موسم گرما کے آتے ہی بڑے، بچوں، بزرگوں سب ہی کو میٹھے اور لذیز پھل آم کا انتظار ہوتا ہے، آم کو پھلوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے، مگر یہ میٹھا ہونے کے باوجود موٹاپے کا سبب نہیں بنتا۔
ماہرین غذائیت کے مطابق آم ایک غذائیت سے بھر پور موسمی پھل ہے، موسمی پھلوں میں صحت کا خزانہ چھپا ہوتا ہے، آم کے کھانے سے وزن میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے استعمال سے انسانی صحت پر ڈھیر سارے مثبت اثرات آتے ہیں۔
آم وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھر پور پھل ہے
آم کے گودے سمیت چھلکے میں بھی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے کے لیے اینٹی آکسیڈنٹ جز ’امیون بوسٹنگ اینٹی آکسیڈنٹ‘ بھاری مقدار میں پائے جاتے ہیں جس سے انسان کو موسمی اور خصوصاً موسم گرما میں ہونے والی معدے سے متعلق بیماریوں کی شکایت سے نجات ملتی ہے۔
آم وٹامن اے حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے
آم میں وٹامن اے وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ، اس میں فلاوانائیڈز، بیٹا کیروٹن، ایلفا کیروٹن اور بیٹا کریپٹوزینتھین بائیو خصوصیات پائے جانے کہ سبب یہ پھل آ پ کی آنکھوں کی صحت کے لیے نہایت مفید ہے ، اگر آپ میں وٹامن اے کی کمی ہے یا نظر کمزور ہے تو سپلیمنٹس لینے کے بجائے گرمیوں کا یہ پھل کھائیں، یہ آپ کے لیے غذا بھی ہے اور دوا بھی ۔
پوٹاشیم سے بھر پور پھل
پوٹاشیم انسانی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے ، پٹھوں کو مضبوط بنانے، متاثرہ پٹھوں کو دوبارہ سے صحت مند بنانے ، بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے اور دل کی صحت میں معاون منرل پوٹاشیم تازہ آموں میں زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے ۔
فائبر سے لیس
آم میں ڈائیٹری فائبر بھی اچھی خاصی مقدار میں پایا جاتا ہے ، جو وزن بڑھنے کے عمل کو روکتا ہے ، معدے کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ، قبض کی شکایت دور کرنے سمیت پیٹ کی دیگر بیماریوں سے بچاتا ہے، نظام ہاضمہ کو مضبوط بناتا ہے ۔
آم وزن نہیں بڑھاتا
آم کھانے سے وزن نہیں بڑھتا ، آم میٹھا ضرور ہوتا ہے مگر دوسرے پھلوں کی طرح غذائیت ، وٹامنز اور منرلز سے بھر پور پھل ہے ، اس کے استعمال سے مجموعی صحت پر مثبت اثرات آتے ہیں ۔
آم دوپہر یا رات کے کھانے کے ساتھ ملا کر کھانے کے بجائے اسے بطور ایک مکمل غذا استعمال کریں، صبح ناشتے یا رات کے کھانے سے 2 گھنٹے پہلے آم کھانے سے وزن نہیں بڑھے گا ۔
ذیابطیس کے مریض بھی آم کھا سکتے ہیں مگر ایک محتاط مقدار کے مطابق ۔
آم کھانے سے بالوں اور جلد کی صحت بھی اچھی ہوتی ہے ۔
آم کھانے سے کیل مہاسوں کی شکایت ہو سکتی ہے جس سے بچنے کے لیے اسے کھانے سے پہلے انہیں ٹھنڈے پانی میں بھگو دیں ، 15منٹ بعد کاٹ کر کھا لیں ۔