آپ آف لائن ہیں
بدھ23؍ذیقعد 1441ھ 15؍ جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شاعر قمر بدایونی نے تہوار ’’عید ‘‘کے لیے کیا خوب شعر کہا تھا کہ ،’’عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم .......رسم دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے‘‘.....یقیناًعید کا موقع بھی ہے اور گلے ملنے کی رسم بھی لیکن،کورونا کی وباء نے بلاشبہ’’ دستور‘‘ بدل دیا ہے۔

اس وباءکے باعث کی جانے والی سماجی دوری اور لاک ڈاون نے زندگی کے اطوار ہی تبدیل کردیے ہیں۔نوجوان نسل ،جو عید کے موقعے پر اپنا الگ ہی رنگ ڈھنگ لیے ہوتی ہے ، لاک ڈاؤن اور کورونا کے ’’اصول وضوابط‘‘کے مطابق جینے پر مجبور ہے۔اس وباء کے باعث زندگی میں تو تبدیلی آئی ہی ہے،ساتھ ہی ریت وروایات بھی معدوم ہوئی ہیں۔عید کی روایتی گہما گہمی اور رونقوں کے ماند پڑجانے کے حوالے سے ہم نے چند نوجوانوں سے بات چیت کی ہے،اُن کے دل چسپ جوابات نذر قارئین ہیں:

حسان ضیاء

میٹرک کے طالب علم حسان ضیاء نے بتایا کہ،جب سے ہو ش سنبھالا ہے،ہمیں پہلی مرتبہ ایسی عید دیکھنے کو ملے گی ،جس میں شاید تفریح اور خوشیاں نہ ہو ں،کورونا وائرس کی وجہ سےہمیں والدین کی جانب سے میل جول میں احتیاط برتنے کوکہا جا رہا ہے۔ ماضی میں ہم نے ایسا کبھی نہیں دیکھا ،اس لئے یہ سب کچھ ہمارے لئے بالکل نیا ہے ،ہماری خواہشات تو بہت ہیں مگر2020ءکی عید میں ہم وہ خوشیاں نہیں مناسکتے جیسے ہر سال مناتے تھے۔

ہم ایک لمبے عرصے سے گھروں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں، ورنہ ہماری تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ تفریحات کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا، ہم دوستوں اور رشتے د اروں سے ملنے جاتے تھے ،مگر اب شاید ایسا نہ ہو سکے، کیونکہ والدین ہمیں گھر سے نکلنے ہی نہیں دے رہے، وہ کہتے ہیں کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے سماجی فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔ 2019ءتک کی عیدیں ہمارے لئے نہ صرف یاد گار بلکہ خوشیوں کا باعث بھی تھیں ، ہم رشتے دارو ں سے عید ملتے تھے، ہمیں عیدی بھی ملتی تھی، شاید اب ہمیں عیدی بھی نہ ملے ۔اب سماجی فاصلے کی وجہ عید میں ہم کہیں جا نہیں سکیں گے۔ اس لئے کوشش کریں گے کہ اس عید کو گھر میں رہ کر ہی پرجوش بنائیں ، گھر میں والدہ سے کہہ کر اچھے کھانے بنوائیںگے اور فیملی کے ساتھ اچھا وقت گزاریں گے، تاکہ عید اچھی ہو جائے۔

اسامہ وحید

انجینئرنگ کے طالب علم اسامہ وحید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ماہ رمضان کے اختتام پر اللہ تبارک تعالیٰ اپنے بندوں کو عبادت کے صلے میں تحفے میں عید دیتا ہے،لہذا ہمیں عید کو خوشیوں کے ساتھ منانا چاہیے، چوں کہ عید تو ہے ہی ملنے ملانے کافیسٹیول ،لیکن اس مرتبہ کورونا کی وباء کے باعث حالات مختلف ہیں،لوگوں سے ملے بغیر ہی عید منانی ہے۔یقیناًیہ عید ماضی کی عیدوں سے مختلف ہوگی۔

مجھے سب سے زیادہ دکھ تو اس بات کا ہے کہ چوں کہ لوگوں سے زیادہ ملنا ملانا نہیں ہوگا تو عیدی بھی اس مرتبہ نہیں ملے گی یا بہت ہی کم ملے گی۔عام طور پر عید کا دن زیادہ تر سو کر ہی گزرتا ہے لہذااس مرتبہ کورونا کی وجہ سے زبردستی سونا ہی پڑے گا۔والدین کی طرف سے بھی باہر جانے کی سخت ممانعت ہے،سچ پوچھیں تو وہ رونق ہی نہیں ہے جو ہمیشہ ہوتی تھی،اگر ہم عید میں جوش و خروش لانا چاہتے ہیں تو ویڈیو کالنگ کے ذریعے رشتے داروں اور دوست احباب سے عید مل سکتے ہیں اور کورئیر کے ذریعے بھی عیدی بھجوائی جا سکتی ہے۔

