آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ذیقعد 1441ھ4؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کی ستر سالہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے اوراس کی بہادر اور باضمیر ترین شخصیات کو کھوجا جائے تو ہمیں کوئی بہت لمبی فہرست نہیں ملتی۔ ہمارے مرد اور خواتین میں ایسے بہت کم گزرے ہیں جن میں بالادست بیانیے کو للکارنے کا حوصلہ ہو اور جنہوں نے ایسا کیا وہ اپنی جان ہتھیلی پر لیے گھومتے رہے۔

ایسی فہرست چاہے جتنی بھی مختصر ہو اس میں ہمیں کم از کم سات خواتین ضرور نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ سب سے پہلی خاتون جن کا نام ذہن میں آتا ہے وہ تھیں محترمہ فاطمہ جناح۔ یہاں ہم دو قومی نظریے کی افادیت یا نقصان پر بات نہیں کررہے بل کہ صرف اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ بابائے قوم محمد علی جناح کے شانہ بہ شانہ محترمہ فاطمہ جناح ہی تھیں جنہوں نے اپنے بھائی کے مقصد حیات پر خود اپنی زندگی بھی نچھاور کردی۔ بدقسمتی سے تحریک پاکستان میں فاطمہ جناح کے کردار کا اتنا اعتراف نہیں کیا گیا، جس کی وہ مستحق تھیں۔

خود ساختہ فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کی آمریت کے دور میں سیاست دانوں کی ایک پوری کھیپ کو سیاسی منظر نامے سے غائب کردیا گیا تھا۔ جنرل ایوب خان کو اس میں کوئی عار محسوس نہیں ہوا تھا کہ اس نے عظیم سیاسی شخصیات جیسے حسین شہید سہروردی اور عبدالغفار جیسے لوگوں کو سیاست بدر کردیا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو پاکستان کو ایک جمہوری ملک بنانا چاہتے تھے جو جنرل ایوب کے لیے قابل قبول نہ تھا۔

جنرل ایوب خان نے پاکستان کو سیاسی اور دانش ورنہ سطح پر بنجر بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور ایسے میں محترمہ فاطمہ جناح ہی تھیں جنہوں نے عزم و حوصلے سے آمر کو للکارا تھا۔

1960 کے عشرے کے وسط تک فاطمہ جناح ستر سال سے زیادہ کی عمر کو پہنچ چکی تھیں، مگر اس بزرگی میں بھی انہوں نے جمہوری کاز کے حصول کے لیے قدم پیچھے نہیں ہٹائے۔ انہوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے طوفانی دورے کیے اور درجنوں میل لمبے جلوسوں کی قیادت کی جن میں وہ لوگ شامل ہوتے تھے جو پاکستان میں جمہوریت دیکھنا چاہتے تھے۔

اس دوران جنرل ایوب خان کے فطری اتحادی سول اور فوجی افسر شاہی کے عہدے دار ہی تھے اور سیاست دانوں میں خود ذوالفقار علی بھٹو آمر کے دست راست تھے۔ جنرل ایوب خان کو آج تک کچھ لوگ ’’روشن خیال آمر‘‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں بتاتے کہ فاطمہ جناح کے خلاف مذہب کو استعمال کرنے میں ان کی آمریت پیش پیش تھی۔

پاکستان کے عوام نے جنرل ایوب خان کو مسترد کردیا، مگر انہوں نے 1965 میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کرکے صدارتی انتخابات میں فاطمہ جناح کو ہرادیا، مگر اس سے فاطمہ جناح کی عزت اور مرتبے میں مزید اضافہ ہوا اور آج بھی انہیں جمہوریت پسند لوگ ایک عظیم خاتون رہ نما کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔

ان کے بعد عاصمہ جہانگیر کا نمبر آتا ہے جو ابھی بیس سال کی بھی نہیں ہوئی تھیں کہ انہوں نے ایک اور آمر جنرل یحییٰ خان کے خلاف بغاوت کا علم اٹھالیا تھا۔ انہوں نے یہ علم اپنے والد سے حاصل کیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر اور ان کے خاندان کو پاکستان میں یہ منفرد امتیاز حاصل ہے کہ انہوں نے جنرل ایوب اور یحییٰ سے لے کر جنرل ضیا اور مشرف تک چاروں آمروں کو للکارا۔ صرف یہی نہیں بلکہ عاصمہ جہانگیر وہ خاتون تھیں جنہوں نے انسانی حقوق، اقلیتوں، سیاست دانوں اور خواتین کے مقدمات ہر سطح پر لڑے۔

