آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پروفیسر ڈاکٹر رشید جالندھری پر درویش کا کالم چھپا تو محترم شامی صاحب نے لکھا کہ ’’چلیں ڈاکٹر رشید جالندھری کا حق کچھ تو ادا ہوا ہے فرض کفایہ کی ادائیگی پر آپ داد کے مستحق ہیں‘‘۔ جواب دیا کہ ’’سر! حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘‘۔ ادارہ ثقافت اسلامیہ کے موجودہ ڈائریکٹر قاضی جاوید صاحب نے کہا کہ آپ کی ڈاکٹر صاحب مرحوم سے اَنگنت ملاقاتیں رہی ہیں، آپ ان کی مناسبت سے سوانحی اسلوب میں دلچسپ و یادگار واقعات کی تفصیلات بیان کر دیں، ہم بعد ازاں انہیں المعارف کے لئے کیری کر لیں گے۔ عرض کی قاضی صاحب واقعات تو کافی ہیں اور لکھنے کا یارا بھی ہے مگر کیا کریں قومی ہاضمہ بڑا کمزور ہے۔ ہمارے سماجی و حکومتی حالات اور میڈیا جو معمولی باتوں کو بھی برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے، اتنی بڑی شخصیت کے ساتھ لفظ ’’مہاتما‘‘ تک جنہیں کھلتا ہے وہ ڈاکٹر رشید جالندھری جیسے بڑے محقق کی تنقیدی کہانیاں بھلا کیوںکر ہضم کر پائیں گے؟

برادرِ محترم طاہر یوسف صاحب کا فون آیا کہ ’’آپ کے کالم سے مجھے بہت سی نئی باتوں کا علم ہوا ہے ورنہ میں تو یہ سمجھتا تھا کہ مرحوم مخصوص فرقہ وارانہ ذہن سے ہی سوچتے تھے۔ ایک مرتبہ ڈاکٹر صاحب ہماری طرف تشریف لائے تھے تو انہوں نے ’’آواز دوست‘‘ اور مختار مسعود پر بھی تنقید کی تھی‘‘۔ کامل اصلیت تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب ایک جینوئن محقق اور بڑے آدمی تھے، جو لاجک سے بات کرتے تھے اور جواباً منطق کو ہی قبول کرتے، اپنے نظریات میں پختہ تر تھے لیکن سچائی اور انسانیت کے بالمقابل وہ ہر چیز کو نیچے کر دیتے۔ وہ قومیت، لسانیت یا نسلیت کے روایتی تصورات سے کہیں اوپر اٹھ چکے تھے۔ دشمن میں بھی خوبی ہوتی تو سر تسلیم خم کرتے اور اپنوں کی تنگ نظری کو بھی وہ سپاس نامہ پیش نہیں کرتے تھے۔ آوازِ دوست یا اس کا مصنف کیا وہ قائداعظم اور علامہ اقبال کی فکر و سوچ کا تنقیدی جائزہ بھی لاجک و منطق کی مضبوط کسوٹی پر لیتے تھے۔

