آپ آف لائن ہیں
بدھ14؍ذی الحج1441ھ5؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا نے گلوبلائزیشن کا خواب چکنا چور کردیا

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر کوویڈ19-کی صورتِ حال آئندہ ایک سال تک برقرار رہی اور اس کے نتیجے میں دنیا کی آدھی آبادی کورونا وائر س سے متاثر ہوجائے تو ایک فیصد شرحِ اموات کے ساتھ بھی دنیا بھر میں کم از کم ساڑھے تین کروڑ افراد زندگی کی بازی ہار سکتے ہیں۔ اس کا تقابلی جائزہ اگر ایک صدی قبل آنے والے اسپینش فلو سے کیا جائے تو اس سے تقریباً 50کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے، جب کہ پانچ کروڑ اموات واقع ہوئی تھیں۔

معاشی اور معاشرتی اثرات

نئے کورونا وائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی وبا صرف صحت کا عالمی بحران ہی نہیں۔ اس کے نتیجے میںعالمی معیشت ریزہ ریزہ ہوکر بکھر چکی ہے اور تقریباً دنیا کی ہر معیشت ہی منفی زون میں جاچکی ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بھر کی یہ معیشتیں کب تک بحالی کی راہ پر گامزن ہوسکیں گی، بشرطیکہ تمام حکومتیں عوام کو کم از کم تن دوری کے قانون اور دیگر ایس او پیز پر عمل درآمد کا پابند بناسکیں۔

ایٹلانٹک کونسل کی تحقیق کے مطابق، عالمی معیشتوں کی بحالی V(یعنی تیز رفتار اور فوری بحالی)کی شکل میں ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ اس کے بجائے یہ بحالی انتہائی مشکل اور طویل ہوگی، جس کے نتیجے میں دنیا کے کئی خطوں میں سماجی ا ور سیاسی افراتفری پیدا ہوسکتی ہے۔ مثلاً، تیز رفتار معاشی بحالی کی غیرموجودگی میں، مڈل کلاس میںہونے والے اضافے اور غربت کے خاتمے یا کمی کے لیے کی جانے والی حالیہ کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ وہ امیر ملک جہاں مڈل کلاس پہلے ہی دباؤ میں ہے، وہاں بے روزگاری میں اضافے اور آمدنیوں میں کمی یا ٹھہراؤ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر معاشرتی بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔

گلوبلائزیشن کا خاتمہ؟

اسپینش فلو نے پہلی جنگِ عظیم کے باعث ہونے والی اموات میں بے پناہ اضافہ کردیا تھا۔ ایک صدی قبل آنے والی اس وبا کے گلوبلائزیشن کے دوسرے مرحلے پر بھی اثرات دیکھے گئے تھے۔ اس وقت دنیا جہاں جمہوریتوںکے لیے محفوظ دنیا کے خواب دیکھ رہی تھی، پہلی جنگ عظیم کے بعدیورپ میں فاشزم اور کمیونزم کو اُبھرتے دیکھا گیا۔ امریکا نے لیگ آف نیشنز میں شمولیت سے انکار کرتے ہوئے ایسے ڈریکولائی قوانین متعارف کرائے جس نے بڑے پیمانے پر امیگریشن کو ختم کرکے رکھ دیا تھا۔ نیز، امریکا نے دنیا پر اپنی پیٹھ موڑ دی تھی۔

کیا کوویڈ19-کے بعد کی دنیا، تاریخ کو پھر سے دُہرائے گی؟ کوروناوائرس سے پیدا ہونے والی وبا کے پھیلنے سے قبل ہی ایسے شواہد ظاہر ہونا شروع ہوچکے تھے کہ دنیا گلوبلائزیشن کے خلاف جارہی ہے۔ امریکا اور یورپ کی حکومتوں اور عوام میںامیگریشن کے خلاف جذبات میں اضافہ اور تجارتی رقابت اس کی چند مثالیں ہیں۔ ایسے میں کیا کورونا وائرس کے بعد کی دنیا میں توازن، عالمی اشتراک اور عالمگیریت کے برخلاف قوم پرستی، عوامیت پسندی اور مطلق العنانی کے حق میں چلا جائے گا؟

