آپ آف لائن ہیں
بدھ11؍ شوال المکرم 1441ھ3؍جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’آٹزم‘ ہر متاثرہ فرد کا رویہ، صلاحیتیں، کمزوریاں الگ ہوسکی ہیں

دُنیا بَھر میں ہرسال2اپریل کو ’’ورلڈ آٹزم اوئیرنیس ڈے‘‘ منایا جاتا ہے،جس کا آغاز 2008ء میں اقوامِ متحدہ نے کثرتِ رائے سے ایک قرار داد منظور کرکے کیا۔ یہ دِن منانے کا مقصد آٹزم سے متعلق معلومات عام کرنا، آٹسٹک افراد سے اظہارِ یک جہتی اور اُن مسائل و مشکلات پر روشنی ڈالنا ہے، جن سے آٹسٹک اور ان سے متعلقہ افراد روزمرّہ کی بنیاد پر نبرد آزما ہوتے ہیں۔چوں کہ اس وقت دُنیا بَھر میں صحت کے حوالے سے آٹزم ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے،اس لیےمعاشرے میں بیداری اور مثبت طرز ِعمل پیدا کرنے کے لیے مختلف آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے، تاکہ عوام النّاس تک ضروری معلومات بہم پہنچائی جاسکیں۔

آٹزم ایک پیچیدہ اور نامکمل دماغی حالت کا نام ہے، جس کی کوئی ایک قسم نہیں، بلکہ یہ مختلف دماغی حالتوں کا مجموعہ ہے، جس میں سماجی رابطے کا فقدان، بار بار دہرائے جانے والا مختلف رویّہ، بات چیت نہ کرنا، الفاظ یا بنا الفاظ دوسروں سے بامعنی رابط نہ کرنا وغیرہ شامل ہے۔ آٹزم کی کئی اقسام اس لیے ہیں کہ اس مرض سے متاثر ہر بچّے کا رویّہ، صلاحیتیں اور کم زوریاں الگ الگ ہوتی ہیں۔ آٹسٹک بچّے کس طرح اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھتے، سمجھتے، سیکھتے ہیں اور اس کے مطابق رویّہ اختیار کرتے ہیں، یہ اُن کی ذہنی حالت پر منحصر ہے، جوایک دوسرے سےمختلف ہوتی ہے۔ ان بچّوں میں اعلیٰ صلاحیتیں اور قابلیت رکھنے والوںسے لے کر ایسے بچّے بھی شامل ہوتےہیں، جو شدید ذہنی اور جسمانی مسائل سے دوچار ہیں۔ 