عاصمہ جہانگیر میں وہ عزم و حوصلہ تھا کہ وہ پاکستان کی مقدس گایوں سے بھی نہیں ڈرتی تھیں اور عدلیہ کے ساتھ فوج کو بھی نہیں بخشتی تھیں۔ خواتین محاذ عمل یا ویمن ایکشن فورم (WAF) سے لے کر انسانی حقوق کے کمیشن یعنی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) تک انہوں نے اپنی جدوجہد سے انمنٹ نقوش چھوڑے ہیں اور اُن کے نقش قدم پاکستان میں آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گے۔ جنرل ضیاالحق کی تاریک اور سفاک آمریت کے دور میں عاصمہ جہانگیر نے اُن امتیازی قوانین کے خلاف آواز اٹھائی جو اسلامی نظام کے نام پر ملک پر مسلط کیے جارہے تھے۔

عاصمہ جہانگیر نے پوری زندگی غریب اور مظلوم طبقات کا دفاع کیا۔ چاہے وہ ریپ کا شکار ہونے والی نابینا صفیہ بی بی کا مقدمہ ہو یا کراچی میں بے گناہ مارے جانے والے نقیب اللہ محسود کے لیے دھرنا، عاصمہ جہانگیر ہر جگہ پیش پیش تھیں۔

ان کے بعد بھٹو خاندان کی خواتین محترمہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو آتی ہیں جو اس ملک و قوم کے لیے باعث افتخار ہیں۔ غالباً پاکستان میں کوئی اور ماں بیٹی یہ دعویٰ نہیں کرسکتیں کہ ان کے خاندان کے تمام مرد جھوٹے مقدمات میں الجھائے گئے، جیل میں ڈالے گئے، تشدد کا شکار ہوئے، عدالتی طور پر قتل کیے گئے یا پھر سڑکوں پر موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ یہ تمام رنج و الم برداشت کرتے ہوئے دونوں بھٹو خواتین خود بھی قید میں رہیں اور تشدد کا نشانہ بھی بنیں۔

بے نظیر بھٹو سے پہلے یہ نصرت بھٹو ہی تھیں جنہوں نے جنرل ضیاالحق کی آمریت کو للکارا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کے تقریباً تمام مرد دوست ان کا ساتھ چھوڑ چکے تھے نصرت بھٹو نے ہی پیپلزپارٹی کی قیادت کی۔ اس تاریک دور میں بھی انہوں نے جمہوریت کی شمع کو بجھنے نہیں دیا۔ 1980 ءکے اوائل میں تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی کے دوران میں نصرت بھٹو پارٹی سربراہ کی حیثیت سے قیادت کرتی رہیں۔

نصرت بھٹو کی جگہ کوئی اور خاتون ہوتی تو اپنے شوہر کے ساتھ ملک سے فرار کو ترجیح دیتی، مگر انہوں نے اپنے شوہر کی موت کے بعد بھی جدوجہد جاری رکھی یاد رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اپنی شہادت کے وقت صرف اکیاون برس کے تھے۔ بالآخر نصرت بھٹو کے دو جواں سال بیٹوں کی موت نے ان کے اعصاب توڑ دیے اور جذباتی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر ٹوٹ پھوٹ گئیں اور اپنے آخری برس بڑی اذیت میں گزارے۔

بے نظیر بھٹو نے اپنی سیاسی زندگی میں ان تھک جدوجہد کی اور اپریل 1986 ءمیں لاہور میں ایک طویل جلوس کی قیادت سے لے کر میثاق جمہوریت تک ان کے جمہوری خواب باقی رہے انہوں نے خود کو ایک مضبوط ترین عورت ثابت کیا۔

اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ایک انتہائی قابل احترام مدبر بن کر ابھری تھیں جنہیں بین الاقوامی طور پر عزت سے دیکھا جاتا تھا اور ملکی سطح پر عوام ان سے محبت کرتے تھے۔ بے نظیر بھٹو کا یہ منفرد کرشمہ تھا کہ وہ نہ صرف اپنے سامعین کو جلسوں اور کانفرنسوں میں مسحور کردیتی تھیں بل کہ عام کارکنوں اور دوستوں کے گھروں میں بھی ذاتی طور پر جاکر ان کا حال احوال پوچھتی تھیں۔ یہ بات ان کے شدید دشمن اور مخالف صحافی بھی مانتے ہیں کہ وہ ایک باحوصلہ اور پرعزم خاتون تھیں۔

وہ جنرل پرویز مشرف کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی تھیں اور غالباً اسی لیے انہیں 2007 میں صرف چون سال کی عمر میں شہید کردیا گیا۔

پروین رحمان پاکستان کی غالباً پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اراضی کے قبضے گروپ کے خلاف جدوجہد کی۔ ایک اعلیٰ ترین انجینئرنگ کالج سے گریجویشن کے بعد وہ ایک کام یاب اور خوش حال پیشہ ورانہ زندگی گزار سکتی تھیں، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

