آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

طیارے کے ملبے سے رینجرز کو مزید جلی ہوئی رقم مل گئی


کراچی میں جہاز گرنے کے مقام پر ملبے سے رینجرز کو مزید جلی ہوئی رقم ملی ہے جسے پی آئی اے حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اب تک 3 کروڑ 1 لاکھ روپے سے زائد کی رقم پی آئی اے کے حوالے کی جاچکی ہے۔

ذرائع کے مطابق جہاز گرنے کے واقعے میں سندھ رینجرز نے ملبے سے ملنے والی مزید رقم پی آئی اے حکام کے حوالے کر دی۔

رینجرز اہلکاروں کو گزشتہ روز ملبے سے 93 ہزار روپے کے جلے ہوئے نوٹ ملے تھے، یہ جلے ہوئے نوٹ دو بٹووں سے ملے۔

اس سے قبل بھی جائے حادثہ سے 3 کروڑ 24 ہزار روپے سے زائد کی جلی ہوئی کرنسی برآمد ہوئی تھی۔

اس سے قبل ملنے والی کرنسی میں 16 لاکھ روپے سے زائد ملکی کرنسی جبکہ دیگر غیر ملکی کرنسی شامل تھی۔

دیگر ملنے والے سامان میں گولڈ اور آرٹیفیشل جیولری، موبائل فونز، لیپ ٹاپس سمیت دیگر قیمتی اشیاء شامل تھیں۔

حادثے کا شکار طیارے کے ملبے سے اس سے قبل ملنے والی بھاری ملکی اور غیر ملکی کرنسی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ رقم غیر قانونی طور پر لاہور سے کراچی لائی جا رہی تھی۔

اس حوالے سے حکام کا کہنا تھا کہ 3 کروڑ روپے سے زائد کی رقم 3 مختلف بیگز میں ملبے سے برآمد ہوئی تھی، ایئر لائن کو مطلع کیے بغیر اتنی بڑی رقم لے کر سفر نہیں کیا جاسکتا، کوئی مسافر اتنی رقم نہ تو لیگج میں رکھ سکتا ہے اور نہ ہی ہینڈ کیری کرسکتا ہے، اتنی رقم فضائی راستے سے لے جانے کے لیے ایک اضافی سیٹ خریدنا پڑتی ہے اور مسافر رقم اپنے ساتھ اضافی سیٹ پر رکھ کر سفر کرنے کا پابند ہوتا ہے۔

ترجمان پی آئی اے کا اس ضمن میں کہنا تھا کہ فلائٹ سے رقم کی منتقلی کی ایئر لائن کے پاس کوئی اطلاع نہیں تھی، کسی مسافر نے کوئی اضافی سیٹ بھی نہیں لی تھی۔

پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق بھاری رقم کے 3 دعوے دار اب تک سامنے آچکے ہیں۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے بھاری رقوم کی منتقلی کے لیے بینکنگ چینل استعمال کرنا ضروری ہے، 2019ء میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر اس ضمن میں طریقہ کار وضع کیا گیا تھا، جبکہ ایکسچینج کمپنیز بھی رقم کی منتقلی بینک کے ذریعے کرنے کی پابند ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: طیارہ حادثہ، 67 افراد کے DNA سیمپل حاصل

اسکینرز سے گزرنے کے بعد بھی اتنی رقم طیارے تک کیسے پہنچی؟ اس بات سے لاہور ایئر پورٹ پر تعینات عملے کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ جمعے 22 مئی کو لاہور سے کراچی آنے والی قومی فضائی ادارے (پی آئی اے) کی پرواز کراچی میں لینڈنگ سے 30 سیکنڈ قبل حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 نے دوپہر 2 بج کر 40 منٹ پر جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لینڈ کرنا تھا۔

طیارہ لینڈنگ اپروچ پر تھا کہ کراچی ایئر پورٹ کے جناح ٹرمینل سے محض چند کلومیٹر پہلے ملیر ماڈل کالونی کے قریب جناح گارڈن کی آبادی پر گر گیا۔

حادثے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی جس نے قریبی آبادی کو بھی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ طیارے کے مختلف حصے ٹوٹ کر آبادی میں بکھر گئے جنہوں نے مکانات کو نقصان پہنچایا تھا۔

طیارے میں سوار 97 افراد کی لاشیں نکال لی گئی تھیں جبکہ 2 مسافر اس حادثے میں محفوظ رہے تھے۔

پاک فوج، رینجرز، پولیس، سول ایوی ایشن، فائر بریگیڈ اور دیگر اداروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں کی گئیں۔

قومی خبریں سے مزید