ماہا عارف

بی بی اے کی طالبہ نے افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی عید کی بات ہی اور تھی،رمضان بھر ہم روزہ رکھ کر اسکول ،کالج ،یونیورسٹی جاتے تھے اور عید کی چھٹیوں کا انتظار کرتے تھے،اس وجہ سے عید کی خوشی دگنی ہوتی تھی کہ ساتھ میں چھٹیاں بھی ملتی تھیں،لیکن اس برس ہم دو ماہ سے گھر پہ بیٹھے ہیں ۔ 

عید کی چھٹیوں اور گہما گہمی کی وہ بات نہیں جو ہر سال ہوتی ہے۔ہر سال ہی ماہ رمضان میں یونیورسٹی سے آکر عبادت کرنا اور افطاری کی تیاری میں امی کا ہاتھ بٹانا معمول تھا،کورونا کی وجہ سے اب چوں کہ گھر پہ ہیں تو باقاعدگی سے کہیں آنا جانا نہیں ہے،اس وجہ سے خاص کر طلبہ سستی کاہلی کا شکار ہوگئے ہیں،آن لائن کلاسز بھی ایک ہی جگہ بیٹھ کر گزر جاتی ہیں، بوریت بہت زیادہ ہے۔عید کے دن سہیلیوں سے عید ملنا،رشتے داروں کے گھر جانا اور خاص کر عیدی لینا بہت یاد آئے گا،لیکن اس مرتبہ عید کو تھوڑا پر جوش بنانے کے لیے سہیلیوں اور رشتے داروں سے ویڈیو کال کے ذریعے عید مل سکتے ہیں۔

اسریٰ وحید

ڈی فارم کی طالبہ اسریٰ وحید نے کہا کہ اس برس عید بہت مختلف ہوگی۔ابھی تک ہماری زندگی میں ایسی کوئی عید نہیں آئی تھی جس میں ہم گھرسے باہر نہ گئے ہوں یا رشتے داروں سے نہ ملے ہوں۔ہر عید ہی ہم بہت جو ش وخروش سے مناتے ہیں،لیکن اس مرتبہ نہ رشتے داروں سے ملنے جائیں گے اور نہ ہی عیدی ملنے کا کوئی چانس ہے۔ہر سال شاپنگ سینٹرز سے عید کا نیا جوڑا اور نئی سینڈل خریدناضروری ہوتا تھا،اس مرتبہ آن لائن ہی شاپنگ کی ہے۔

تاہم گھر میں رہتے ہوئے بھی اپنے خاندان کے ساتھ اچھا وقت گزار کر عید کا مزہ لے سکتے ہیں۔کورونا نے زندگی بہت مختلف کر دی ہے،تعلیم پر بھی بہت اثر پڑا ہے،کیوں کہ آن لائن کلاسسز کا بھی کوئی فائدہ نہیں یا سسٹم صحیح نہیں ہے،کیوں کہ جوبات کلاس میں بیٹھ کر پڑھنے کی ہے وہ آن لائن کلاس میں بالکل نہیں ہے۔یہ ایک مشکل وقت ہے ،بہ حیثیت طالب علم ہمیں اس وقت کو سود مند بنانا ہوگا اور ان حالات کو مثبت تبدیلیوں سے اپنے حق میں کرنا ہوگا۔

زکی احمد

طالب علم زکی انور نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ زندگی میں کبھی سوچا نہیں تھا کہ رمضان اور عید روایت سے ہٹ کر منانی پڑیں گی۔نہ ہی بڑوں کو عید کا سلام کرنے ان کے گھر جائیں گے،نہ ہی دعوتیں ہوں گی اور نہ ہی عیدی وصول کر سکیں گے۔ عید ابھی آئی نہیں ہے کہ ماضی کی عیدوں کی یادیں آرہی ہیں،کہ کس طرح چاروں جانب رونقیں ہوتی تھیں۔بس یہی ہوگا کہ گھر میں بیٹھ کر مزے مزے کے کھانے پکوائیں گے۔

اریحہ انور

بی بی اے کی طالبہ اریحہ انور کا کہنا تھا کہ،کورونا وائرس نے زندگی ہی بدل دی ہے۔رمضان اور عیدکی رونقیں متاثر ہوئی ہیں،ہر سال ہی بہت بھرپور طریقے سے رمضان اور عید مناتے تھے،لیکن اس برس کورونا نے نظام ہی درہم برہم کر دیا ہے،ہم گھروں میں محصورہیں ،ایسے میں عید کا موقع آنا اور بھی تکلیف دے رہا ہے کہ ہم اپنے جوش و خروش سے بھرپور تہوار کو بھی نہیں منا سکتے۔عید کا مزہ کرکرا ہو گیا ہے۔

