آپ آف لائن ہیں
پیر12؍ذی الحج 1441ھ 3 اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

توراکینہ قاضی

’’مجھے معلوم ہے‘‘یا ’’مجھے معلوم نہیں‘‘آج کے بیش تر نوجوان ان تین الفاظ دوران گفتگو کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور ایسا زیادہ تر اپنی علمیت کا اعلان کرنے یا رعب ڈالنے کے لیے کیا جاتا ہے۔’’مجھے معلوم نہیں‘‘ کسی بات کو ٹالنے یا باوجود علمیت کے انکسار و ظرف کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہچکچاہٹ اور گھبراہٹ کا بھی اس میں دخل ہوتا ہے۔ اکثر لوگ بکثرت استعمال ہونے والے ان دو جملوں کو موقع محل کے مطابق استعمال نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو نا صرف دوسروں کے سامنے خفت اُٹھانی پڑتی ہے بلکہ لوگوں کی رائے بھی ان کے بارے میں خراب ہو جا تی ہے۔

پہلے’’مجھے معلوم ہے‘‘ پر بات کرتے ہیں جیسا کہ اوپر بتایا گیا، ان تین الفاظ کو زیادہ تر اپنی علمیت کا رعب ڈالنے یا پھر کسی غیر دل چسپ اور بور موضوع گفتگو کو بدلنے یا ٹالنے یا کسی چیز کے بارے میں لمبی بات کرنے سے بچنے کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔ اپنی علمیت کے زعم میں ہماری ایک سہیلی یہ جملہ’’ مجھے معلوم ہے‘‘ کثرت سے کہنے کی عادی تھی۔ بات چاہے کسی بھی موضوع، کسی بھی چیز کے بارے میں ہو رہی ہوتی ، اس کے منہ سے خود کارانہ انداز میں ’’مجھے معلوم ہے‘‘نکلتا۔ایک مرتبہ کسی دوست نے اپنے گھرعید کے اگلے دن ضیافت کا انتظام کیاگیا، جس میں مذکورہ سہیلی بھی مدعو تھی ۔ 

اس موقع پر خاتون خانہ نے ہمیں بجلی سے چلنے والی ایک مشین دِکھائی ، جو دِکھنے میں ’’بوائلر‘‘ معلوم ہوتی تھی۔’’یہ مشین میں نےخاص طور پر فرانس سے منگوائی ہے۔‘‘ انہوں نے ہمیں بتایا ۔ ’’کیا تم بتا سکتی ہو کہ یہ کس کام آتی ہے؟‘‘’’ہاں مجھے معلوم ہے‘‘ ہماری سہیلی جھٹ بول اُٹھی، یہ بوائلر ہے اس میں گوشت بھونا جاتا ہے۔خاتون خانہ یک دم ہنس دیں۔انہوں نے ہمیں بتایا کہ’’ یہ بوائلر نہیں، کوئی اور چیز ہے۔‘‘انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ مشین کس طرح کام کرتی اور کس طرح اس میں سوئس سینڈوچ تیار کیے جاتے ہیں۔ان کی اس وضاحت کے دوران ہماری سہیلی کے چہرے پر عجیب قسم کےتاثرات پھیلے ہوئے تھے۔ معاملہ کوئی اہم یا غیر معمولی قسم کا واقعہ نہ تھا لیکن ا س کے بعد ہماری سہیلی نے ’’مجھے معلوم ہے‘‘ کہنا ترک کر دیا۔

ایک امریکی ماہر نفسیات بینجمن ہیوٹ کا کہنا ہے کہ ’’مجھے معلوم ہے‘‘ کا استعمال بند ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے لوگوں میں خود اظہاریت کا فقدان یا کمی ہوتی ہے۔ اس کے بر عکس ، جو لوگ ’’مجھے معلوم نہیں‘‘ کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں، وہ تخیلاتی پن پر آمادگی اور عملاً تخلیقی ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس جملہ کو استعمال کرنے والے لوگ اپنی علمیت کو بہت کم یا بالکل ظاہر نہیں کرتے ۔ یوں دوسروں کی باتیں سن سن کر اپنے ذخیرۂ علم یا معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔بڑے بڑے مشہور عالم و فاضل افراد اور سائنس دانوں نے بھی کبھی عقل کُل ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ معروف حکیم و مفکر بو علی سینا نے ایک موقع پر کہا تھا کہ،’’ہم کسی بھی چیز کو مکمل طور پر جاننے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔‘‘

