آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گھرمیں ماسک لگانے سے کورونا کا خطرہ 79 فیصد کم ہوگا

بیجنگ /کراچی (نیوز ڈیسک) چینی محققین نے کہا ہے کہ گھروں میں ماسکس لگانے سے کورونا ایک ہی گھر میں رہنے والے خاندان کے دیگر افراد میں پھیلنے سے 79 فیصد تک روکا جاسکتا ہے۔ بی ایم جے گلوبل ہیلتھ میں شائع تحقیق کے مطابق اس سے پہلے کے گھر کے کسی پہلے فرد میں کورونا کی علامات ظاہر ہوں مذکورہ پریکٹس بہت زیادہ موثر ہے تاہم اگر علامات ظاہر ہونا شروع ہوجائیں تو پھر عمل زیادہ کار آمد نہیں ہوتا۔ فیس ماسکس کتنا موثر ثابت ہوتا ہے اس بابت محققین نے بیجنگ میں رہنے والے 124 خاندانوں کے 460 افراد سے سوالات کئے، سوالات میں وباء کے دوران گھر میں صحت وصفائی اور رویوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ ان میں سے تقریباً ہر خاندان کا کم از کم ایک فرد فروری 2020ء سے لیکر مارچ 2020ء کے دوران کورونا سے متاثر ہوچکا تھا۔ خاندان میں رہنے والے افراد کی اوسط تعداد 4 بنتی تھی جبکہ یہ خاندان کم از کم دو یا زیادہ سے زیادہ 9 افراد پر مشتمل تھے اور عام طور پر یہ تین جنریشنز پر مشتمل ہوتے تھے۔ تحقیق کے مطابق گھروں میں روزانہ جراثیم سے پاک کرنے والی اشیاء کا استعمال، کھڑکیوں کا کھلا رکھنا، پرہجوم گھر میں بھی لوگوں سے ایک میٹر کی دوری سے آپ کورونا وائرس کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں۔ تاہم اگرآپ کے گھر میں کسی شخص میں کورونا کی علامات ظاہر ہوجائیں اور اس کے بعد

آپ گھر میں روزانہ ملنے والے افراد سے میل میلاپ کے وقت فیس ماسکس کا استعمال کرتے ہیں تو تب بھی آپ کے کورونا کا شکار ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ اسٹڈی کے مطابق اگر آپ اپنے گھر میں کسی شخص میں کورونا کی علامات ظاہر ہونے سے قبل ہی فیس ماسکس کا استعمال کرتے ہیں تو آپ کورونا کے خطرے کو 79 فیصد تک کم کرسکتے ہیں جبکہ وباء کے دوران جراثیم کش مادوں سے گھر کی صفائی سے آپ کورونا کے خطرے کو 77 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔ اسٹڈی میں یہ سفارشات کی گئی ہے کہ نا صرف عوامی مقامات میں فیس ماسکس کے استعمال کو یقینی بنایا جائے بلکہ گھروں میں بڑے پیمانے پر فیس ماسک کا استعمال ضروری ہے۔ ایسے گھروں میں جہاں کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا اور وہاں کورونا سے متاثرہ افراد کیساتھ 4 روز یا 24 گھنٹے سے زائد ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد کو آگاہی دی گئی۔ محققین اس حقیقت کو جاننا چاہتے تھے کہ کسی بھی متاثرہ شخص میں علامات ظاہر ہونے کے بعد 14 روز کے دورانیہ کے دوران وائرس سے دیگر افراد کتنا متاثر ہوئے یا کس طرح بچے رہے۔ اس دورانیے میں خاندان کے پہلے شخص کے کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد 124 خاندانوں میں سے 41 خاندان متاثر ہوئے۔ اس طرح مجموعی طور پر 77 افراد اور بچے اپنے گھر کے کسی متاثرہ فرد سے کورونا میں مبتلا ہوئے اور اس طرح متاثر ہونے کی شرح 23 فیصد یعنی ایک چوتھائی رہی۔ اسٹڈی کے تیسرے حصے میں بڑوں کے مقابلے میں بچوں کے متاثر ہونے کی شرح 36 فیصد رہی جبکہ بڑوں میں یہی شرح 69.5 فیصد رہی۔ ان میں سے 12 بچوں میں درمیانی درجے کی علامات تھیں جبکہ ایک میں کوئی علامت نہیں تھی۔ متاثر ہونے والے 83 فیصد بڑوں میں بھی درمیانے درجے کی علامات ظاہر ہوئیں جبکہ ہر 10 میں سے صرف ایک شخص میں شدید قسم کی علامات ظاہرہوئیں اور صرف ایک شخص شدید بیمار ہوا۔

یورپ سے سے مزید