بعض آٹسٹک بچّے زندگی گزارنے کے لیےمکمل طور پر اپنے والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں پہ انحصار کرتے ہیں،جب کہ بعض خود انحصاری کے بہترین معیار تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔تاہم،ان کی شرح خاصی کم ہے۔ آٹسٹک افراد کی ذہنی حالت مختلف کیوں ہوتی ہے، یہ اس اور پر منحصر ہے کہ آٹزم نے دماغ کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔2013ء میں امریکن سائیکائیٹرک ایسوسی ایشن(American Psychiatric Association)نے آٹزم کی مختلف اقسام کو ایک نام دیا، جسے طبّی اصطلاح میں"Autism Spectrum Disorder" کہا جاتا ہے۔ آٹسٹک بچّے عام بچّوں کی طرح صحت مند اور خُوب صُورت دکھائی دیتے ہیں، مگر مرض کی علامات کی وجہ سے ان کا رویّہ،انہیں دیگر بچّوں سے مختلف بنادیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آٹزم سے متاثر ہونے کا ایک بنیادی سبب دماغ کی بناوٹ یا اس کی کارکردگی نارمل نہ ہونا ہے،کیوں کہ اس مرض کےشکار بچّوں کا دماغ، عام بچّے کی نسبت بناوٹ اور حجم میں مختلف ہوتا ہے، جس کا ایم آر آئی یا سی ٹی اسکین ہی سے پتا چل سکتا ہے۔نیز،موروثی اور ماحولیاتی اثرات بھی دماغ اور اس کی کارکردگی نارمل نہ ہونے کی وجہ ہو سکتے ہیں۔تاہم،زیادہ تر کیسز میں موروثیت ہی وجہ بنتی ہے، اگر اس کے ساتھ ماحولیاتی اثرات بھی شامل ہوجائیں۔ واضح رہے،پچھلی دو دہائیوں سےمحققین اس کھوج میں تھے کہ کہیں بچّے کی پیدایش کے بعد دی جانے والی ویکسین تو آٹزم کا سبب نہیں بن رہی؟بہرحال، اب یہ تو ثابت ہوچُکا ہے کہ آٹزم سے متاثر ہونے میں ویکسین کا کوئی عمل دخل نہیں ۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر والدین اپنے آٹسٹک بچّوں کے حوالے سے بہت حسّاس ہوجاتے ہیں اور یہ حقیقت تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں کہ ان کے بچّے کو کوئی ذہنی مسئلہ درپیش ہے،لہٰذا بجائے اس کے کہ اپنے بچّے کے مختلف رویّے کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ کہہ کر پردہ پوشی کی جائے کہ ’’یہ تو ابھی بہت چھوٹا ہے، اس لیے ایسا کر رہا ہے‘‘ اپنے بچّے کی حرکات و سکنات اور عمومی رویّے پر نظر رکھیں، عمومی نشوونما اور آٹزم سے متعلق کتب کا مطالعہ کریں،تاکہ ان سے بچّے کا موازنہ کرکے کوئی نتیجہ اخذ کیا جاسکے ۔ اگر بچّے کا کوئی عمل آٹزم کی علامات ظاہر کررہا ہو، تو جلد از جلد ماہرین سےرابطہ کرکے درست تشخیص کروائیں اور تعلیم و تربیت کا آغاز کردیں۔ اکثر والدین کو لگتا ہے کہ تشخیص کا عمل بہت دقت طلب اور پریشان کُن ہے، تو ایسا ہرگز نہیں۔ ماہرین نےآٹزم کی تشخیص اور مرض کی شدّت جانچنے کے لیے کئی علامات وضع کر رکھی ہیں،جن کی بنیاد پر بعض بچّے پیدایش کے ابتدائی مہینوں ہی میں اپنی حرکات و سکنات اور پریشان کُن رویّے کی بناء پر جانچے جا سکتے ہیں ،جب کہ بعض کا مختلف رویّہ دو سے تین سال کی عُمر میں سامنے آتا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ہر آٹسٹک بچّے میں تمام علامات ایک ساتھ نہیں پائی جاتیں، محض چند علامات کا ہونا بھی آٹزم کی تشخیص کا باعث بن سکتا ہے۔ 

مثلاً:بچّہ اپنا نام پکارنے پر متوجہ نہ ہو،دیگر بچّوں کی طرح کھیلنے کے عام طریقوں سے نا واقف ہو،آنکھ ملا کر نہ دیکھے، مُسکراہٹ کا تبادلہ نہ کرے،بالکل نہیں بولےیا پھر بہت کم اور نامکمل الفاظ بولے، ایک ہی لفظ یا جملہ بار بار بے مقصد دہرائے، اپنے کسی خود ساختہ کھیل اور مشغلےمیں مگن رہے،غیر معمولی حرکات و سکنات جیسے آگے پیچھے ہلنا، گول گول گھومنا، ہاتھ ہلانا، اچھل کود یا مستقل بھاگ دوڑ کرے،روزمرّہ کے معمولات میںجذبات کا مختلف طریقے سے اظہار جیسے خوشی میں اچھلنا کودنااور ہاتھ ہلانا اور غصّے کی حالت میں دوسروں یا خود کو مارے، چیزیں توڑپھوڑ دے، کچھ اشیاء کے ساتھ غیر معمولی لگائو رکھے،جیسے پینسلز، خالی بوتلیں، ڈ ھکن، ٹشو پیپرز،ڈوری یا کوئی کھلونا، ان چیزوں کو ہر وقت اپنے پاس رکھےاور ایک ہی جیسے طریقےسے کھیلے،روشنی اور گھومنے والی چیزوں میں غیر معمولی دِل چسپی لے، اپنی چیزوں کو بار بار ایک ہی قطار میں یا اوپر تلے رکھے،اپنے والدین، بہن بھائی یا دیگر افراد کے احساسات و جذبات کو نہ سمجھے،بچّے کی حِسّیات جیسے دیکھنے، سُننے، سونگھنے، کھانے پینے اور چُھونے کے طریقے عام بچّوں سے مختلف ہوں، مارکیٹس، پارکس یا تقریبات میں جاکر بہت زیادہ جذباتی یا والدین کےقابو سے باہر ہوجائے، کسی بھی تبدیلی پر سخت مزاحمت کرےاور بچّے کی ٹوائلٹ ٹریننگ میں بہت دقّت پیش آئے وغیرہ۔آٹزم کی علامات عام طور پر عُمر کے ابتدائی تین برس میں ظاہر ہوجاتی ہیں، جنہیں زیادہ تر کیسز میںبچپنا کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، لیکن جب وہ رویّہ مستقل اور مشکل صورتِ حال اختیار کر لیتا ہے اور والدین، بہن بھائی اور دیگر قریبی افراد کی زندگی کے معمولات اور ماحول کو متاثر کرنے لگتا ہے، تو پھر تشویش کا باعث بنتا ہے۔

