آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کورونا وائرس، نئے بینیفٹس دعوے داروں کو سسٹم پر دباؤ کی وجہ سے رابطے میں مشکلات کا سامنا

لندن (پی اے) کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے اقتصادی تنزلی کےنتیجے میں حالیہ دنوں میں نئے بیروزگاروں کی ناقابل یقین تعداد کو بینیفٹس کلیمز حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ منگل کے روز ایک موقع پر 100000 سے زائد افراد اپنی آن لائن درخواستوں کی ویری فکیشن کرنے کی کوشش کرتے رہے جبکہ دیگر نے ویلفیئر سٹاف سے فون پر رابطہ کرنے میں گھنٹوں گزارے۔ بہت سے لوگ فون پر طویل قطار کے بعد اور پھر نظام سے مسترد کے جانے کی وجہ سے دستبردار ہو گئے۔ دی ڈپارٹمنٹ فار ورک اینڈ پنشنز نے کہاکہ یہ وہ اپنے موجودہ سٹاف کو دوبارہ تعینات کر رہا ہے اور طلب پوری کرنے کیلئے مزید لوگوں کی خدمات حاصل کر رہا ہے۔ بی بی سی کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بینیفٹس سسٹم پر دبائؤ گزشتہ ہفتے کے وسط میں حکومت کے اس اعلان کے فوری بعد پڑنا شروع ہو گیا تھا، جس میں حکومت نے پیر کی شب زیادہ تر کاروباری اداروں کو بند رکھنے کا حکم دیا تھا اور کورونا وائرس کوویڈ19 کے پھیلائو کے اثرات کو کم تر کرنے کیلئے پابندیوں کا پہلا مرحلہ

متعارف کروایا تھا۔ بینیفٹس کلیمز کے نئے دعوے داروں میں بہت سے سیلف ایمپلائیڈ افراد ہیں، جن کی آمدن انتہائی ڈرامائی انداز میں گر گئی اور انہوں نے اپنی مشکلات کو اجاگر کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ ایک یوزر نے ٹوئٹر پر اپنی درخواست کا سکرین شاٹ پوسٹ کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ نئے بینفٹس دعوے داروں کے شدید دبائو کی وجہ سے ان کی تصدیق میں مشکل ہو رہی ہے اور ان سے آگے قطار میں 105563 افراد آن لائن تصدیق کیلئے موجود ہیں۔ کسی بھی بینیفٹس دعوے دار کیلئے اپلائی کرنے کی بنیادی ضرورت آن لائن شناخت کی تصدیق ہے۔ جوناتھن ہیوم کے اندازے کے مطابق اس نے جمعہ سے ہی یونیورسل کریڈٹ ہاٹ لائن کو 80 سے 100 مرتبہ کے درمیان رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ مانچسٹر یونیورسٹی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ کی حیثیت سے ان کا معاہدہ رواں ماہ کے شروع میں ختم ہو گیا تھا اور 32 سالہ شخص کو اپنے دعوے کو پراسس کرنے کیلئے بینیفٹس کلیمز کے کسی اہلکار سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مسٹر ہیوم نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ میں ابھی کچھ بھی نہیں کر سکتا، کیونکہ دبائو کی وجہ سے بیشتر اوقات لائن مسلسل ڈراپ ہوتی رہی۔ جب کچھ بار میرا رابطہ ہوا تو میں دو گھنٹے کیلئے ہولڈ پر تھا اور پھر میرے نیٹ ورک نے مجھے منقطع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ دبائو کی وجہ سے یہ صورت حال انتہائی پریشان کن اور تکلیف دہ ہے تاوقتیکہ اس کا حل نہ نکال لیا جائے میرے پاس کوئی آمدن نہیں ہے۔ کورونا وائرس کوویڈ19 کے اقتصادی اثرات کی وجہ سے حالیہ دنوں میں یونیورسل کریڈٹ کیلئے اپلائی کرنے کے اہل افراد کی تعداد میں ہزاروں کا اضافہ ہوا ہے۔ پیر کی شب ایک بیان میں ڈپارٹمنٹ فار ورک اینڈ پنشنز (ڈی ڈبلیو پی) نے درخواست گزاروں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا استعمال پر سپورٹ لائنز تک رسائی نہ ہونے کی شکایات کے کئی دن بعد اپنے آن لائن سسٹم کو استعمال کریں۔ ایک صارف نے بینیفٹس اہلکار سے بات کرنے کے انتظار میں تین دن میں مجموعی طور پر 15 گھنٹے سے زیادہ وقت گزارے۔ متعدد دیگر افراد نے فون کالز کے سکرین شاٹس پر دو گھنٹے سے زیادہ انتظار کو پوسٹ کیا۔ کچھ دعویداروں نے سسٹم سے رابطہ کرنے کی جدوجہد میں گھنٹوں کا وقت گزارا۔ حکومت نے پیر کو اعلان کیا کہ تمام جاب سینٹرز ہر ایک کیلئے بند کر دیئے جائیں گے لیکن سب سے زیادہ کمزور دعویدار، جو دوسرے ذرائع سے ڈی ڈبلیو پی خدمات تک رسائی نہیں کر سکتے ہیں، سے کہا گیا ہے کہ وہ آن لائن اور ٹیلیفون کی سہولت استعمال کریں۔ ایک بیان میں ڈی ڈبلیو پی نے کہا کہ محکمہ اس کو یقینی بنانے کیلئے بے مثال اقدامات کر رہا ہے کہ لوگوں کو انکی ضروریات کے مطابق سپورٹ فراہم کی جا سکے۔ 10000 موجودہ سٹاف کو نئے دعوے داروں کے کلیمز پر کارروائی کیلئے لگایاجائے گا جبکہ 1000 پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔ مزید برآں محکمہ کو توقع ہے کہ وہ اس کوشش میں مدد کیلئے 1500 اضافی افراد بھرتی کرے گا۔

یورپ سے سے مزید