آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

افغان حکومت طالبان معاہدہ، امن ناگزیر

باہمی تنازعات کا حل ہمیشہ مذاکرات سے ہی ممکن ہے، جنگ و جدل سے ایسا ہو پاتا تو دنیا کے بیشتر مسائل کب کے حل ہو چکے ہوتے۔ افغانستان کی مثال لے لیں جو کم و بیش چار دہائیوں سے میدانِ کارزار بنا ہوا ہے لیکن اس کے امن کی راہیں مذاکرات سے برآمد ہوئی ہیں، پاکستان کا بھی اس حوالے سے یہی موقف تھا جسے پہلے پہل قبول کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا گیا لیکن بعد ازاں حالات و واقعات نے ثابت کر دیا کہ اس دیرینہ معاملے کا حل انہی پُرامن مذاکرات میں ہے جس کا نہ صرف پاکستانی محرک ہے بلکہ ان کے انعقاد میں فریقین کی معاونت بھی کر رہا ہے۔ مذاکرات کی داغ بیل ڈالی گئی اور دوحا کے امن مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہو گئے۔ یوں نائن الیون حملوں کے بعد افغانستان میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کیلئے 18برس بعد امریکہ اور طالبان کے مابین تاریخی معاہدے پر دستخط ہوئے۔ افغان امن معاہدہ چار بنیادی نکات پر مشتمل ہے، مثلاً طالبان افغان سرزمین امریکہ یا اس کے کسی اتحادی کے خلاف کسی فرد تنظیم یا گروہ کو استعمال نہیں کرنے دیں گے، افغانستان سے امریکی و اتحادی فوجیوں کا انخلا یقینی بنایا جائے گا۔ طالبان 10مارچ سے انٹرا افغان مذاکرات کا عمل شروع کر سکیں گے، بین الافغان مذاکرات کے بعد سیاسی عمل سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ معاہدے میں واضح ہے کہ اس کے موخر الذکر نکتے کی تکمیل اول الذکر نکات کی تکمیل کے بعد ہو گی۔ معاہدے کی رو سے 10مارچ تک طالبان کے تقریباً 5ہزار جبکہ افغان فورسز کے ایک ہزار قیدی رہا کیے جائیں گے۔ کابل حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آغاز بھی اسی روز ہوگا۔ دوسری جانب امریکہ اور افغان حکومت کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق اگر طالبان نے معاہدے کی پاسداری یقینی بنائی تو امریکہ اور اس کے اتحادی 14ماہ کے اندر اپنی تمام افواج افغانستان سے واپس بلالیں گے۔ اس سے اگلے مرحلے میں افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات کی کامیابی کے بعد کابل حکومت نے طالبان کے 100قیدی رہا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ طالبان بھی اپنی حراست میں موجود 20افغان فوجی اہلکاروں کو رہا کریں گے۔ رہائی کا عمل جمعرات سے شروع ہوگا۔ حکام کے مطابق قیدیوں کا تبادلہ افغان دھڑوں اور طالبان کے مابین مذاکرات سے قبل اعتماد کی فضا قائم کرنے کے سلسلے میں ہو رہا ہے، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق قیدیوں کی رہائی سے متعلق تکنیکی امور طے کرنا باقی ہیں جس سے ایک دو روز کی تاخیر ممکن ہے، فریقین کی ٹیمیں کورونا وائرس کی وجہ سے قیدیوں کی وصولی کا طریقہ کار طے کر رہی ہیں۔ افغانستان جو عرصہ دراز سے غیر ملکی قوتوں کی پنجہ آزمائی کیلئے میدان جنگ بنا ہوا تھا، اس کا واحد حل مذاکرات ہی تھے ۔پاکستان جو افغان قوم اور افغانستان سے واقف ہے، عرصہ دراز سے خطے میں نبردآزما قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہا تھا اور اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ان مذاکرات کی کامیابی پاکستان کی کاوشوں سے ہی ممکن ہوئی۔اب فریقین کو یہ بات حرزجان بنانا ہو گی کہ عہد شکنی دنیا کے کسی بھی مذہب اور اخلاقیات کے خلاف ہے چنانچہ جو بھی طے پایا ہے سب کو اس پر من وعن عمل کرکے خطے کو امن کا تحفہ دینا ہو گا۔یہ بات بھی ذہن نشین رکھنا ہو گی کہ چند ایسی قوتیں جن کو ان مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا گیا وہ اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کی کوشش کریں گی، ان کا ناطقہ بند کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ افغان حکومت ہو، طالبان یا دیگر گروہ سب کو اپنے ملک کو پُرامن بناکر اس میں سیاسی عمل کے اجرا کیلئے متحد ہونا ہوگا اسی میں سب کی بھلائی ہے۔ پائیدار قیامِ امن ہی میں سب کی کامیابی ہے اور اب یہ امن ناگزیر ہو چکا ہے۔

تازہ ترین