آپ آف لائن ہیں
جمعہ یکم جمادی الثانی 1442ھ15؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’احساس ریلیف پروگرام‘‘ کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے

ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے حکومت کی طرف سے لاک ڈائون میں نرمی کے بعدلوگ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے لاپرواہی بڑھنے سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے احتیاطی تدابیر بھی مذاق بن کر رہ گئی ہیں، شاہراؤں پر لاک ڈاؤن کے باوجود ٹریفک معمول کے مطابق ر واں دواں ہے گلی محلوں میں بھی نقل و حرکت عام ہو رہی ہے شہری لاک ڈاؤن کو بالکل نظر انداز کر رہے ہیں اگر صورتحال یہی رہی تو کورونا وائرس مزید تیزی سے پھیل سکتا ہےلوگ بالکل احتیاط نہیں کر رہے ہیں تاجروں کی جانب سے حفاظتی تدابیر اور سماجی دوری سمیت دیگر ہدایات کو نظر انداز کئے جانے پر سنگین خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے موجودہ صورتحال میں معاشرے کے غریب طبقات اور باالخصوص دیہاڑی دار طبقہ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ 

لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ان کو زیادہ سے زیادہ اور بلا امتیازریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں جاری سنگین تناظر میں کورونا وائرس کی روک تھام سمیت مہنگائی پر قابو پانے کیلئے حکومت فی الفور اقدامات اٹھائے کیونکہ مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو چکی ہے اورآٹا،چینی ،گھی اور دالوںسمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتیں غریب عوام کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں لوگوں میں معاشی بد حالی کا خوف بھی بڑھ رہا ہے حکومت کو چاہیے کہ غریب عوام کی پریشانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کیلئے ایک بڑے معاشی پیکج کے ساتھ ساتھ احساس ریلیف پروگرام کا طریقہ کار سہل بنانا چاہیے اورجن کے نام پر پاسپورٹ ،موٹر سائیکل اور رکشہ وغیرہ ہے اسے مستثنیٰ قرار دیا جائے کیونکہ یہ تو غریب کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے جو لاک ڈائون کی وجہ سے بند پڑا ہےحکومت کی طرف سے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ہر ممکنہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔ 

تاہم عوام کی طرف سے اسے سنجیدہ نہ لینے اور بالخصوص دیہی علاقوں میں روز بروز رش میں اضافہ ہورہا ہے اور سماجی فاصلوں کو ملحوظ خاطر نہیں لایا جارہا ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اس حوالے سے عوام کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہےغیر ضروری طورپر گھروں سے نکلنا اور میل جول ختم نہ کرنے کی صورت میں کورونا وائرس کے نتائج خطرنا ک ہوسکتے ہیں اگر چہ صوبائی حکومت کی طرف سے کرونا وائرس سے بچائو کے سلسلے میں ہر ممکنہ اقدامات کئے گئے ہیں تاہم سیاسی جماعتوں کی طرف سے حکومتی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی غفلت، لا پرواہی اور کوتاہیوں کی وجہ سے کورونا کا وبائی مرض پورے ملک میں پھیل گیا ہے حکومت اگر بروقت سکریننگ کا ایک مؤثر نظام بنا لیتی اور اس کے ساتھ ساتھ قرنطینہ مراکز قائم کر کے اس کو بھر پور انداز میں فعال رکھتی اور مؤثر پیش بندی اقدامات کرتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی انہوں نے حکومتی رویہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہ کورونا ملک کا انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ تمام دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے اور سب ہی نے اسے حل کرنا ہے کورونا کے حوالے سے حکومت کے اب تک کے اقدامات ناکافی اور نامکمل ہیں۔ 

حکومت نے اب تک کورونا کے لئے کسی قسم کے نیشنل ایکشن پلان نہیں بنایا جس میں تمام سیاسی جماعتیں، میڈیا، ماہرین اور ریاستی ادارےشامل ہوں اور ان کے مشورے سے ایک متفقہ لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے وزیر اعظم کومکمل تعاون کا یقین دلایا لیکن وزیر اعظم نے ان کا شکریہ تک ادا نہیں کیا۔ا سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے بلایا گیا اجلاس نشستاً، گفتاً اور برخواستاً کے سوا کچھ نہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس کسی قسم کے حکومتی اختیارات نہیں، آل پارٹیز کانفرنس وزیراعظم کو بلانی چاہئے تھی جو تمام اختیارات کے مالک ہیں۔ حکومت کی سمت اور ڈائریکشن کا پتہ نہیں چل رہا، وزیر اعظم کہتے رہےلاک ڈاؤن نہیں کریں گے لیکن ملک میں عملاً لاک ڈاؤن ہے۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے صنعتیں بنداور مزدور بے روزگار ہوگئے ہیںسیاسی جماعتوں کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو آزمائش کی اس گھڑی میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے آل پارٹیز ویڈیو لنک کانفرنس کا اہتمام کرنا چاہئیے تھا یا انفرادی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو اعتماد میں لے کر ایک مربوط، جامع اور ہمہ گیر حکمت عملی ترتیب دینی چاہئے تھی جس سے نہ صرف اتحاد، اتفاق اور عزم کا پیغام عوام کو جاتا بلکہ اجتماعی دانش اور جد و جہد کو بروئے کار لاکر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا چاہئے تھا دوسری طرف وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کا کہنا ہے کہ صوبے میں 5 لاکھ 82 ہزار 80 مستحقین کی نشاندہی کرلی گئی ہے مستحقین کو 12، 12 ہزار روپے ادا کیے جائیں گے اسکے علاوہ 22 لاکھ سے زائد خاندانوں کو احساس پروگرام کے تحت ریلیف دیا جائے گا۔ 

صحافیوں کی طرف سے میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی کیمپ میں سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور کارکنوں کی طرف سے بھرپور حصہ لیا جارہاہے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ٗقومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ ٗعوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ٗ پاکستان مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام ٗ پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر ہمایون خان ٗقومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر شیرپائو ٗبزنس و تاجر کمیونٹی ٗوکلاء ٗسول سوسائٹی کے نمائندوں نے کیمپ میں شرکت کی انہوں نے جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کو ناجائز، غیر قانونی اور انتقامی کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تبدیلی سرکار کا آزادی صحافت پر حملہ جمہوریت کیلئے خطرہ ہے، جنگ گروپ کو سچ بولنے اور دکھانے کی سزا دی جارہی ہے جس کی ہم شدید مذمت اور میر شکیل الرحمان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید