آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پرائیوٹ اسکولز تنظیموں نے فیسوں میں کمی کا حکم مسترد کر دیا


نجی اسکولوں کی تنظیموں نے اسکول فیسوں میں کمی کا حکومتِ سندھ کا حکم ہوا میں اڑاتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔

آل سندھ پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید حیدرعلی اور آل پاکستان پرائیویٹ اسکولزایسوسی ایشن کے صدر کاشف مرزا فیسوں میں کمی کے سرکاری حکم کے حوالے سے ’جیو نیوز‘ کے مارننگ شو ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کر رہے تھے۔

سید حیدر علی نے کہا کہ اسکول فیسوں کا معاملہ بہت حساس ہے،سندھ میں نجی اسکولز 33 لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نجی اسکولز پہلے ہی 10 فیصد مفت تعلیم دے رہے ہیں، اسکول فیسوں میں 20 فیصد کمی نہیں کر سکتے، نجی اسکولوں میں 20 فیصد کمی کاحکم عدالت میں چیلنج کریں گے۔

کاشف مرزانے اسی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسکولز فیسوں میں 20 فیصد کمی کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں

آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز کے صدر کاشف مرزا کا بھی یہ کہنا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔

واضح رہے کہ وزیرِ تعلیم سندھ سعید غنی کی ہدایات پر محکمۂ تعلیم کے ڈائیریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے تمام نجی اسکولوں کو اپریل اور مئی کی فیسوں میں 20 فیصد رعایت کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

وزیرِ تعلیم سندھ سعید غنی کے مطابق یہ رعایت کورونا وائرس کے باعث صوبے میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام کی سہولت کے پیش نظر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: سندھ، تعلیمی اداروں کو 20 فیصد کم فیس لینے کے احکامات

انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل ہم نے تمام نجی اسکولز کو والدین کو رعایت کی ہدایات دی تھی، تاہم اب تمام طلباء کو 20 فیصد فیسوں میں 2 ماہ تک رعایت دینے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

اس حوالے سے ڈائیریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبے بھر کے تمام نجی تعلیمی ادارے اپنےطلباء کی اپریل اور مئی کی فیس میں 20 فیصد لازمی رعایت دیں گے اورکوئی بھی اسکول کسی بھی تدریسی یا غیر تدریسی عملے کو اس دوران ملازمت سے نہیں نکالے گا، اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو اس دوران مکمل تنخواہ کی ادائیگی کرنا ہوگی۔

نوٹیفیکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی ہوگی اور اساتذہ اپنی شکایات کا اندراج کرانا چاہیں تو ڈائیریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹیٹیوشن سندھ کو کرا سکتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید