آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سدرہ علی

 جیولری کے استعمال سےچہرے کے ساتھ لباس کی خوبصورتی بھی دوچند ہو جاتی ہے۔ خواتین میں جیولری کا انتخاب وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ ایک وقت تھا جب چاندی اور سونے کے جیولری کا استعمال بہت عام ہوتا تھا۔ چاندی کے بھاری بھاری سیٹ، بالوں کے کلپ، ہاتھ پنچ انگلا، رانی ہار، پازیب، کنگن پہنے جاتے تھے لیکن اب چاندی اور سونے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد شادی کی تقریبات میں مصنوعی جیولری کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ 

دور حاضر میں مغلیہ دور کے روایتی جیولری کا رحجان پھر سے لوٹتا نظر آرہا ہے۔ مصنوعی جیولری کا عام فائدہ یہ ہے کہ ا س کی بدولت عام طبقے کی خواتین بھی جیولری کا شوق پورا کر سکتی ہیں اور اب تو شادی کے جوڑے کے ساتھ بھی مصنوعی میچنگ جیولری ہی استعمال ہوتی ہے ۔آج کل ڈیزائنز جیولری کا رواج قائم ہو گیاہے، جس طرح مہنگے مہنگے ڈیزائنز سوٹ کا فیشن ہے اُسی طرح ڈیزائنز بیگز، جوتے اور جیولری بھی بہت عام ہوتے جارہے ہیں۔

ہر خاتون ایک دوسرے سے منفرد نظرآنے کے چکر میں لگی ہوئی ہے اسی لیےیہ ٹرینڈ اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے ،گرچہ ڈیزائنز جیولری مصنوعی جیولری کے مقابلے میں بہت مہنگی ہے لیکن اب یہ فیشن میں ہیں تو خواتین خریدتی بھی ہیں، کیوں کہ شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ یہ بات تو طے ہے کہ جیولری کے بغیر عورت کی شخصیت میں نکھار پیدا نہیں ہوتا، چاہے آپ ڈیزائنر جیولری خریدیں یا مصنوعی ان کی انفرادیت اور جدّت کا خاص خیال رکھیں ، ڈیزائن بھی ایسا منتخب کریں جوہر دور میں نیا لگے، کیوں کہ انہیں کا استعمال ہر دور میں عروج پر رہا ہے آج جب کہ جیولری نے جدید ترین شکل اختیار کرلی ہے تو یہ لکڑی، پتھر، رنگوں اور ہر قسم کی دھاتوں میں بھی دستیاب ہیں، اگر ہم زمانہ قدیم پر نظر ڈالیں تو اُس وقت بھی خواتین مصنوعی جیولری کا استعمال بہت زیادہ کرتی تھیں،آج بھی اس میں کمی نہیں آئی۔