ماہرین نے والدین کی آسانی کے لیے بچّے کی عُمر کی مناسبت سے آٹزم کی علامات کی درجہ بندی کی ہے،جس کے مطابق چھے ماہ کی عُمر میں بہت کم یا بالکل نہ مُسکرانا، جذبات خصوصاً خوشی کا اظہار نہ کرنا، والدین اورقریبی افراد سے محبّت اور لگاوٹ کا اظہار نہ کرنا، ان کی جانب لپکنا ،نہ آنکھ سے آنکھ ملا کر دیکھنا، نو ماہ کی عُمر میں آواز، چہرے کے تاثرات اور مُسکراہٹ کا تبادلہ نہ کرنا، اپنے قریبی افراد کو اپنی جانب متوجّہ نہ کرنا، ایک سال کی عُمر میں بولنے کی کوشش نہ کرنا یا صرف ایک دو الفاظ ہی بول پانا، سلام، بائے بائے نہ کرنا، دوسروں کی حرکات اور آوازوں کی نقل نہ کرنا، پسندیدہ چیز کی طرف دوسروں کو متوجّہ نہ کرپانا، کسی سمت اشارہ نہ کرپانا اور نام پکارنے پر متوجہ نہ ہونا، سوا سال کی عُمر میں الفاظ کی ادائیگی میں مشکل یا پھر محض ایک دو الفاظ کو بار بار بے معنی طورپر دہرانا،دو سال کی عُمر میں نرسری رائمز میں دِل چسپی نہ لینا، بامعنی الفاظ پر مشتمل اپنے ارد گرد کے افراد سے رابطہ نہ کرنا، اپنے اطراف کے ماحول سے لاتعلق رہنا، اپنی مرضی کا مالک ہونا، چڑچڑے پَن اورضد کا مظاہرہ کرنا، ایک جیسے معمولات پر بضد رہنا اور کسی بھی تبدیلی پر مزاحمت کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

علاوہ ازیں،بعض علامات ایسی ہیں،جو عُمر کے کسی بھی حصّے میں ظاہر ہوسکتی ہیں۔ جیسا کہ بات چیت کی صلاحیت اور سماجی رابطے سے یک لخت یا بتدریج محروم ہوجانا، آنکھ ملا کر بات نہ کرپانا، دوسروں کے احساسات وجذبات نہ سمجھنا، تنہا رہنے کو فوقیت دینا اور لوگوں سے ملنے جُلنے سے اجتناب برتنا، روزمرّہ معمولات میں کسی بھی تبدیلی کو آسانی سے قبول نہ کرنا، مشاغل کا نہ ہونا یا بہت کم ہونا اور ایک ہی مشغلے کو بار بار دہرانا، ایک جیسی حرکات و سکنات اختیار کرنا اور بار بار دہرانا، حِسّیات کا بہت زیادہ یا بہت کم محسوس ہونا، بولنے والے افراد کا ایک ہی موضوع پر بات کرنے اور سُننے پر اصرار کرنا، جسمانی اور ذہنی صحت کا متاثر ہونا، اردگرد کے ماحول سے لاتعلق رہنا، دوسروں کی آواز اور لہجے کے اتار چڑھائو محسوس نہ کرنا، طنز اور مذاق نہ سمجھنا، اپنی مرضی اور ضد پر قائم رہنا، اپنے جذبات کا مختلف اور عجیب طریقے سے اظہارکرنا وغیرہ وغیرہ۔

