آپ آف لائن ہیں
جمعرات15؍شعبان المعظم 1441ھ 9؍ اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ماریہ بی وزیراعظم کا شکریہ کرنے کی بجائے قوم سے معافی مانگیں، صارفین

ماریہ بی وزیراعظم کا شکریہ کرنے کی بجائے قوم سے معافی مانگیں، صارفین 


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان فیشن انڈسٹری کی مقبول ترین ڈیزائنر ماریہ بی کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ماریہ کے شوہر کو کورونا وائرس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیو وائرل ہورہی تھی جس میں وہ روتے ہوئے اپنے شوہر کی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔معروف ڈیزائنر ماریہ بی کے شوہر طاہر سعید نے گھریلو ملازم کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود اسپتال داخل نہیں کرایا تھا جس پر پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور وبائی مرض چھپانے کے الزام میں انہیں گرفتار کیا تھا۔بعدازاں پولیس نے ماریہ کے شوہر طاہر سعید کو ضمانت پر رہا کردیا جس کے بعد ماریہ اور ان کے شوہر نے تمام تر واقعے کی وضاحت ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے کی۔ماریہ نےاپنے ویڈیو پیغام میں وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا جب کہ پنجاب پولیس پر تنقید بھی کی اور ساتھ ہی ان کے شوہر نے عوام کو ان کی گرفتاری پر تمام تر وضاحت بھی دی۔ بعدازاں ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ "ماریہ بی" ٹرینڈ کرنے لگے گا اور صارفین کی جانب سے ماریہ بی پر شدید تنقید کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔رفیق احمد کھوکھر کہتے ہیں کہ ʼماریہ بی کو عمران خان کا مشکور ہونے کے بجائے پوری قوم سے معافی مانگنے چاہیے، انہیں ان تمام کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ اور علاج کے لیے عطیہ دینا چاہیے کیونکہ یہ ان کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔فہد خان نے دو تصویریں شیئر جس میں ایک طرف ماریہ بی تو دوسری طرف لاک ڈاؤن کے باوجود باہر نکلنےوالے لوگ ہیں جنہیں پولیس نے مرغا بنایا ہواہے۔انہوں نے دونوں تصاویر کا موازنہ کرتے ہوئے لکھاکہ ʼامیروں اور غریبوں کے لیے قانون میں فرق محسوس کریں۔شاہانہ کہتی ہیں کہ ʼمیں یہ سوچ رہی ہوں کہ تمام خواتین جنہوں نے ماریہ بی سے کپڑے خریدے تھے انہیں ان تمام کپڑوں کو جلاتے ہوئے ایک ویڈیو بنانی چاہیےʼ ساتھ ہی خاتون نے ہیش ٹیگ بائیکاٹ ماریہ بھی لکھا۔بلال خالد نے تمام خواتین سے ماریہ بی کا بائیکاٹ کرنے کا کہا اور ساتھ ہی انہوں نے حکومت پاکستان سے ان کی برانڈ کا لائسنس کینسل کرنے کو بھی کہا۔واضح رہے کہ پولیس دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور وبائی مرض چھپانے والوں کے خلاف 201 مقدمات درج کر کے513افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔

دل لگی سے مزید