آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نواز شریف کے وارنٹِ گرفتاری جاری


احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس اور توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کے وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیئے جبکہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی۔

احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو آج عدالت میں طلب کیا تھا۔

سابق صدر اور 2 سابق وزرائے اعظم کے خلاف احتساب عدالت میں سماعت کے دوران سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی عدالت میں پیش ہوئے۔

سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف عدالت میں پیش نہ ہوئے۔

دورانِ سماعت نیب نے عدالت میں یوسف رضا گیلانی اور عبدالغنی مجید کو گرفتار کرنے کی استدعا کر دی۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی کی جانب سے آصف علی زرداری اور نواز شریف کے بھی وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی گئی۔


نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کو سمن ان کی رہائش گاہوں پر وصول کروائے، انور مجید اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، وہاں سمن وصول نہیں کیے گئے۔

وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ سید یوسف رضا گیلانی اور عبدالغنی مجید پیش ہوئے ہیں، ملزم انور مجید اسپتال میں زیرِ علاج ہیں انہیں سفر کرنے کی اجازت نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملزم پیش ہوں تو ان کی حاضری لگا کر جانے کی اجازت دی جاتی ہے، چیئرمین نیب نے وارنٹِ گرفتاری جاری نہیں کیے تو نیب پراسیکوٹر کیسے گرفتاری کا کہہ سکتے ہیں؟

احتساب عدالت کے جج اصغر علی نے کہا کہ آصف علی زرداری کے سمن کی تعمیل چوکیدار سے کروائی گئی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے بتایا کہ قانون کے مطابق ملزم کے ملازم کو سمن کی تعمیل کروا سکتے ہیں، آصف علی زرداری کا طلبی کا سمن وصول کیا گیا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جو ملزمان آج پیش ہوئے ہیں ان کی تو صرف حاضری لگے گی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔

آصف علی زرداری کے وکیل نے کہا کہ آصف علی زرداری اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: نواز شریف کے دو ریفرنسزمیں قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

سماعت کے دوران عدالت میں آصف علی زرداری کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی گئی جس میں ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آصف زرداری علیل ہیں اس لیے انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

احتساب عدالت کےجج سید اصغر علی نے کہا کہ آصف علی زرداری کو صرف آج کی حاضری سے استثنیٰ دے رہا ہوں، آئندہ سماعت پر انہیں ہر صورت عدالت میں پیش ہونا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ میاں نواز شریف کی طرف سے کون پیش ہوا ہے؟

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ میاں نواز شریف کی طرف سے کوئی بھی پیش نہیں ہوا۔

احتساب عدالت نے نواز شریف اور آصف علی زرداری سمیت تمام ملزمان کو 11 جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا جبکہ سمن کی تعمیل کے باوجود عدم حاضری پر نواز شریف کے قابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کیے۔

واضح رہے کہ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف پر تحائف میں ملنے والی گاڑیاں حاصل کرنے کا الزام ہے۔

احتساب عدالت نے 15 مئی کو کیس کی ابتدائی سماعت کے موقع پر پر ملزمان کے سمن جاری کیے تھے۔

قومی خبریں سے مزید