آپ آف لائن ہیں
ہفتہ یکم صفرالمظفر 1442ھ19؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

73 سالہ خاتون کی موٹر سائیکل پر شمالی علاقہ جات کی سیاحت

دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کی وادیوں، ندی نالوں، آسماں کو چُھوتے درختوں ، سحر انگیز جھیلوں، بَل کھاتے دریائوں اور آب شاروں پر محیط پاکستان کے شمالی علاقے ہمیشہ ہی سے مناظرِ فطرت کے قدردانوں اور سیّاحوں کے لیے کشش کا باعث رہے ہیں، لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں ان جنّت نظیر وادیوں نے جس طرح سیّاحت کے دِل دادہ افراد کو اپنی جانب کھینچا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایک اندازے کے مطابق، گزشتہ سال 73لاکھ سے زائد مُلکی اور غیرمُلکی سیّاحوں نے ان علاقوں کا رُخ کیا۔ یہ مہم جُو اپنی گاڑیوں، بسز، موٹر سائیکلز، گھوڑوں،خچروں یا پھر پیدل پُرخطر وادیوں اور جسم میں جُھرجُھری پیدا کر دینے والی گھاٹیوں تک پہنچے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ موٹر سائیکلز پر سیّاحت کرنے والوں کی تعداد بھی 10ہزار سے تجاوز کر گئی۔ گلگت، بلتستان، چترال، ہنزہ، اسکردو، ناران، کاغان اور خیبر پختون خوا کے مختلف علاقوں کا رُخ کرنے والوں میں اگرچہ ہر عُمر اور صِنف کے افراد شامل ہیں، لیکن لاہور کی ایک متوسّط درجے کی بستی، سیدن شاہ کے مکین 38سالہ قدیر گیلانی اور اُن کی 73سالہ والدہ، کبریٰ بی بی کا شمار اُن منفرد سیّاحوں میں کیا جا سکتا ہے، جنہوں نے ماں، بیٹے کے بے مثال رشتے کے حوالے ہی سے نہیں، عُمر کے اعتبار سے بھی سیّاحت کی دنیا میں ایک دِل چسپ باب کا اضافہ کیا۔

قدیر گیلانی ایک نجی ادارے سے فلاور مینجمنٹ کے ماہر کی حیثیت سے وابستہ ہیں۔ اُنھوں نے ایک سوال پر بتایا’’ 1989ء میں میرے والد صاحب، نذیر گیلانی کا انتقال ہوا، تو ہمارا گھرانہ مشکلات کا شکار ہو کر عملاً سڑک پر آ گیا۔ ہم 7بھائی اور 2بہنیں ہیں۔اُس وقت صرف بڑی بہن کی شادی ہوئی تھی۔ میری عُمر 9سال، جب کہ سب سے چھوٹا بھائی 2سال کا تھا۔ اِن حالات میں ہماری والدہ نے جس طرح دن رات گھروں میں کام کرکے ہمیں پالا پوسا، وہ عزم و ہمّت اور ایثار و قربانی کی ایک نہ بھولنے والی داستان ہے۔ گردشِ ایّام کا یہ سلسلہ ایک دو سال نہیں، پورے20 سال چلتا رہا۔ پھر جب ہم بھائی برسرِ روزگار ہوئے، تو ہماری زندگی کے کھوئے رنگ واپس آنے لگے۔ ان دو دہائیوں میں والدہ نے محلّے سے باہر قدم نہ رکھا۔ اب بھائیوں اور بہنوں کی شادیاں ہو چُکی ہیں۔ والدہ ماشااللہ 30پوتے پوتیوں اور پڑپوتوں کی رونقوں کے ساتھ خوش گوار زندگی گزار رہی ہیں۔ ہمارا جوائنٹ فیملی سسٹم ہے اور گو کہ گھر چھوٹا ہے، لیکن دِل سب کے بڑے ہیں۔‘‘