حُنین ضیاء

جماعت نہم کے طالب علم حنین ضیاء کا کہنا تھا کہ، مجھےسال2020کی عید بہت پھیکی لگ رہی کیونکہ کورونا کی وجہ سے ہم گھروں میں محدود ہیں، پہلے عید سے قبل جی بھر کے عید کی شاپنگ کرتے تھے اور خاص اہتمام کرتے تھے مگر اب لگتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔پہلے ہم خود کو آزاد تصور کرتے تھے مگر اب ہر چیز میں احتیاط کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ ہماری تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، گھر پر رہ کر تھک چکے ہیں، کہیں باہر نہیں جاسکتے ،گراؤنڈ میں جا کر کھیل بھی نہیں سکتے، دوستوں سے ملنے میں بھی مشکلات ہیں اور نہ ہی ریسٹورنٹ میں جا کر کھانا کھاسکتے ہیں،کیونکہ وہ بھی بند ہے ۔

گذشتہ عیدوں کی خوشیوں اور رونقوں کو نہیں بھلا سکتے، عید کا نام سن کر ہی ہم خوش ہو جاتے تھے ،مگرلگ رہا ہے کہ اب سب کچھ بدل چکا ہے ۔سماجی فاصلے کی وجہ سے دوستوں اور رشتے داروں سے بھی نہیں مل سکیں گے ۔پہلے کی عید یں تفریحی مقامات پر جا کر پرجوش طریقے سے مناتے تھے مگر اب نہیں جا سکتے کیونکہ تفریحی مقامات بھی بند ہوں گے، مجبوراً گھر میں ہی عید منائیں گے ،مگر ہمیں تو دکھ اپنی عیدی کا کھایا جا رہا ہے ۔اس بار تو عیدی بھی کم ہی جمع ہو گی۔

رابعہ شیخ

ملازمت سے منسلک رابعہ شیخ کا کہنا ہے کہ کورونا کی وباء نے عید کی حقیقی خوشی چھین لی ہے،یہ عید اس لیے بھی مختلف ہے کہ اس وباء کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کو گلے مل کے عید کی مبارک باد بھی نہیں دے سکیں گے۔کیوں کہ جب ہم عید کے دن سارے گلے شکوے مٹا کرگلے مل کرعید کی مبارک باد دیتے ہیں تو روحانی تسکین ملتی ہے،ظاہر ہے اب ایسا نہیں ہوگا،سماجی دوری کی وجہ سے احتیاط ضروری ہے۔

عید کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔ہم آنے والے دنوں کے لیے دعا کر سکتے ہیں کہ حالات معمول پر آئیں۔اس پرمسرت موقعے پرصاحب حیثیت لوگوں کو چاہیے کہ اپنی گلی ،محلے میں بسنے والے لاک ڈاؤن کے باعث مالی مشکلات کا شکار لوگوں کی بھرپور مدد کریں۔

مہرالنساء

ایم فل کی طالبہ مہرالنساء نے کہا کہ،کورونا کی وباء کے باعث ایسا لگتا ہے کہ زندگی ٹھہر سی گئی ہے اور اس مرتبہ عید بھی اسی جمود کی نذر ہوجائے گی،جس میں ہم جذباتی طور پر شایدنارمل نہ ہوں۔نہ ہی کسی سے ملنا ملانا ہوگا اور نہ ہی کوئی تفریح کی جاسکے گی۔کورونا ایک فیز ہے اور اسے ختم ہونے میں بہت وقت لگے گا۔جس طرح رمضان میں افطار پارٹیوں کی کمی محسوس ہوئی ہے اسی طرح عید کی دعوتوں کی کمی بھی محسوس کی جائے گی۔اس برس عید کے تینوں دن فیملی کے ساتھ ہی گزریں گے ،جس طرح گزشتہ ڈھائی ماہ گزرے ہیں۔

مہ وش نقوی

فزیالوجی میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے والی مہ وش نقوی نے کہا کہ،اب کے برس کی عید بلاشبہ ماضی کی عیدوں سے مختلف اور مشکل بھی ہوگی۔عید کی روایت ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں ،گھروں میں جا کے عید کی مبارک باد دیتے ہیں،لیکن صد افسوس کہ اس مرتبہ ایسا کچھ نہیں ہوسکے گا کیوں کہ کورونا کی وجہ سے ہماری روایات کو بھی دھچکہ لگا ہے۔

ظاہر ہے زندگی تبدیل ہوئی ہے،اب ہمیں کورونا کے مطابق عید منانی ہے۔اس مرتبہ ہم رمضان کی رونقیں بھی کھو چکے ہیں لہذا عید کا وہ جوش خروش نظر نہیں آرہا جو ہمیشہ ہوتا تھا،لیکن عید تو منانی ہے ،آن لائن شاپنگ اور عید کے پیغامات بھیج کر ہلکی پھلکی عید مناہی لیں گے۔