آٹزم کی تشخیص کے لیے تاحال کوئی ٹیسٹ دریافت نہیں ہوا ، مگر طبّی ماہرین بچّے کی عادات اور رویّوں کے تفصیلی مشاہدے،والدین سے حاصل کی گئی معلومات اور مخصوص علامات کے ذریعےمرض تشخیص کر لیتے ہیں۔اگر والدین کو خدشہ ہو کہ ان کا بچّہ آٹزم کا شکار ہے، تو بہتر ہوگا کہ معالج کے پاس جانے سے قبل اپنے بچّے کے رویّے کا بغور مشاہدہ کرلیں اور اسے بھی ضبطِ تحریر میں لے آئیں کہ ان کا بچّہ عام بچّوں سے کس طرح اور کتنا مختلف ہے۔بچّے سے متعلق تمام معلومات ایک فائل میں یک جاکریں، جس میں بچّے کی پیدایش اور اس کے بعد کا بھی تمام طبّی ریکارڈ موجود ہو۔اس ضمن میں "M-CHAT(Modified Checklist For Autism In Toddlers" نامی چیک لسٹ خاصی مددگار ثابت ہوتی ہے،جس میں درج سوالات کے ذریعے بچّے اور اس کے رویّے کا مشاہدہ کرکے کافی حد تک اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ بچّہ آٹسٹک ہے اور اب ماہرین سے رابطہ حتمی تشخیص کے لیےناگزیر ہوچُکاہے۔تشخیص کا ایک طریقہ آٹزم ڈائیگنوسٹک آبزرویشن شیڈول (Ados Autism Diagnostic Observation Schedule) بھی ہے۔اس طریقۂ کار میں مختلف سرگرمیوں اور کھیلوں کے ذریعے بچّوں کا تفصیلی مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین دیگر سوال نامے اور مشاہدے کے معیار سے بھی مدد لیتے ہیں،اس ضمن میں (DSM5:Diagnostic And Statistical Manual Of Mental Disorders, 5th Edition)قابلِ اعتماد کتاب ہے۔ یہ بہتر ہوگا کہ بچّے کی ابتدائی عُمر میں اسکریننگ اور درست تشخیص کروالی جائے، تاکہ اس کی خاص ضرورتوں کے مطابق علاج اور بہتر تعلیم و تربیت کا آغاز ہوسکے۔ یاد رکھیے، یہ عمل کسی بھی طرح فائدہ مند نہیں کہ آٹسٹک بچّے کو عام بچّوں کے اسکول میں داخل کروایا جائے اور وہاں سے بار بار نکالے جانے کے بعد تشخیص کا آغاز ہوا۔آٹزم کے علاج کی بات کریں تو دُنیا بَھر کے ماہرین اس تگ و دو میں مصروف ہیں کہ آٹزم کا کوئی علاج دریافت کرسکیں، لیکن تاحال اس ضمن میں کوئی خاص کام یابی حاصل نہیں ہوسکی ۔تاہم،آٹسٹک افراد میں بے چینی اور چڑچڑےپَن کی علامات ختم کرنے کے لیےایف ڈی اے(Food And Drug Administration) سے منظور شدہ بعض ادویہ تجویز کی جاتی ہیں۔