زندگی کا حَسین موڑ

’’ شمالی علاقوں کی موٹر سائیکل پر مہم جوئی کا خیال کیسے آیا؟‘‘ اِس سوال پر اُن کا کہنا تھا’’ ویسے تو مَیں میٹرک کے بعد سے ہر سال دوستوں کے ساتھ شمالی علاقوں میں جاتا تھا۔ موٹر سائیکل پر سیّاحت تو میری گُھٹّی میں تھی، لیکن والدہ کے ساتھ بائکنگ ایک نیا تجربہ تھا۔ یہ 2017ء کی بات ہے، ایک شام ہم ماں، بیٹا ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اسکرین پر شمالی علاقوں کے بارے میں ایک ڈاکیومینٹری چل رہی تھی اور جھیل سیف الملوک کا حَسین منظر سامنے تھا۔ والدہ نے اُسے دیکھا، تو حسرت سے بولیں’’مَیں نے ابھی تک یہ خُوب صُورت جگہ نہیں دیکھی، شاید زندگی میں ایسا ممکن بھی نہیں‘‘۔ وہ جھیل کے سحر میں کھوئی ہوئی تھیں۔ مَیں نے کہا’’ماں جی! اس میں ایسی کون سی ناممکن والی بات ہے۔ ایک ہفتے بعد عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز وہاں چلیں گے۔‘‘ بہرحال، ہم نے پروگرام بنا لیا۔ 

یہ تین دن کا ٹور تھا۔ ہم راہوالی پہنچے، تو موٹر سائیکل سلپ ہو گئی اور ہم دونوں کو چوٹیں آئیں۔ مَیں نے سفر ملتوی کر کے واپس جانے کا کہا، تو والدہ نے واپس جانے سے انکار کر دیا اور کہا’’ اب تو آگے ہی جائیں گے۔‘‘ یہ سُن کر میرا بھی حوصلہ بڑھ گیا۔ ہم وہاں سے صبح 2بجے روانہ ہوئے۔ جی ٹی روڈ پر مظفر آباد سے ہوتے ہوئے بالا کوٹ پہنچے، وہاں تک پہنچنے میں تقریباً گیارہ، بارہ گھنٹے لگے۔ رات میرے سسرال میں ٹھہرے۔ اگلی صبح ناران کے لیے روانہ ہوئے اور جھیل سیف الملوک پہنچ گئے۔ یوں جو حسرت والدہ کے دل میں پیدا ہوئی تھی، وہ اب مجسّم حقیقت بن کر سامنے تھی۔ یوں لگتا تھا، جیسے جنّت زمین پر اُتر آئی ہے۔ والدہ نے جھیل دیکھ کر جی بھر کر اللہ تعالیٰ کی تعریف کی۔ پھر ہم جلکھڑکی طرف نکل گئے، جہاں دوپہر کا کھانا کھایا۔ یہ وہ جگہ ہے، جہاں سے ایک راستہ کشمیر کی وادیٔ نیلم کی طرف نکلتا ہے۔ سو، ہم نے وادیٔ نیلم جانے کا پروگرام بنا لیا۔ اس راستے کو دشوار گزار ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگ اختیار کرتے ہیں اور خواتین کے ساتھ بائیک پر تو کوئی نہیں جاتا۔ یہیں’’ نوری ٹاپ‘‘واقع ہے، جو اپنے قدرتی حُسن کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں جا بجا نوکیلے پتھر ہیں اور زمین کی ساخت عجیب و غریب ہے۔ وہاں سے وادیٔ نیلم کے مقام، شاردہ پہنچے۔ 