مستقبل ریجنلائزیشن کا ہے؟

یورپ اس بحران میں ایک کمزور حالت میں داخل ہوا ہے۔ بریگزٹ، عمر رسیدہ آبادی اور متنازعہ جرمن انتخابات؛ یورپ کو کوویڈ19-سے قبل ہی ان مسائل کا سامنا تھا۔ کوویڈ19-کے بعد کی دنیا یورپ کے لیے اس سے بدتر ہوسکتی ہے۔ اٹلی میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کے بعد دنیا نے یورپ کو مزید بکھرتے دیکھا، یورپی ملک یونین کا حصہ ہونے کے ناطے بجائے اس کے کہ سرجوڑ کر بیٹھتے اور اس وبا سے نمٹنے کے لیے یکساں اجتماعی پالیسی اپناتے، ہمیں ہر ملک انفرادی پالیسی اپناتے نظر آیا۔ سرحدوں کی بندش، حفاظتی اور طبی سامان کے حصول کی جنگ، معاشی امدادی پیکیج وغیرہ۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ یورپ ان ڈھانچہ جاتی مسائل کے سامنے ایک رہتے ہوئے آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں بہتر معاشی اور پالیسی تعاون پر متفق ہوپائے گا یاہم اسے مزید بکھرتے دیکھیں گے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں ہم گلوبلائزیشن کے بجائے ریجنلزم کو فروغ پاتے دیکھیں گے۔ امریکی بلاک، ایشیائی خطہ اور یورپی زون ۔ اور یہ سب خطے تجارت، ثقافت، کرنسی اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں خود انحصاری کی طرف بڑھنے کی کوشش کریںگے۔ ہم مضبوط ریجنل کرنسی بلاک بھی بنتے دیکھ سکتے ہیں جیسے 80اور 90کے عشرے میں یورپ میں جرمن ڈوئچے مارک، ایشیا میں جاپانی ین اور امریکی خطے میں ڈالر۔

آج یورپ میں ڈوئچے مارک کی جگہ یورو لے چکا ہے، جبکہ ایشیا میں چین کے اُبھرنے کے بعد صورتِ حال کچھ پیچیدہ ہوچکی ہے۔ ہرچندکہ ین کو ایک مضبوط ریزرو کرنسی تصور کیا جاتا ہے، مکمل طور پر تبدیلی کے قابل نہ ہونے اور چین پر عدم اعتماد کے باوجود،یوآن تیزی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ طویل مدت میں چین اپنی عالمی حیثیت کو پختہ کروانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ جہاں تک بریکس (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا) کا تعلق ہے، یہ تمام ممالک اپنے خطے کے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ جڑ جائیں گے، جہاں سپلائی چین میں کوویڈ بحران سے قبل ہی خلل پڑنا شروع ہوچکے تھے۔

معاشی امداد

کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے جس برق رفتاری کے ساتھ غیرمعمولی حجم کے مالی اور مالیاتی پیکیجز کا اعلان حکومتوں اور مرکزی بینکوں کی طرف سے کیا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ صرف امریکا میں کانگریس اور وہائٹ ہاؤس نے ریلیف کی مد میں دو اعشاریہ چار ٹریلین ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے، جبکہ امریکا کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے مارکیٹس میں چھ ٹریلین ڈالر مالیت کی لیکویڈٹی ڈالنے کا اعلان کیا ہے۔

دونوں ملاکر مجموعی طورپر ان کا حجم، مجموعی امریکی معیشت کے ایک تہائی تک جا پہنچتا ہے۔ صرف رواں مالی سال امریکا کا وفاقی بجٹ خسارہ چار ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے بعد امریکا کا مجموعی سرکاری قرضہ مجموعی قومی پیداوار کے 100فیصد سے تجاوز کرجائے گا۔

پاکستان نے بھی کوویڈ کے اثرات سے اپنے عوام اور ملکی معیشت کو محفوظ رکھنے کے لیے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس کی مالیت 1,200ارب روپے سے زائد ہے۔ مزید برآں، صوبائی حکومتوں نے بھی کچھ اعلانات کیے ہیں۔ مزید برآں، مرکزی بینک نے دو ماہ سے کم مدت میں بنیادی شرحِ سود میں سوا پانچ فی صد کی ریکارڈ کمی کی ہے۔