ایک مرتبہ ہمیں ایک ایسی محفل میں جانے کاموقع ملا جہاں گھریلو دست کاریوں، کپڑوں، جوتوںکی قیمتوں اور مہنگائی وغیرہ پر بحث ہو رہی تھی، وہاں ایک ایسی لڑکی بھی موجود تھی ، جو بلا تکان اس موضوع پر گفتگو کر سکتی تھی، مگر حیرت انگیز طور پروہ خاموش بیٹھی رہی۔ محفل کے اختتام پر ہم نے اس سے پوچھا کہ ، ’’آپ تو اس موضوع پر بہ خوبی گفتگو کر لیتی ہیں۔پھر خاموش کیوں بیٹھی رہیں؟‘‘انہوں نے جواب دیا ’’میں دست کاریوں، کپڑوں ، جوتوں ، مہنگائی وغیرہ پر ضرور گفتگو کر سکتی ہوں، لیکن سیاست کے بارے میں ، میں کچھ نہیں جانتی ۔ اس میٹنگ کا مقصد خواتین کے حقوق کی ایک کمیٹی بنانااور اس کی چیئر پرسن کاانتخاب تھا اور ظاہر ہے، یہ سیاسی معلومات ہیں، جن کے بارے میں میری معلومات صفر ہیں۔ اس لیے میں وہاں خاموش رہی۔‘‘اس کے بعد اس لڑکی نے سیاست کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنی شروع کیں اور دو سال بعد وہ حقو ق نسواں کی اس کمیٹی کی چیئر پرسن بن گئی۔

کسی بھی چیز کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمیں اپنے آپ سے ’’مجھے اس کے بارے میںاچھی طرح سے جانناچاہیے‘‘اور دوسروں سے ’’مجھے معلوم نہیں ‘‘ کہنا چاہیے۔لیکن خیال رہے ’’مجھے معلوم نہیں‘‘ کا عادتاً استعمال بھی مناسب نہیں۔

اس سلسلے میں چند اصولوں سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

اپنے یقین و اعتماد کو بڑھایئے

ہم ایک ایسی اسّی سالہ خاتون کو جانتے ہیں، جنہیں چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ وہ امریکا کی ایک یونیورسٹی میںپروفیسر رہ چکی ہیں، انہیںپانچ زبانوں پر عبور حاصل ہے،دوران گفتگو وہ کئی محاورے، اصطلاحات اور نت نئے الفاظ استعمال کرتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی وہ ’’مجھے معلوم ہے‘‘ یا ’’میں جانتی ہوں ‘‘ جیسے جملے استعمال نہیں کرتیں۔باتوں کے دوران ایک مرتبہ انہوں نے بتایا تھا کہ ، جب تک انہیں کسی بات کا مکمل طور پر علم نہیں ہوتا ، وہ اس پر بات کرنے سے احتراز کرتیں ، اس پر معلومات حاصل کرنے کے لیے کتابوں کا سہارا لیتی اور اپنی معلومات مکمل کر لیتی ہیں۔

تعصب کو جھٹک دیجئے اور چھوٹی باتوں پر کان نہ دھریئے

کچھ عرصہ گزراہمارے محلے میں ایک شخص رہا کرتا تھا، جو پرلے درجے کا سرد مہراور بد دماغ مشہور تھا۔ اس سے کوئی ملنا جلنا پسند نہیں کرتا ،وہ شخص بھی خود کو لیے دیے رکھتا تھا۔ ایک دن محلے کے ایک شخص کا ایکسیڈینٹ ہوگیا اور وہ کئی روز تک اسپتال میں داخل رہے، جب وہ صحت یاب ہو کر گھر آئے، تو انہوں نے سب کو بتا یا کہ ، سرد مہر شخص باقاعدگی سے ان کی مزاج پر سی کے لیے اسپتا ل آتا تھا۔سب لوگ یہ جان کر اپنی رائے پر پشیمان ہوئے اور اس سےمعذرت کر لی۔

اپنے خول میں سمٹے ہوئے لوگوں کو باہر نکالیے

موقع شناسی اور ہوشیاری بہترین تیکنیک ہے۔دوسروں کے کے مقابلےزیادہ علم رکھنے اور اس کااظہار کرنےسے آپ شرمیلے، اپنے آپ میں سمٹے اور سکڑے رہنے والے لوگوں کو اور بھی محدود کر دیں گے۔یا د رکھیے! اس طرح آپ اپنی علمی قابلیت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اپنی کم ظرفی کا ثبوت دیتے ہیں، کیوں کہ پھل دار درخت ہمیشہ جھکا ہوا ہوتا ہے۔

اپنے اذہان کھولیے اور انہیں نئے مناظر اور تصورات دیجیے

جہاں تک ہماری اپنی علمیت اور معلومات کا تعلق ہے، تو ہم صرف اپنے ملک کے بارے میں کچھ نہ کچھ گفتگو کر سکتے ہیں۔ اس کے پہاڑ، جھیلیں، پھلوںکے باغات، سڑکیںمشہور عمارات اور بازار وغیرہ۔لیکن کچھ دن پہلے معروف ماہر نفسیات انٹوائن گیلی کی کتاب ’’ذہنی قوتوں کی بالیدگی‘‘پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جس نے مجھے یہ بات سمجھائی کہ محض تھوڑی سی علمیت پر قناعت کرکے بیٹھے رہنا درست نہیں ہے۔ اپنے ذہن کو سمٹائے رکھنے کے بجائے اس میں کشادگی پیدا کرنی چاہیےاور اسے ہر نوع کی ’’نت نئی‘‘ معلومات و مناظر و تصورات کے لیے پوری طرح کھول دینا چاہیے۔