شام کے سات بجے تھے اور ہمیں بالا کوٹ سے نکلے 13گھنٹے ہو چُکے تھے۔ یہ ستمبر کا مہینہ تھا اور موسم بہت خوش گوار تھا۔ رات ہم نے شاردہ ہی کے ایک ہوٹل میں گزاری۔ دوسرے روز مظفرآباد اور مَری سے ہوتے ہوئے 14,13گھنٹے میں لاہور پہنچ گئے۔ یوں ہم نے موٹر سائیکل پر مجموعی طور پر 2200کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ جب مَیں نے اس سفر کی پوسٹ سوشل میڈیا پر شئیر کی، تو اکثر لوگ یقین کرنے کو تیار نہ تھے کہ ایک 73سالہ خاتون موٹر سائیکل پر اتنا طویل سفر کیسے طے کر سکتی ہیں؟ لیکن ہماری تصاویر اور ہم سے ملاقات کرنے والے لوگ گواہی کے لیے موجود تھے۔ میرا یہ سفر آگے چل کر بائیکرز کلب، سیّاحتی کمیونٹی اور میرے قدر دانوں کے حوالے سے ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔ ہمارے اس پہلے سفر پر مجموعی طور پر 5ہزار روپے خرچ ہوئے، جب کہ سوزوکی 150سی سی موٹر سائیکل مَیں نے اپنے ایک دوست، ریحان سے ادھار لی تھی۔ بعد ازاں، میرے ایک قدر دان، جمیل صاحب نے، جو آسٹریلیا میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہیں، اس کارنامے پر مجھے ایک نئی موٹر سائیکل گفٹ کی۔‘‘

قدیر گیلانی کا دوسرا سفر 2018ء کے ماہِ رمضان المبارک میں ہوا، جو 24دنوں پر محیط تھا۔ یہ بھی شمالی علاقوں کا ٹور تھا، لیکن راستے قدرے مختلف تھے۔ ماں، بیٹا موٹر سائیکل پر لاہور سے کالام پہنچے۔ پھر کمراٹ ویلی، چترال، شندور، پھنڈر ویلی، نلتر ویلی، گلگت، ہنزہ، نگر سے ہوتے ہوئے پاکستان اور چین کے بارڈر پر پہنچ گئے۔ یہ پاکستان کے شمالی علاقوں کا آخری مقام ہے، جہاں کوہِ ہمالیہ کے برف پوش پہاڑوں کا سلسلہ دِکھائی دیتا ہے۔ واپسی پر اُنہوں نے استور اور دیوسائی دیکھا۔ اس دَوران اُنہوں نے دنیا کے تینوں عظیم پہاڑی سلسلوں میں موٹرسائیکل پر سفر کیا۔ ماں، بیٹے نے مجموعی طور پر 4800کلو میٹر کا پُرخطر سفر طے کیا۔ اس مہم جوئی پر 40ہزار روپے صَرف ہوئے اور اسے اُن کے دوست، جمیل نے اسپانسر کیا۔ اس حوالے سے قدیر گیلانی نے بتایا’’ اس لمبے ٹور کے دَوران ہمیں رہائش کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا کہ روانگی سے پہلے سوشل میڈیا پر اپنے چاہنے والوں کو مطلع کر دیا تھا۔ 

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جہاں گئے، دوست استقبال کے لیے ہار لیے کھڑے تھے۔ ہم پورے کے پی کے، گلگت اور بلتستان میں کسی ہوٹل میں نہیں ٹھہرے۔‘‘ اس سفر کے دوران اُنہیں بعض انتہائی کٹھن اور خطرناک راستوں سے بھی گزرنا پڑا، بالخصوص شندور کے بعد 170کلو میٹر لمبا جیپ ٹریک بونی سے پھنڈر ویلی تک پھیلا ہوا ہے، جسے عبور کر کے جانا پڑتا ہے۔ پتھروں اور عجیب قسم کی مٹّی پر مشتمل یہ علاقہ آمد و رفت کے لیے موزوں نہیں۔ قدیر نے بتایا’’آپ کو یہ سُن کر حیرت ہو گی کہ ہم نے جتنے بھی سفر کیے، ہماری موٹر سائیکل کبھی پنکچر نہیں ہوئی۔تاہم، ہمارے پاس پنکچر کٹ، ہیلمٹ کے علاوہ مکمل سیفٹی کٹ ہوتی ہے۔ موٹر سائیکل کے ٹائر ٹیوب لیس ہوتے ہیں، ہم کپڑوں کے صرف تین، تین جوڑے ساتھ رکھتے ہیں، کیوں کہ زیادہ سامان رکھنا نادانی ہے۔‘‘