اقبال کے حوالے سے انہوں نے 1978ءکا ایک واقعہ سنایا جب وہ اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف اسلامک ریسرچ کے ڈائریکٹر تھے تو ضیاء الحق نے انہیں ان کے عہدے سے فارغ کر دیا۔ بعد ازاں جب ان کی صدر ضیاء سے ملاقات ہوئی تو ڈاکٹر جالندھری صاحب کے بقول ’’جنرل ضیاء نے میرے ’’گناہوں‘‘ کی فہرست گنوانا شروع کی جن میں سے ایک الزام یہ بھی تھا کہ میں اقبال کے خلاف ہوں۔ خاکسار نے کہا کہ مجھے آج بھی بال جبریل کم از کم آدھی ضرور زبانی یاد ہے، جو لوگ میرے خلاف مہم چلا رہے ہیں آپ ان کا امتحان لے لیں کہ ان کو اقبال کتنا یاد ہے‘‘۔ ’’جب میں لندن گیا تو پتا چلا کہ یونیورسٹی کے اندر نہ کوئی انگریز یا مسیحی ہے اور نہ کوئی مسلمان۔ جو شخص کام کرتا ہے اس کی لوگ عزت کرتے ہیں۔ آپ ان کے سامنے تقاریر کریں، اسلام کے فضائل گنوائیں، انہیں بتائیں کہ اسلام کا زبردست سیاسی نظام ہے وہ کچھ نہیں بولیں گے، انہیں برا بھلا کہیں پھر بھی چپ رہتے ہیں، وہ شاعری بھی دن کو نہیں رات کو کرتے ہیں، اپنے کام سے کام رکھتے ہیں جبکہ ہمارے لوگوں کا رویہ اس کے الٹ ہے۔ 1965کی جنگ ہوئی تو ہمارے لڑکے جو کیمبرج میں پڑھتے تھے وہ اکثر یونین آفس میں بیٹھ کر لمبی بحثیں کرتے کہ فلاں محاذ پر کون جیت رہا ہے فلاں پر کون؟ خاکسار ان بحثوں سے عموماً الگ تھلگ رہتا، ایک دن ہمارے ایک دوست نے جن کا مضمون سائنس تھا، کہا کہ تمہیں اپنے وطن سے شاید کوئی تعلق نہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ تم لوگ یہاں بیٹھ کر گھنٹوں جنگ پر بحث کرتے ہوئے اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہو، یہاں جس کام کے لئے آئے ہو بہتر ہے کہ وہی کرو‘‘۔

اخوان المسلمون کے بانی شیخ حسن البنا کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حسن البنا بنیادی طور پر ایک اخلاقی مصلح تھے وہ اپنے کردار اور تقاریر سے دوسروں کو متاثر کرتے تھے۔ افسوس ان کی اخلاقی اصلاح کی یہ منظم تحریک اخوان ہی کے ایک عسکری ونگ کے ہاتھوں برباد ہو گئی۔ 1949میں نقراشی پاشا وزیراعظم مصر قتل ہو گئے اور پھر قاہرہ کے مختلف مقامات پر توڑ پھوڑ کے واقعات ہوئے، یہ سارے واقعات اخوان میں مسلح گروپ کے انچارج عبید الرحمٰن السندھی کے ایما پر ہوئے تھے اور مرحوم حسن البنا کے علم میں لائے بغیر ہوئے تھے، اسی وجہ سے شیخ کو شدت سے یہ احساس ہو گیا تھا کہ اب ان کی زندگی کا چراغ بجھ رہا ہے‘‘۔ ڈاکٹر رشید جالندھری مرحوم ان مسلم اسکالرز میں سے ایک تھے جنہیں بہت شروع میں یہ ادراک ہو گیا تھا کہ مسلمانوں میں مذہب کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں میں موجود شدت پسند آنے والے ماہ و سال میں کیا کچھ کریں گے۔علمی، تہذیبی اور تحریکی حوالوں سے عالم عرب میں جو مقام مصر کو حاصل رہا ہے وہ پورے عربستان میں منفرد ہے۔ ترک خلافت کے خلاف عربوں کی بغاوت کو بھی وہ اسی تناظر میں پیش فرماتے تھے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ سیکولر لبرل مسلم اپروچ کے بڑے داعی تھے۔ مصر ہی میں وہ شدت پسندی پر مبنی سوچ کے مقابل جامعہ الازہر کے ان علماء کا ذکر کرنا نہیں بھولتے تھے جنہوں نے سیکولر مسلم تھاٹ کے لئے بھرپور جدوجہد کی۔ ان علماء کے علاوہ وہ جمال عبدالناصر، محمد حسنین ہیکل اور بالخصوص ڈاکٹر طہٰ حسین کے متعلق جو خیالات رکھتے تھے وہ بڑے دلچسپی کے حامل ہیں۔ (جاری ہے)