ایس ایم مجتبیٰ

ایم اے کے طالب علم ایس ایم مجتبیٰ کا کہنا تھا کہ برصغیر میں ہر تہوار ہی روایتی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے،جس کے اپنے ہی رنگ اور رونقیں ہوتی ہیں۔خاص کر ہمارے مذہبی تہوار’’عید‘‘کی الگ ہی بات ہے۔ہم جتنے خلوص اورجوش کے ساتھ اس تہوار کو مناتے ہیں شاید ہی کوئی دوسراایونٹ ایسا ہوتا ہو۔یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے کے لوگ گلے مل کر ایک دوسرے سے شکوے شکایات دور کر لیتے ہیں،موجودہ صورتحال جوکہ پوری دنیا میں ہی یکساں ہے،یقیناًاس عید کو بھی متاثر کرے گی۔میل ملاپ کا سلسلہ تو خیر دو ماہ سے ہی مفقود ہے ،رمضان المبارک میں بھی افطار پارٹیاں نہ ہوسکیں،اسی طرح اب عید ملن پارٹیاں بھی نہیں ہوں گی،یعنی عید کے موقع پر ہونے والا روایتی ’’ہلہ گلہ‘‘نہیں ہوگا۔

کیوں کہ عید کی روایتیں جن سے ہمیں معاشرے میں سیکھنے کاموقع ملتا تھا ان سے ہم محروم رہیں گے۔معاشی حوالے سے بات کی جائے تو عید کے تہوار سے بڑے سے بڑےسرمایہ دارسے لے کرفٹ پاتھ پر چوڑیوں کا اسٹال لگانے والا ایک عام دکان دار بھی اچھے پیسے کما لیتاتھا، اب یہ سلسلہ بھی نہیں ہے۔یقیناًیہ ایک پھیکی عید ہوگی،کیوں کہ ہم فطرتاً ملنے جلنے والی قوم ہیں،ہم جب تک دوستوں میں نہ بیٹھیں،ایک دوسرے سے نہ ملیں جلیں،باہر کھانا نہ کھائیں،ایک دوسرے کے دکھ درد شیئرکرنے ان کے گھر نہ جائیں ،زندگی میں رونق نہیں رہتی۔لہذا کورونا کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا ہے۔

عمیمہ شاہد

نہم کلاس کی طالبہ عمیمہ شاہد کا کہنا ہے کہ عید اور چاند رات کی ہمیشہ بہت تیاری کرتی ہوں،نیا جوڑا،سینڈل،پرس ضرور خریدتی ہوں،لیکن اس مرتبہ کورونا کی وجہ سے جہاں عید کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں ،وہیں اس کی تیاری بھی ادھوری ہے،آن لائن شاپنگ میں نہ کوئی مزہ ہے اور نہ ہی اطمینان اور اس مرتبہ تو سماجی دوری کی وجہ سے مہندی بھی نہیں لگوا سکتی۔اس مرتبہ امی کے ساتھ کچن میں زیادہ وقت گزرے گا۔سب سے زیادہ افسوس ریسٹورنٹس بند ہونے کا ہے،عید کے موقعے پر ہوٹلنگ کرنا بہت یاد آئے گا۔

سلمان احمد

کلاس نہم کے سلمان احمد نے کہا کہ میں ہر سال عید پربہت جوش و خروش سے تیاری کرتا ہوں ،روز انہ بازار جانا،دوستوں کے ساتھ شاپنگ کرنا عید کی سرگرمیوں میں شامل ہے لیکن اس مرتبہ حالات ہی مختلف ہیں، کورونا کی وجہ سے دو ماہ سے گھر سے ہی نہیں نکلا، شدید بوریت کا احساس ہے ۔چاند رات ہو یا عید ہر دن ہی ایک جیسا لگ رہا،چھٹیاں ہیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہیں۔

سید مصور چشتی

کلاس دہم کے طالب علم سید مصورچشتی نے کہا کہ،اس مرتبہ عید ماضی سے مختلف ہوگی یا جیسے کوئی عام سا دن گزر جائے۔ہم اس طرح انجوائے نہیں کر سکیں گے جیسے ہمیشہ کرتے ہیں۔خاص کر نہ سمندر کے کنارے جا سکیں گے اور نہ ہی اچھے ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر کھانا کھا سکیں گے۔اب خود گھر پہ ہی اپنی دعوت کر لیں گے۔

عیدی کا بھی کوئی چانس نظر نہیں آرہا،نئے کپڑے تو امی نے آن لائن منگوا لیے تھے لیکن جوتے شاید پرانے ہی پہننے پڑیں کیوں کہ دکانیں بند ہیں اور اگر کھُل بھی جائیں تو کورونا کا خطرہ تو موجود ہے۔