2019ء کے سفر

قدیر گیلانی اور اُن کی والدہ کے لیے 2019ء مصروف ترین سال ثابت ہوا کہ اس سال اُنہوں نے کئی سفر کیے۔ پہلا ٹور رمضان المبارک میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کا تھا۔ وہ مکین، رزمک، لدھا، میران شاہ، میر علی سے ہوتے ہوئے بنّوں پہنچے۔ یہ موٹر سائیکل پر کسی بھی سیّاح ماں، بیٹے کا وزیرستان کا پہلا سفر تھا۔ لوگوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ پھر بنّوں سے کوہاٹ، پشاور، نوشہرہ، سوات، چترال اور شندور سے ہوتے ہوئے یاسین ویلی، گلگت اور اسکردو گئے۔ بعدازاں گیاری سیکٹر پہنچے، جو 13ہزار فِٹ کی بلندی پر واقع ہے اور بہت دشوار گزار ہے۔ پھر ہوشے ویلیج پہنچے، جو قراقرم کی برفانی رینج میں پاکستان کا آخری گائوں ہے۔ 

یہاں سے سیاچن گلیشیرز کا آغاز ہوتا ہے۔ گیاری، ہوشے، اولڈنگز وہ آخری مقامات ہیں، جہاں برفانی گلیشیرز کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے اور پہاڑ بھی برف میں ملبوس نظر آتے ہیں۔ ستمبر 2019ء میں اُنہوں نے ایک اور ٹور کیا۔اس بار اُن کے ساتھ ماں کے علاوہ ایک اور لیڈی بائیکر، یمنا وڑائچ اور دو بائیکر دوست، کاشف اور مصطفیٰ بھی تھے۔ وہ لاہور سے مانسہرہ، بالاکوٹ، بابوسر ٹاپ، چلاس اور استور ویلی سے ہوتے ہوئے منی مرگ پہنچے۔’’ دومیل‘‘ اس علاقے کا آخری گائوں ہے۔ واپسی پر منی مرگ اور چھوٹا دیوسائی سے ہوتے ہوئے بڑا دیوسائی گئے۔ وہاں سے مرتضیٰ ٹاپ کا قصد کیا، جو ایک سخت چڑھائی والا راستہ تھا۔ مرتضیٰ ٹاپ پر بہت کم لوگ جاتے ہیں اور کسی خاتون کا وہاں تک موٹر سائیکل پر جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیوں کہ 16، 17ہزار فِٹ کی بلندی پر واقع یہ علاقہ انتہائی دشوار گزار ہے۔ 

لوگ عام طور وہاں پیدل ہی جاتے ہیں، لیکن قدیر گیلانی اور اُن کی والدہ کے عزم نے یہ فاصلہ بھی موٹر سائیکل پر طے کر لیا۔ 2019ء کے دسمبر میں اُن کا ایک 10روزہ ٹور لاہور سے بہاول پور، چولستان اور کراچی کا تھا۔ اُنہوں نے بہاول پور کے محلّات، چولستان کے قلعے اور صحرا دیکھے۔ واپسی پر حیدرآباد، گھوٹکی اور دوسرے علاقے دیکھے۔ اُنھوں نے لاہور سے کراچی تک کا یہ سفر جی ٹی روڈ سے کیا اور چوں کہ سوشل میڈیا پر پہلے ہی اپنے دوستوں کو اطلاع کر چُکے تھے، اس لیے راستے میں اُن سے بھی ملتے ملاتے رہے۔ دونوں ماں، بیٹا اب بلوچستان کے سفر کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

گزشتہ ڈھائی تین سال کے دوران قدیر گیلانی اور اُن کی والدہ موٹر سائیکل پر شمالی علاقوں، شمالی اور جنوبی وزیرستان اور سندھ کے کئی مقامات کی سیر کر چُکے ہیں۔ قدیر گیلانی نے میٹرک کے بعد سے اب تک موٹر سائیکل پر اکیلے اور والدہ کے ساتھ جو سفر کیا ہے، وہ مجموعی طور پر دو لاکھ کلومیٹر بنتا ہے، جب کہ اُن کی والدہ کا سفر تقریباً 20ہزار کلومیٹر پر محیط ہے۔ اب دنیا بھر کی بائیکرز کمیونٹی اُنھیں جانتی ہے اور ان کے سفر کو فالو کرتی ہے۔ سیّاحتی حلقے ان کی والدہ کی بہادری کے معترف ہیں۔ اُنہیں یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ پاکستان میں تینوں پہاڑی سلسلوں ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے دامن میں آباد بیش تر مقامات دیکھ چُکے ہیں۔

