات ان کے اساتذہ و مشائخ کی شہرت و عزت کا سبب بنی اور وہ دین و ملت کے لیے اپنے وطن کے لیے قابل صد فخر ثابت ہوئے ۔

مولانا کے استاد امام اہلِ سنت علامہ سید سعید احمد سعید کاظمیؒ نے اپنے قابل قدر شاگرد کے لیے اپنی تحریر میں کہا کہ ’’ مولانا اوکاڑوی کو اللہ تعالیٰ نے فن تقریر و خطابت میں وہ بلند مقام عطا فرمایا جس پر دنیا رشک کرتی تھی بلکہ حسد تک نوبت پہنچ گئی اور اس میں شک نہیں کہ مولانا اوکاڑوی ’’ محسود الاقران ‘‘ تھے ۔ مولانا اوکاڑوی کو قدرت نے جہاں صورت و سیرت کے حسن سے خوب نوازا وہاں انہیں بڑی پُرکشش اور سحر آفریں آواز بھی عطا کی تھی ۔ دوران تقریر ترنم سے وہ مثنوی مولانا روم ، دیوان جامی ، کلام اعلیٰ حضرت بریلوی ، کلیات اقبال وغیرہ سے منتخب اشعار پڑھتے تو سامعین پر وجد و حال طاری ہوجاتا اور مجمع سے پُرجوش نعرہ ہائے تحسین بلند ہوتے ۔ وہ اپنی تقریر دلائل حقّہ سے آراستہ رکھتے اپنے مخالفوں کا رد بھی شائستگی سے کرتے اور کبھی دل آزاری یا دل شکنی کی روش نہ اپناتے ۔

ان سے ملنے والا ہر شخص ان سے اپنے تعلق خاطر کے اظہار میں خوشی محسوس کرتا ۔ وہ امیروں ، رئیسوں میں نہیں ، غریب اور دین داروں کے ساتھ بیٹھنے میں تسکین پاتے ۔ انہوں نے قومی اسمبلی و مجلسِ شوریٰ کی رکنیت کے دورانیے میںیا ا س کے علاوہ حکومت سے کسی قسم کی مراعات حاصل نہیں کیں ۔حسنِ معاملہ میں ہر لمحے احتیاط ان کے دامن گیر رہتی ۔وہ اپنے پاس آنے والے ہر ضرور ت مند کی داد رسی کرتے ۔غرباء و مساکین کی امداد ان کاتمام عمرو تیرہ رہا ۔

بیماری کے باوجود وہ ان تھک محنت کرتے رہے ۔ وہی کٹھن سفر اور گھنٹوں شعلہ بیانی ، وہی تحقیق و تحریر کے مشاغل ہر دم جاری رہے ۔ اس عرصے میں انہوں نے کتنے ہی مثالی بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دئیے ۔تمام تنظیمی تعلیمی تبلیغی تدریسی امور ، سنی تبلیغی مشن سب بیک وقت جاری رکھے ۔وہ کام کے دھنی تھے۔ امن و آشتی ، صلح و اخوت اور راستی ان کا مسلک و پیغام تھا ۔ ہر سمت ان کی آواز گونج رہی تھی ، چہار سمت ان کی پذیرائی ہورہی تھی۔

1984ء میں رجب کا مہینہ شروع ہوا،خطیبِ اعظم پاکستان سخت بیمار تھے۔معالجین آرام کی تاکید کررہے تھے، مگر آپ ہمہ جاں اپنے کام میں مشغول تھے۔20 رجب کو وہ جامع مسجد گل زارِ حبیب ﷺ میں اپنی زندگی کا آخری جمعہ پڑھا رہے تھے۔ اپنی روانگی کا اعلان کرچکے تھے ۔اسی شام انہیں تیسری مرتبہ دل کا تیسرا دورہ پڑا وہ اسپتال لے جائے گے۔تین دن اسپتال میں وہ انتہا ئی نگہداشت کے کمرے میں رہے ۔20 رجب 1404ھ کو انہوں نے اپنی امانتیں اپنے بڑے بیٹے کے سپر د کردی تھیں، 21رجب 1404ھ کی صبح فجر کی اذان سن کر انہوں نے درودوسلام کے الفاظ کہتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ اپنے خالقِ حقیقی کے حضور پیش کردیا ( اِنَّا لِلَّہ وَ اِنَّا اِلَیْہِ راجِعُوْن ) ۔ ان کی زندگی کی ابتدا درود و سلام کی سماعت سے ہوئی تھی ، ان کا آخری کلام جو سناگیا وہ بھی درود و سلام ہی کے کلمات تھے ۔ 22 رجب کو ان کے جنازے کے ساتھ رواں لاکھوں افراد بھی درود و سلام کی صدائیں بلند کررہے تھے ،اسی سہ پہر انہیں گل زارِ حبیب ﷺ کے احاطے میں جب لحد میں رکھا گیا، اس وقت بھی درود و سلام کا وجد آفریں نغمہ گونج رہا تھا ۔ اللہ کریم کے وہ مقرب ، اپنے پیارے نبی ﷺ کے وہ دیوانے جنہیں خلقت نے مجدد مسلک ِ اہلِ سنّت اور خطیب ِ اعظم پاکستان ، عاشقِ رسول ﷺ کے القاب دیئے ، کتنے خوش نصیب تھے کہ انہوں نے اپنا نفس نفس ، رواں رواں اس عظیم نصب العین کے لیے وقف رکھا جس پر قدسی بھی انہیں مرحبا کہتے ہوں گے اور خلد بریں میں رحمتوں نے ان کو اپنے جلو میں لیا ہوگا ۔ وہ تمام عمر عشق نبی ﷺ کی سرشاری میں وہ دولت کماتے رہے جو آج ان کے مرقد کو فروزاں اور ان کی یاد کو اہل ایمان کے قلوب میں تاباں رکھے ہوئے ہے ۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

اقراء سے مزید