آٹسٹک بچّوں میں آٹزم کے ساتھ حِسّیات کے نظام کی پیچیدگیاں، دیگر طبّی مسائل مثلاً مرگی، نیند کی کمی، ہاضمہ اور پیٹ سے متعلقہ امراض اورذہنی صحت سے متعلقہ مسائل(جن میں بے چینی، گھبراہٹ، ڈیپریشن اور توّجہ حاصل کرنے کے لیے منفی طرزِ عمل اختیار کرنا) وغیرہ ظاہر ہوں،تو یہ مرض مزیدپیچیدہ ہوجاتا ہے۔ آٹزم کے باعث جسمانی کارگردگی بھی کم یا زیادہ متاثر ہوتی ہے، اسی لیے متاثرہ بچّوں اور بڑوں کی ایک نمایاں تعداد اپنے روزمرّہ معمولات انجام دینے اور لکھنے کی صلاحیت سےمحروم رہتی ہے۔یوں توآٹزم کی علامات2 سے3 سال کی عُمر میں ظاہرہوجاتی ہیں،مگربعض بچّے، جن کی جسمانی نشوونما بھی متاثر ہو، وہ ڈیڑھ سال کی عُمر میں بھی تشخیص کیے جاسکتے ہیں۔علاوہ ازیں، ہر پانچ میں سے ایک آٹسٹک بچّہ ایک سے تین سال کی عُمر میں سیکھنے، سمجھنے اور بولنے کی صلاحیتوں سے اچانک یا بتدریج محروم ہوجاتا ہے، جو والدین کے لیے انتہائی شدید صدمے کا باعث بنتا ہے،کیوں کہ یہ ایک لاعلاج اور زندگی بَھر رہنے والی ذہنی حالت ہے۔تاہم، بروقت تشخیص اور تعلیم و تربیت کے جلد آغاز کی بدولت بچّے کی سمجھنے اور سیکھنے کی صلاحیت پر نمایاں اثر پڑتا ہے۔ماہرین کے مطابق تقریباً28 فی صد آٹسٹک بچّوں میں، جو آٹھ برس یا اس سے زائد عُمر کے ہوتے ہیں، تشدد اور خود اذّیتی کا رحجان پایا جاتا ہے۔عموماً بچّے اپنی مرضی کے خلاف کسی بات پر یا منفی توجّہ حاصل کرنے کے لیے اپنے قریبی لوگوں کو مارنے، کاٹنے، نوچنےیا بال کھینچنے، فرش یا دیواروں پر اپنا سَر مارنے، کلائیوں اور ہاتھوں کو کاٹنے، اپنے چہرے، سینے یا پیٹ پر تھپڑ مارنے، چہرے اور ہاتھوں کو ناخنوں سے نوچنے اور دھکّے دے کر گرادینے جیسی حرکات کرتے ہیں۔ایک امریکی تحقیق کے مطابق حادثات کا شکار ہو کر جان کی بازی ہارنے والے زیادہ تر آٹسٹک افراد پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ 14سال یا اس سے کم عُمر بچّے گھروں سے بھاگ کر حادثات کا شکارہوجاتے ہیں۔ خود کو کمرے یا کسی دوسری جگہ میں لاک کرکے بھی آٹسٹک بچے اور افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، لہٰذا آٹسٹک بچّوں اور بڑوں کا خاص خیال رکھا جائے، تاکہ وہ مختلف حادثات سے محفوظ رہ سکیں۔