قدیر گیلانی نے کہا ’’ویسے تو مَیں نے اُن تمام مقامات کا ذکر کر دیا ہے، جہاں جہاں ہم گئے، تاہم ان میں کالاش وادی، گرم چشمہ، گول نیشنل پارک چترال، قاقشلٹ میڈوز، ہنزہ ویلی، نگر ویلی، خنجراب پاس، راما میڈوز، کالا پانی ویلی، شنگریلا، خپلو ویلی، گیاری سیکٹر، منٹھو کا اور خامش آب شار، بینجوسا، تولی پیر، بلوچ بیٹھک، کٹاس راج وغیرہ کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔‘‘ 73سالہ کبریٰ بی بی سادگی کا مجسمہ ہیں۔ اُنہیں دیکھ کر یہ گمان بھی نہیں گزرتا کہ وہ موٹر سائیکل پر پاکستان کا ایک بڑا حصّہ گھوم چُکی ہیں۔اُنہوں نے صرف جھیل سیف الملوک دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن بیٹے نے نہ صرف اُن کی یہ خواہش پوری کی، بلکہ شمالی علاقوں میں واقع مزید 10، 12جھیلیں بھی دِکھا دیں،جنہیں دیکھ کر اس قدر خُوب صُورت کائنات کو تخلیق کرنے والے پر اُن کا ایمان مزید پختہ ہوگیا۔ 

وہ کہتی ہیں’’ان جھیلوں کے شفّاف، گہرے نیلگوں پانیوں میں جب سر بفلک پہاڑوں کا عکس نظر آتا ہے، تو انسان اُن کے سحر میں گم ہو جاتا ہے۔‘‘ قدیر گیلانی کہتے ہیں’’ جب والدہ کئی ہزار فِٹ بلندی پر واقع ان خُوب صُورت اور قدرت کی شاہ کار دیو مالائی کہانیوں سے منسوب جھیلوں کے مسحور کن نظاروں میں کھوئی ہوتی ہیں، تو مَیں اُن کی گود میں سَر رکھ کر پتھروں ہی پر لیٹ جاتا ہوں۔ دنیا کی نفسا نفسی، افراتفری اور ماحولیاتی آلودگی سے کوسوں دُور یہ ایک ایسا سحر انگیز، پاکیزہ اور صاف شفّاف ماحول ہوتا ہے، جس کا کوئی مول ہی نہیں۔‘‘اُن کا کہنا ہے کہ’’ موٹر سائیکل پر والدہ کے ساتھ اس مہم جوئی کا ایک مقصد تو ظاہر ہے، والدہ کی خواہشات کی تکمیل ہے، دوسرا دنیا کو یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک پُرامن اور خُوب صُورت مُلک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مُلک کو ایسے ایسے حَسین مقامات سے نوازا ہے کہ اُنہیں دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔‘‘

صحت کا راز

ہم نے 73سالہ کبریٰ بی بی سے پوچھا’’ اس عُمر میں جب کہ خواتین کی اکثریت جوڑوں کے درد اور دیگر بیماریوں کا شکار ہوتی ہیں، آپ شمالی علاقوں کا دشوار گزار سفر کیسے کر لیتی ہیں؟‘‘ تو اُنہوں بتایا’’ عُمر سادہ غذا کھاتے گزری ہے۔ بیکری کی اشیاء سے دُور رہتی ہوں اور کبھی سَردرد کی گولی بھی نہیں کھائی،تاہم اچھی صحت کا اصل راز شاید یہ ہے کہ ہمارا پورا گھرانہ عام کالی چائے کا قہوہ پیتا ہے۔ ہم اس میں دودھ نہیں ڈالتے۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ہم پر اللہ کا کرم ہے۔ ساری زندگی محنت کی ہے، کسی کا دِل نہیں دُکھایا اور ہر حالت میں خوش رہنا سیکھا ہے۔‘‘