آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’عید ‘‘نے دروازے پر دستک دے دی ہے ۔لیکن کریں گی کیا ؟ہمارا مشورہ ہے عارضی کے بجائے دائمی خوشیاں سمیٹ لیں ،کیوںکہ فی الحال عارضی خوشیاں حاصل کرنے کے لیے ذرائع قریباً بند ہیں جو ہمیں نئے لباس ،اچھا کھانا ،شاپنگ اور تفریح سے حاصل ہوتے ہیں ،جب کہ دائمی خوشی دوسروں کو خوشی پہنچا کر ،ان کی مدد کر کے ان کے لیے آسانیاں پیدا کر کے حاصل ہوتی ہے ۔عارضی خوشیاں حاصل کرنےکے ذرائع جو قریباً محدود ہیں اس کی وجہ سے مردوں کی بڑی تعداد آج کل بہت خوش اور مطمئن ہے ۔لاک ڈائون میں نرمی تو عید سے پہلے ہوگئی ،مگر شاید ماسک اور سماجی فاصلہ رکھنے اورSOPs پر عمل در آمد کرنے اور کروانے کی وجہ سے وہ چاند رات کی رونقیں نظر نہ آئیں ،مگر یہ توطے ہے کہ ہم سب چاند رات تو کیااس سے پہلے ہی ساری پابندیاں توڑ کر باہر نکل آئیں گے ،کہ ہم سے زیادہ بے خوف قوم اور کوئی نہیں۔ 

لیکن ہمارا مخلصا نہ مشورہ ہے،گرچہ چوڑیوں اور منہدی کے بغیر عید کچھ پھیکی سی ہوتی ہے ۔پارلر جاکر لگو انہیں سکتیں ،اس لیے گھر پرخود ہی لگالیں۔جسے بچپن میں تھوڑی سی مہندی ہتھیلی پر رکھی اور مٹھی بند کرلی یا ہتھیلی کے درمیان ایک گولہ بنایا مہندی سے اور انگلیوں کی پوروں پر لگالی ،کا م ختم مگر اب تو یہ مہندی بہت محنت اور نفاست سے لگائی بلکہ لگوائی جاتی ہے ۔مہندی نے بھی کیا خوب سفر طے کیاہے ۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مہندی ہتھیلی سے نکل کر ہاتھوں کی پشت تک پہنچ گئی ،پھر یہ ہاتھوں کی پشت سے ہوتی ہوئی پہلے کلائی اور پھر کہنیوں اور بازئوں تک جا پہنچی ۔

کرونا کی وجہ سے بہتر ہوگا کہ گھر میں ہی کون کے ذریعے سادہ سی مہندی لگائیں اور بچیوں کو بھی لگادیں ۔بہت زیادہ چاہیں تو مہندی سے ہاتھ پر عید مبارک لکھ لیں اور چوڑیاں بھی بازار جاکر پہنتے کے بجائے خود ہی پہن لیں ،تا کہ آپ اور آپ کے گھر والے محفوظ رہیں ۔کیا کپڑے تیار ہیں آپ کے اور بچوں کے عید کے ؟ہم نے تواس بار خود سےا پنے اور بچوں کے لیے نئے ماسک تیار کر لیئے ہیں ۔زنانہ اور مردانہ ماسک اپنے اور بچیوں کے ماسک موتیوں اور ستاروں کوٹانک کر اور چمکیلی لیس اور گوٹا لگا کر بنائے ہیں ،جب کہ مردانہ ماسک سادے ہیں ۔آپ بھی ماسک تیار کرلیں ۔نئے کپڑے تیار ہوں نا ہوں نئے ماسک تو ضرور ہونے چاہیں ،’’آخر لوگ ہمارا چہرہ ہی تو دیکھتے ہیں ‘‘۔اس عید پر صرف آئی میک اپ سے کام چلا یا جا سکے گا ۔ہونٹوں پر تو صرف لپ بام ہی کافی ہے ،لپ اسٹک کی بچت ۔

ناں آپ ماسک کی میچنگ کا آئی شیڈو لگا سکتی ہیں اور ماسک ہی کی میچنگ کے کانوں میں بندے اور ٹوپس بھی پہن سکتی ہیں ۔اس عید پر الیں اور پینز کی پابندی بر قرار رہے گی ۔ماسک باندھ کر رکھیں ۔ہاتھ نہ ملائیں،گلے نہ لگائیں ،فاصلہ بر قرار رکھیں ۔اور وہ جو عید کا دن ہے گلے لگاکر ملئے ، سب خواب ہوا بلکہ خاک ہوا ۔زیادہ سے زیادہ چار پانچ افراد پر مشتمل دعوت /پارٹی ہوسکتی ہے ۔وہ بھی سوشل ڈسٹینسگ کے ساتھ ویسےاس تکلف کی کیا ضرورت ہے ،دوست احباب سے فون پر ملاقات کرلیں اور دعوت کا اہتمام گھر کے اندر ہی کرلیں ۔

یاد ہے بچپن میں بہن بھائی آپس میں کھیل کے دوران ایک دوسرے کے مہمان بن کر ایک ہی گھر میں ایک سے دوسرے کمرے میں جاتے تھے اور کھلونے والی پیالیوں اور گلاسوں میں شر بت اور چائے سے تواضع بھی ہوتی تھی ۔ہم نے تو بالکل اسی طرح اپنے بچوںاور ساس کے بچے کو گھر کے ڈائننگ روم میں ان کی پسند کے کھانے بنا کر دعوت پر بلانے کا ارادہ کرلیا ہے ۔میز بھی اچھی سی سجائیں گے اور موم بتیاں بھی جلائیںگے ۔بہت خوش کن تجربہ ہوگا،آپ بھی کر دیکھیں ۔بچوں کو عیدی بھی ضرور دیں ۔اپنے ملازمین او ر ان کے بچوں کو بھی یاد رکھیں ۔اس عید کو بھر پور طریقے سے منائیں یاد گار بنائیں ،کیوں کہ ایسی پابندیوں سے بھر پور نہ رمضان دوبارہ آئے گا اور ناہی ایسی عید ۔بلکہ خدانہ کرے کہ ہم یا ہمارے بچے کبھی کسی وباء کا سامنا کریں اور کسی وباء کے دنوں میں رمضان ،عید یا کوئی تہوار منائیں۔ہماری طرف سے ’’دلی عید مبارک ‘‘