اس کے بجائے انہوں نے اورنگی پائلٹ پروجیکٹ میں کراچی کے غریب علاقوں میں کام کو ترجیح دی۔ 1980 ءکے عشرے میں کراچی لسانی فسادات کی آگ میں جل رہا تھا ،مگر پروین رحمان نے تین عشروں تک قبضہ مافیا کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھی۔ انہیں 2013 ءمیں صرف چھپن سال کی عمر میں شہید کردیا گیا۔

سبین محمود کو اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ بضد تھیں کہ پاکستان کے عوام کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جائے جہاں تمام موضوعات گفت گو ہوسکے چاہے، ان موضوعات سے فرقہ ورانہ تنظیمیں ناراض ہو یا پھر اسٹیبلشمنٹ، سبین محمود کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھیں۔ انہوں نے معاشرے کی تاریکی پسند اور جمہوریت دشمن قوتوں کے خلاف جدوجہد کی۔ جب گمشدہ افراد کے لیے ماما قدیر لانگ مارچ کررہے تھے تو اُن کی حمایت کرنے والے بہت کم تھے اور نہ ہی کوئی انہیں بولنے کے لیے جگہ دینے پر تیار تھا۔ ایسے میں سبین محمود آگے بڑھی تھیں۔ جب لال مسجد پر جنونیوں کا قبضہ ہواتھا،اُس وقت بھی سبین محمودنےاس کے خلاف بھی آواز اٹھائی تھی۔ سبین محمود کو صرف چالیس سال کی عمر میں شہید کردیا گیا۔

ہماری فہرست میں آخری نام ملالہ یوسف زئی کا ہے جو اتنی کم عمر ہونے کے باوجود عزم و ہمت کا پیکر ہیں۔ انہوں نے بچپن میں ہی سوات میں طالبان کے ظالمانہ قبضے کے خلاف آواز اٹھائی اور لڑکیوں کی تعلیم کا علم بلند کیا۔ انہوں نے طالبان کے فتوے ہوا میں اڑا دیئے اور اپنے خطوط، مضامین، انٹرویو اور دیگر تحریروں کے ذریعے بین الاقوامی میڈیا کی نظر میں بھی آگئیں۔ پندرہ سال کی عمر تک وہ پاکستان کی خواتین کی آواز بن گئیں، جس کی پاداش میں انہیں 2012 ءمیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ خوش قسمتی سے وہ بچ گئیں اور 2014 ءمیں امن کا نوبیل انعام جیت کر دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔

وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ کی کم ترین نوبیل انعام یافتہ شخصیت بن گئیں۔

ان ساتوں خواتین میں کچھ باتیں مشترک ہیں گو کہ ملک میں باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں لیکن ایسے بہت کم ہیں جو بالادست بیانیے کو لکار سکیں۔ اگر ہم پاکستان کو سات عشروں پر محیط تاریخ کو دو برابر حصوں میں تقسیم کریں تو پہلے حصے میں یعنی 1944 سے 1982 تک ہمیں صرف فاطمہ جناح، عاصمہ جہانگیر ارو نصرت بھٹو نظر آتی ہیں۔

دوسرے نصرف میں ہمیں عاصمہ جہانگیر کے علاوہ بے نظیر بھٹو، پروین اور سبین ملتی ہیں جن کے ساتھ ملالہ کھڑی ہیں۔

یہ تمام خواتین اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ انہوں نے بڑی مخالفتوں کے سامنے سر اٹھایا اور خود اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالا، مگر اپنی للکار کو برقرار رکھا۔ انہیں بار بار نشانہ بنایا گیا دھمکیاں دی گئیں مگر وہ ثابت قدم رہیں۔ یہ خواتین عوام کے ساتھ منسلک رہیں اور سڑکوں پر آنے سے کبھی نہ گھبرائیں۔ ان کے عزم و ہمت نے ان تمام لوگوں کو شرمندہ کیا ہے جو حالات بدلنے پر خود کو بچاتے ہوئے بالادستوں کے ساتھ مل جاتے ہیں ان میں سیاست دان بھی شامل ہیں سول اور فوجی افسر شاہی کے لوگ بھی اور سول سوسائٹی کے مفاد پرست بھی۔

جب بھی پاکستان میں امن پسند لوگوں کی جیت ہوگی ہماری تاریخ کی درسی کتابوں میں ان خواتین کے بارے میں ابواب شامل ہوں گے نہ کہ ان جنگ جوئوں کے بارے میں جن سے آج ہماری کتابیں پُر ہیں۔