ہمارے ارد گرد یقیناًکئی ایسے افراد موجود ہوں گے اور شاید ان میں سے ایک ہم بھی ہوں، جن کے دماغ کو آٹزم نے معمولی طور پر متاثر کیا ہواور وہ بنا تشخیص کے زندگی گزار رہے ہوں۔ تاہم، جیسے جیسے معاشرے میں آٹزم سے آگاہی بڑھتی گئی، عوام النّاس میں یہ شعور پیدا ہوتا چلا گیا کہ وہ خود کو اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو جانچیں، بجائے تنقید یا اپنا دفاع کرنے کے ،خود کو اور ان کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ کہیں یہ آٹزم کی علامات تو نہیں، جن سے وہ متاثر ہیں۔ بچّے میںآٹزم کی تشخیص والدین کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسے سفر کی شروعات ہے، جو بہت کٹھن اور دقّت طلب ہے اورزندگی کے معمولات بدل کر رکھ دیتا ہے۔ بچّے میں مرض کی تشخیص زندگی کی حقیقت ہے،جس سے فرار ممکن نہیں،لہٰذا اپنے بچّے اور اس کے ساتھ وابستہ آٹزم کو سمجھیں۔ دُنیا سے کٹ جانے کی بجائے اپنا سپورٹ سسٹم مضبوط کریں۔ سفر کی شروعات میں گھبرائیں نہیں، آگے قدم بڑھاتے رہیں، بہت سے افراد اس سفر میں آپ کے مددگار ثابت ہوں گے۔ اگر کسی آنگن میں آٹزم بچّہ جنم لے، تو اس میں والدین قطعاً قصور وار نہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمایش ہے، جسے دِل سے قبول کریں۔ جب یہ خیال آئے کہ ’’میں ہی کیوں…‘‘ تو یہ سوچیں کہ اللہ نے آپ ہی کو اس مشکل امتحان کے لیے چُنا ہے۔ یہ امتحان آپ سے ذہنی، جذباتی اور جسمانی مشقّت لے گا۔ یہ آپ کے صبر، حوصلے اور ہمّت کی جانچ کا امتحان ہے۔ یقیناً اس پر پورا اُتر کر آپ اجرِ عظیم کے حق دار ہوں گے۔ اپنے ربّ کے فیصلے پر راضی رہیں اور اپنے بچّے سے محبّت کریں۔ اسے اپنی پوری چاہت، محبّت اور توجّہ دیں اور اس کی ذہنی استطاعت کو دِل سے قبول کریں۔

لڑکیوں کی نسبت آٹسٹک لڑکوں کی تعداد4گنا زائد

سینٹر فار ڈیزیز زکنٹرول اینڈ پری وینشن نے2018ء میں امریکا میں ایک سروے کیا،جس کےجاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق ہر59میں سے ایک بچّہ، ہر37میں سے ایک لڑکا اور ہر151میں سے ایک لڑکی آٹزم سے متاثرہے۔ لڑکوں کی تعداد، لڑکیوں کی نسبت چار گنا زائد ہے۔واضح رہے کہ محقّقین کئی برس سے جاری تحقیق کے باوجود تاحال اس تناسب کے فرق کی حتمی وجہ دریافت کرنے میں ناکام ہیں۔آٹسٹک بچّوں میں تقریباً31فی صد بچّے آٹزم کے ساتھ ذہنی پس ماندہ بھی ہوتے ہیں، جس سے ان کے سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے،جب کہ30تا61فی صد بچّے آٹزم کے ساتھ اے ڈی ایچ ڈی(Attention deficit hyperactivity disorder)سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔11تا40فی صد بچّوں خصوصاً لڑکوں میں بے چینی اور گھبراہٹ کی علامت بھی پائی جاتی ہیں۔ 

نیز، آٹسٹک بچّوں میں پیٹ اور نظامِ ہضم سے متعلقہ مسائل عام بچّوں کی نسبت 8فی صد زائد پائے جاتے ہیں۔لگ بھگ32 فی صد آٹسٹک بچّے زائد وزن اور موٹاپے کے ساتھ بسیار خوری کا شکار ہوتے ہیں۔ 50فی صد بچّوں کو نیند نہ آنے یا کم آنے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،جب کہ تین تہائی بچّے تاعُمر بات چیت سے قاصر رہتے ہیں۔ ایک تہائی آٹسٹک بچّے جھٹکے لگنے یا مرگی کے مرض سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔4تا35 فی صد آٹسٹک شیزوفرینیا کا شکار ہوتے ہیں۔ آٹزم کے ساتھ صحت کے یہ عمومی مسائل پوری زندگی آٹسٹک افراد کے ساتھ رہتے ہیں۔ تاہم، آٹزم کے علاوہ دیگر طبّی مسائل پر علاج کے ذریعے کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

(مضمون نگار، ’’سینٹر فار آٹزم‘‘ کراچی میں ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہی ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید