آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍شوال المکرم 1441ھ 5؍جون 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پختونخواہ میں 19 لاکھ مستحق خاندانوں کیلئے خصوصی پیکج کی منظوری

sپاکستان میں پھیلنے والے کورونا وائرس کی وبائ سے جہاں ملک کے دوسرے صوبے محفوظ نہیں وہاں صوبہ خیبرپختونخوا بھی اس خوفناک وبائ کی زد میں آچکاہے اور ہرگزرتے دن کے ساتھ صوبے میں کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آرہے ہیں اور متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہاہے تاہم اس کے باوجود تادم تحریر خوش قسمتی سے پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں اس وبائ کے مریضوں اور اس سے متاثرین کی تعداد تقریبا ًنصف ہے۔تاہم ہر لمحہ بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر کورونا وائرس کے مریضوں اور متاثرین کی صیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ صوبے میں اس وبائ کے پھیلنے کے بعد حکومت کی منصوبہ بندی اور تیاریوں کا شدید فقدان دیکھنے میں آیا۔ 

ہر سال صحت کے شعبے کو ترجیح دینے اور اس کے لئے اربوں روپے کے فنڈز مختص کرنے کے بڑے بڑے حکومتی دعوں کی قلعی کھل گئی ہسپتالوں میں مطلوبہ سہولیتں موجود تھیں نہ ہی صحت کا عملہ پورا تھا جس کی وجہ سے حکومت کو وبا کے پھیلنے کے بعد عجلت سیکڑوں ڈاکٹروں کو بھرتی کرنا پڑا۔جس سے صاف ظاہر ہے حکومت نے نہ تو پہلے صحت کے شعبے کو ترجیح دی اور نہ اہی اس وبائ صوبے میں منتقل ہونے کے بعدا سے سنجیدگی لیا گیا کیونکہ اگر شروع شروع میں مسلے کو سنجیدہ لے گر باہر سے آنے والوں خصوصاًایران اور سعودی عرب سے آنے والوں کے لئے قرنطینہ سینٹرز قائم کرکے ان کی تشخیص کی جاتی ہے تو شاید آج خیبرپختونخوا میں متاثرین کی تعداد اور بھی کم ہوتی مگر صوبائی حکومت اس وقت جاگی جب باہر سے آنے والے مشتبہ افراد راپنے اپنے علاقوں کو جاچکے تھے بلکہ اپنے ساتھ پورے علاقے کو یہ وائر س منتقل کرچکے تھے اگرچہ اب ان فراد کو ڈھونڈ نکالنے کی کوششیں کی جارہی ہے مگر یہ کوششیں بارآور ثا بت ہوتی دکھائی نہیں رہی۔ 

وزیر اعلی ٰ خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ اجمل وزیر کی جانب سے صوبے میں کورونا وائرس کے مریضوں اور متاثرین کے حوالے سے پیش کی جانے والی تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تادم تحریر خیبر پختونخوا میں 8 مزید افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی جس کے بعد صوبے میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 188 جبکہ اسکے علاوہ مشتبہ افراد کی تعداد 894 تک پہنچ چکی ہے جواس وقت صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم قرنطینہ سنٹرز میں زیر علاج ہیں۔ جن میں 345 افراد کے رزلٹ آنے کا انتظار ہے جبکہ 195 افراد کے ٹسٹ نیگٹیو آئے ہیں۔ 

اس سکے علاوہ حکومت نے بیرون ملک سے آنے والوں کو بھی ڈیٹا جمع کرکے انہیں رضاکارانہ طورپر حکومت سے رابطہ کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ ان کا بھی ٹسٹ کیاجاسکے مگر اس حوالے سے شاید دیر ہوچکی ہےاگرچہ حکو مت رضاکارانہ طورپر رابطہ کرنے کی درخواست کی ہے مگرابھی تک کسی نے بھی حکومت سے رابطہ نہیں کیا اور نظر آرہا ہےکہ اس کے بعد بھی اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے حکومت ان افراد کا خفیہ ادارون کے ذرئیے سراغ لگا کر زبردستی انہیں قرنطینہ سینٹرز منتقل کریں ۔اس وقت تک یہ چلتے پھرتے وائرس زدہ اپنے اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے لئے مسلسل خطرہ بنے رہیں گے ۔ان میں ضلع مردان کے علاقے منگا کی مثال سب کے سامنے جہاں ایک شخص سعودی عرب عمرے سے واپس مردان پہنچنا اورسیدھا اپنے گائو ںمنگا پہنچا جہا ں انہوں نے سیکڑوں افراد کی دعوت کرڈالی مگر بعد میں خود تو زندہ نہ رہا مگر اپنے سارے گائوں کو وائرس زدہ کیا جہا ں سے اب تک درجنوں وائرس زدہ افراد سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے پورے گائوں کو قرنطینہ قرار دےکر وہا ں پویس کا پہرہ بیٹھایا گیا ہے آخر اطلاعات اس گائوں میں ڈیوٹی پر تعینات ایک پولیس آفیسر بھی وائرس سے متاثر ہوچکاہے۔ 

اگر مرحوم سعادت خان کی بروقت تشخیص کی جاتی اور اسے گائوں جانے اور دعوت سے روک دیا جاتا تو شاید آج درجنوں مقامی افراد اس وباء سے بچ جاتی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی طرف سے اس حوالے سے غیر سنجیدگی کا مظاہر کیا گیا ۔صورت کی سنگینی کے پیش نظر حکومت نے کورونا وائرس کے مذید پھیلائو کو روکنے کے لئے صوبے میں دفعہ 144 کا نفاذ کرکے جزوی لاک ڈائون کیا گیااور اس دوران وزیر اعلیٰ سمیت دیگر حکومتی عہدیدار عوام سے بار باخود کو گھروں تک محدور رکھنے ،خود کو اور دوسروں کو محفوظ بنانے کی تلقین کررہے ہیں مگرپاکستانی قوم ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے حکومتی احکامات اور دفعہ 144کے نفاذ کے باوجود پشاور کے اندرون علاقوں کے عوام خصوصاً نوجوانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی موٹر بائیک لے کر بلا مقصد سڑکوں اور گلیوں میں معمول کے مطابق نہ صر ف گھوم رہے ہیں بلکہ سماجی فاصلہ رکھنے کے احکامات پر بھی عمل نہیں کررہے ہیں اگرچہ حکومت نے لاک ڈائون کے دورا ن سبزی ، کریانہ او جنرل سٹورز اور آٹے سمیت دیگر ضروری اشیاء کی دکانیں کھلی رکھنے کی اجاز ت دی رکھی ہے تاکہ عوام ضروری اشیاء بازار سے خردسکے مگر ان دکانوں میں اشیاء کی وافرمقدار میں دستیابی ،ذخیرہ اندوزی روکنے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے خاطر خواہ اقداما ت نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے مارکیٹ سے سرجیکل ماسکس اور ہینڈسنیٹائزرز غائب ہونےکے بعد اب آٹا اور دیگر ضروری اشیاء کی بھی غائب ہونے کی اطلاعات ہیںبلکہ ناجائز منافع خوروں کی جانب سے سپلائی ا و ر ڈیمانڈ کی آڑ میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی بھی خبریں آرہی ہیں اس لئے صوبائی حکومت کو اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرنا ہوگا تاکہ لاک ڈاؤن کے دوران عوام کو اشیاء ضروریہ کی کمی سامنا نہ ہو اسکے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن سے متاثرہ مزدور اور محنت کش طبقے کے لئے بھی انتظام کرنا ہوگا اگرچہ اس حوالے سے صوبائی حکومت نے صوبے کے 19 لاکھ مستحق خاندانوں کے لئے خصوصی پیکیج کی منظوری دی ہے جو ان خاندانوں میں تقسیم کیاجائیگا جو کورونا وائرس کے لاک ڈائون سے متاثر ہونگے یہ پیکیج3 ہزار روپے احساس پروگرام کے تحت جبکہ 2 ہزار روپے خیبر پختو نخوا حکومت کی طرف سے ملاکر پانچ ہزار روپے پر مشتمل ہے تاہم ابھی تک غریب اورمستحق خاندانوں تک اسے پہنچانے کے لئے طریقہ کار طے نہیں کیا گیا ہے۔مشیربرائے اطلاعات کے مطابق اس پیکج پر کل 11 ارب 40 کروڑ روپے خرچ ہونگے ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید