آپ آف لائن ہیں
پیر 9؍ شوال المکرم 1441ھ یکم جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

فروری کے آخری ہفتہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحا میں ایک تاریخی امن معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے پر امریکہ اور طالبان کے نمائندوں نے دستخط کیے۔ امریکہ اور افغانستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے اور امن معاہدے پر دستخط ہونے تک کے عمل میں پاکستان کا بہت بڑا کردار ہے۔ اس معاہدے سے یہ امید ہو چلی تھی کہ اب افغانستان میں امن کا قیام عمل میں آجائے گا اور گزشتہ دو دہائیوں سے جاری جنگ اور خونریزی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ دوحا امن معاہدے میں ایک اور اہم فریق افغان حکومت کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے شروع سے ہی اس معاہدے کی اہمیت اور اس پر عملدرآمد مشکوک ہو گیا تھا۔ معاہدے کے مطابق طالبان افغان حکومت کے ایک ہزار قیدیوں کو رہا کریں گے جس کے بدلے میں افغان حکومت پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرے گی۔ افغان صدر اشرف غنی نے دوسرے ہی روز اس سے انکار کیا اور بعد میں امریکی دبائو پر آمادگی ظاہر کی اور یہ طے پایا کہ طالبان کا ایک وفد کابل جا کر رہا ہونیوالے اپنے قیدیوں کی شناخت کرے گا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے طالبان نے اپنا مختصر تین رکنی وفد کابل بھیجا۔ 31مارچ کو کابل پہنچنے کے بعد افغان حکام سے کئی ملاقاتیں ہوئیں، اس وقت افغانستان کی جیلوں میں دس ہزار کے قریب طالبان قیدی ہیں۔ افغان حکومت نے پانچ ہزار قیدیوں کو ایک ساتھ رہا کرنے کے بجائے گروپوں کی صورت میں رہا کرنے پر آمادگی ظاہر کی لیکن طالبان کے تین رکنی وفد کی افغان حکام سے کئی ملاقاتوں کے باوجود قیدیوں کی رہائی ممکن نہ ہو سکی۔ طالبان وفد او ر افغان حکومت کے درمیان ملاقاتیں انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے ذریعے ہوتی رہیں لیکن تمام ملاقاتیں اور بات چیت بےنتیجہ رہی۔ اس کی وجہ طالبان کی طرف سے اپنے پندرہ اہم کمانڈرز کو پہلی کھیپ میں رہا کرنے کا مطالبہ ہےجس سے افغان حکومت نے انکار کیا ہے۔ طالبان نے اس وجہ سے اپنے وفد کو کابل سے واپس بلانے اور مزید بات چیت سے انکار کیا ہے۔ طالبان وفد کے کابل پہنچنے سے چند دن قبل امریکہ نے کابل میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان اتفاقِ رائے سے حکومت بنانے میں ناکامی پر شدید دکھ کا اظہار کیا اور افغانستان کو دی جانے والی امداد میں ایک ارب ڈالر کی کٹوتی کا اعلان کیا۔ امریکہ نے مزید کہا ہے کہ اگر دونوں رہنمائوں کے درمیان حکومت بنانے پر اتفاق رائے پیدا نہ کیا گئی تو سال 2021کی امداد سے مزید ایک ارب ڈالر کی رقم کم کی جائے گی۔

امریکہ نے افغانستان کی مالی امداد میں خطیر رقم کی کٹوتی ایسے وقت پر کی ہے کہ ہر طرف کرونا وائرس کی یلغار جاری ہے جس سے افغانستان بھی محفوظ نہیں ہے۔ جہاں علاج معالجہ کی سہولتیں پہلے ہی نا پید ہیں اور افغانستان کی معیشت کا زیادہ دارومدار امریکی اور دیگر غیرملکی امداد پر ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ امدادی رقم میں یہ کٹوتی کس مد میں کی جائے گی لیکن زیادہ امکان یہ ہے کہ مالی امداد کی رقم میں یہ کمی سیکورٹی کے شعبے میں کی جائے گی۔ امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں وہ اپنی فوج کو افغانستان سے نکال دے گا پھر افغان جانیں اور ان کے فیصلے جانیں۔

اگرچہ دوحا امن معاہدہ کے تحت امریکہ نے اپنے کچھ فوجیوں کو افغانستان سے نکال لیا ہے لیکن امریکہ کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنی تمام متعین فوج کو افغانستان سے نکال لے گا، اس طرف اشارہ ہے کہ امریکہ دوحا امن معاہدہ سے نکل جائے گا۔اگر دوحا امن معاہدہ ناکام ہو جاتا ہے تو افغانستان ایک بار پھر بہت بڑی خونریزی کی طرف جا سکتا ہے۔ طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز جن کو امریکی حمایت بھی حاصل ہے، کے درمیان اب بھی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان حملوں میں افغان سیکورٹی فورسز کی مدد فضائیہ کے ذریعے بھی ہو رہی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ افغان لویہ جرگہ کے کچھ اراکین اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہیں لیکن تاحال ان کو بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔ اگر فریقین نے صبر کا دامن نہ تھاما اور ہوش و حکمت سے کام نہ لیا تو آنیوالے کچھ ہفتوں میں افغانستان کے اندر حالات بہت خطرناک صورت اختیار کر سکتے ہیں۔فی الحال تو افغانستان میں امن ’’ ہنوز دلی دور است‘‘ والی بات نظر آرہی ہے۔

افغانستان میں بھارت کا کردار ختم ہو رہا ہے چونکہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے اس لئے حواس باختہ ہو کر بھارت نے کابل میں سکھوں کے گوردوارہ پر حملہ میں پاکستان کو ملوث کرنے کی ہرزہ سرائی کی ہے۔ بھارت پاکستان دشمنی میں ہمیشہ غلطی کرتا ہے اور اب بھی ایسا ہی کیا ہے۔ سکھوں کے مذہبی مقامات کے بارے میں پاکستان کا کردار دنیا نے تسلیم کیا ہے کرتار پور جس کی ابھی تازہ مثال ہے۔ دوسرا یہ کہ پاکستان کو کابل میں گوردوارہ پر حملہ کرنے سے کیا مقاصد حاصل ہو سکتے تھے؟یہ صرف بھارت ہی ہے جو مساجد، گوردواروں اور چرچ پر حملوں میں ملوث رہتا ہے۔ پاکستان ہر مذہب کی عبادت گاہوں کا احترام کرتا ہےاور ان کے تحفظ کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتا ہے۔ دنیا بھر کی سکھ برادری جانتی ہے کہ ان کے مذہبی مقامات کا جتنا خیال اور حفاظت پاکستان میں کی جاتی ہے کہیں بھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ بھارت کو اس جھوٹے پروپیگنڈے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ بھارت ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز آجائے یہی بھارت کے لئے بہتر ہے۔

تازہ ترین