دنیا بھر میں دی جانے والی اس مالی امداد کی ایک قیمت ہے۔ لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اس کے نتیجے میں ٹیکسوں میں کس طرح اضافہ ہوگا، حکومتیں کس طرح زیادہ مضبوط ہوں گی اور معاشی شرحِ نمو کس طرح تیز ہوگی۔ کوویڈ بحران کا ایک نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ آئندہ پانچ سے سات برسوں میں دنیا کی نظریں امریکا اور یورپ سے ہٹ کر اُبھرتی ہوئی منڈیوں پر مرکوز ہوجائیں۔

کون متاثر ہوسکتا ہے؟

ویسے تو کورونا وائرس کسی بھی شخص کو متاثر کرسکتا ہے لیکن عام خیال یہ ہے کہ بچے، بیمار اور 50سال سے زائد عمر کے افراد اس وائرس کا آسانی سے شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔ تاہم پاکستان میں ابتدائی اعدادوشمار سے پتہ چلا کہ اس وائرس سے متاثرہ لوگوں میں 24فیصد کا تعلق 21سے 30سال کی عمر سے ہے۔ اس کی ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ پاکستان کا شمار غذائیت کی کمی (Malnourished) والے سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے۔ مضبوط قوت مدافعت اعلیٰ معیار کی خوراک سے حاصل کی جاسکتی ہے جبکہ ہمارے یہاں تقریباً ہر چیز میں ملاوٹ ہوتی ہے یا پھر وہ اعلیٰ معیار کی نہیں ہوتیں۔

قوت مدافعت بڑھائیں

قدرت نے ہمیں قوت مدافعت کی صورت میں ایک بہترین تحفہ عطا کیا ہے۔ ہمارے جسم میں کچھ ایسے کیمیکلز اور سیلزپیدا کیے ہیں، جن کی مدد سے ہم کسی بھی بیماری کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ قوت مدافعت کو بڑھانے میں خوراک انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

٭ اگر ہماری خوراک میں ضروری وٹامنز کی کمی ہو جائے بالخصوص وٹامن سی کی تو ہماری قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے۔ ہری مرچ، بروکلی، امرود، اسٹرابیری، پپیتا، لیچی اور ترش پھل جیسے کہ کینو، سنگترا، مالٹا، نیبو وغیرہ میں وٹامن سی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ لہٰذا اگر ہم اپنی خوراک میں ان غذاؤں کا استعمال کریں تو ہمارے اندر وٹامن سی کی کمی پوری ہوجائے گی۔

٭ ایک اور اہم بات یہ کہ اگر ہمارے جسم میں پانی کی کمی ہوگی تو اس سے بھی قوت مدافعت متاثر ہوگی۔ کوشش کرنی چاہیے کہ ہم بار بار پانی پیتے رہیں، بہتر تو یہ ہے کہ دن بھر میں 8سے 12گل اس پانی پی جائیں۔ پانی ہمیشہ روم ٹمپریچر پر پینا چاہیے (ماہرین نیم گرم پانی پینا بھی تجویز کرتے ہیں)۔

٭ جسم میں اگرنمکیات کی کمی ہو تو یہ بھی قوت مدافعت کو متاثر کرتی ہے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے تازہ پھلوں کا رس اور ہری سبزیاں مفید ہوتی ہیں۔ ٹماٹر، کھیرا، گاجر اور چکندر کا جوس بھی اس حوالے سے کافی مفید سمجھا جاتا ہے۔

٭ خالص شہد اور زیتون کے تیل سے بھی قوت مدافعت بہتر ہوتی ہے۔

٭ خشک میوہ جات کے بھی بےشمار طبی فوائد ہیں۔ اعتدال کے ساتھ ان کا استعمال انسانی جسم کو مضبوط اور توانا بناتا ہے۔ روزانہ ایک مٹھی خشک میوہ جات کا استعمال صحت کیلئے بہتر ہے۔ خشک میوہ جات میں بادام، پستہ، کاجو، اخروٹ، انجیر اور چلغوزے شامل ہیں۔ ان میں بہت سے منرلز، وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیںجو قوت مدافعت کو بڑھانے میں معاون ہوتے ہیں۔

٭ جتنا زیادہ ہم اینیمل پروٹین (گوشت)  کھائیں گے اتنی ہی ہماری قوت مدافعت کم ہوگی اور جتنا ہم پلانٹ پروٹین کھائیں گے اتنی ہی ہماری قوت مدافعت بہتر ہوگی۔ لہٰذا دالیں، چنے، مونگ پھلی، تخم بالنگا، لوبیا، پھلیاں، جو، آلو اور گہرے سبز رنگ کی سبزیوں کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔

٭ ذہنی دباؤ (Stress) اور ذہنی تناؤ (Tension) دونوں ہی قوت مدافعت کو کافی زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ لہٰذا تمام جھگڑوں، تنازعات اور ذہنی خلفشار سے دور رہیے، اپنے ذہن کو پُرسکون رکھیں اور نیند پوری کریں۔ ایک اور اہم بات کہ رات کے وقت موبائل کو زیادہ مت استعمال کریں بالخصوص تفریحی مقاصد کے لیے کیونکہ رات سونے کے لیے ہوتی ہے اور آپ کا ذہن سونا چاہتا ہے۔ جب آپ موبائل استعمال کرنے کی وجہ سے نیند لینے میں تاخیر کرتے ہیں تو آپ کی نیند متاثر ہوتی ہے اس سے آپ کا پورا جسم تناؤ کی کیفیت میں رہتا ہے۔

گھر پر مثبت سرگرمیاں

ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے باعث بعض افراد گھر میں رہ کر اپنے دفتری امور انجام دے رہے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جنھیں فرصت کے لمحات میسر آئے ہیں۔ فطرتاً ہم گھومنے پھرنے اور سماجی میل جول رکھنے والے لوگ ہیں، ایسے میں کئی افراد کے لیے گھر پر وقت گزارنا مشکل ہورہا ہے۔ لیکن اگرہم صرف یہی سوچ لیں کہ لاک ڈاؤن کے باعث جب گھر پر رہ کر وقت گزارنامشکل معلوم ہورہا ہے تو خدانخواستہ اگر بداحتیاطی کی وجہ سے کورونا وائرس کا مرض لاحق ہوگیا تو کم از کم 14دن سب سے الگ ایک کمرے میں رہنا پڑے گا، یہ سوچ یقیناً آپ کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور کرے گی۔ ہمیں چاہیے کہ گھر پر مثبت سرگرمیوں میں وقت گزاریں اور گھر والوں کو معیاری وقت دیں۔

٭ اگر آپ گھر میں دفتری امور انجام دے رہے ہیں تو اس کا وقت متعین کرلیں۔ یہ نہیں کہ رات دیر تک جاگے اور صبح دیر تک سوتے رہیں اور جب مرضی ہوئی تب کام کرلیا۔ اپنے آپ کو منظم کریں اور ہر کام کے لیے وقت مقرر کریں۔

٭ اپنے بچوں کے ساتھ مختلف کھیل کھیلیں اور ان کو پڑھائیں۔ جب آپ بچوں کے ساتھ وقت گزاریں گے، مختلف سرگرمیاں کریں گے تو انھیں دلی طور پر بہت اچھا محسوس ہوگا۔

٭ بچوں کو کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں  آگاہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ان پر عمل کریں۔

٭ اگر آپ نے اب تک اپنی زندگی کا کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا ہے تو یہ بہتر وقت ہے کہ آپ لائحہ عمل بنائیں اور اپنی زندگی کے اہداف کا تعین کریں۔

٭ آپ اپنے گھر کے وہ تمام کام کرڈالیں جو وقت کی کمی کے باعث التواء کا شکار تھے۔ ساتھ ہی گھر کے امور میں خاتون خانہ کا ہاتھ بٹائیں۔

٭ روزانہ ورزش کرنے کا وقت متعین کریں، اس طرح آپ خود کو فٹ بھی رکھ پائیں گے اور قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہوگا۔ ورزش کی مختلف ویڈیوز انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں، ان میں سے جو آپ کو بہتر لگے اس پر عمل کریں۔ 

کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

آپ اور آپ کے خاندان کو کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری سے بچاؤ کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر لازماً اختیار کرنی چاہئیں:

  • باقاعدگی سے ہاتھ صابن کے ساتھ 20سیکنڈ تک دھوئیں
  • کھانسی یا چھینک کی صورت میں اپنے منہ کو رومال، ٹشو پیپر یا اپنی آستین سے ڈھانپیں
  • اپنے ہاتھوں کو آنکھوں، ناک اور منہ پر لگانے سے اجتناب کریں
  • نزلہ یا زکام سے متاثرہ افراد سے دور رہیں
  • پرہجوم جگہوں پر جانے سے اجتناب کریں
  • بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری کی صورت میں ڈاکٹر سے فوری طور پر رجوع کریں