آپ آف لائن ہیں
پیر21؍ذیقعد 1441ھ 13؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
کھلا تضاد … آصف محمود براہٹلوی
عالمگیر کورنا وائرس کرائسسز اگر ہم لاک ڈائون سے نکل بھی آتے ہیں تو بھی کورونا کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔ گزشتہ ہفتے کو برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے کورونا وائرس لاک ڈائون میں کچھ نرمی کی گئی جس سے اب سڑکوں پر ٹریفک کی روانی میں اضافے کے ساتھ ساتھ لوگوں کا فیملی و بچوں کے ہمراہ پارکوں کی جانب یا پھر شاپنگ کے لئے آنے جانے میں اضافہ ہوگیا ہے۔پارکوں میں بھی کثیر تعداد میں لوگ رخ کئے ہوئے ہیں۔ نئے بیانیہ کے مطابق چوکس رہیں تاکہ کورونا کو شکست دے سکیں، اوپر سے درجہ حرارت کیا بڑھا کہ گزشتہ سات ہفتوں سے گھروں میں بند لوگ دیوانہ وار باہر نکل آئے۔ لیکن اگر مارکیٹس کا رخ کرتے ہیں تو سماجی فاصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے آ پ کو لمبی قطاریں نظر آئیں گی۔ ایک اور بات جس نے توجہ مبذول کروائی کہ جس طرح سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے پیلی، سرخ لائٹس لگی ہوتی ہیں۔ پارکنگ کے نشانات لگے ہوتے ہیں ایسے ہی ہائی سٹریٹس شاپنگ سینٹروں، پبلک فٹ پاتھ پر مسقل بنیادوں پر لائن برمنگھم سٹی کونسل کی جانب سے محکمہ ٹرانسپورٹ اور پبلک ہیلتھ اینڈ سیفٹی کی جانب سے لگوائی گئی جس کاآغاز ارڈنگٹن سے ہوگیا اور اس کادائرہ کار برطانیہ بھر میں پھیل جائے گا۔ رمضان المبارک کے دوران مساجد میں اجتماعی نماز جمعہ اور عیدالفطر کے کھلے آسمان تلے پارکوں اور میدانوں میں ہونے والے اجتماعات بھی نہ ہوسکے۔ لوگوں نے گھروں میں پہلی مرتبہ خاندان کے ہمراہ عید منائی البتہ برمنگھم سٹی کونسل کی جانب سے مسلم کمیونٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے جمعتہ الوداع اور عید کے روز یعنی کے دو دن کیلئے نماز ظہر کی اذان مساجد کے بیرونی سپیکروں پر اجازت ملنے پر مسلم کمیونٹی کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ بڑی مساجد میں اذان سننے کیلئے لوگوں نے مساجد کا رخ کیا اور پرنم آنکھوں کے ساتھ اذان سنی۔ کورنانا کے باعث کم از کم ایک بات دیکھنے کو ملی کہ زیادہ تر عیدالفطر ایک ہی روز منائی گئی وہ مساجد جہاں تین ،تین چار ،چار عید کی جماعتیں ہوا کرتی تھیں مکمل طور پر بند ہیں بالخصوص وہ پارک جہاں ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے جمع ہوا کرتے تھے ویران ہوگئے۔ لیکن چونکہ برطانیہ میں آئین و قانون کی پابندی کرتے ہوئے سب کمیونٹیز نے عمل درآمد کو یقینی بنایا۔ حکومت برطانیہ کی جانب سے کورنا وائرس کرائسز میں نرمی کا اعلان کیا گیا یعنی کہ ہم دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں جو افراد گھروں سے کام نہیں کرسکتے انہیں اب اجازت ہے کہ وہ سماجی فاصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے مشروط کام جاری رکھنے کی اجازت مل گئی ہے۔ پہلے سنا تھا سکول یکم جون کو کھلیں گے اب اساتذہ یونین کی وجہ سے بات تین ماہ بعد ستمبر میں چلی گئی۔ یہ بھی سننے کو ملا ہے کہ پندرہ جون سے اشیاء خوردونوش کے علاوہ سٹورز کھولنے کی اجازت مل گئی ہے وہ بھی سخت ترین شرائط کے ساتھ۔ مہذب معاشرے میں جب کوئی بیانیہ متعارف کرایا جاتا ہے یا پالیسی بیان کی جاتی ہے تو نہ صرف انفرادی طور پر بلکہ اس بیانیہ کو اجتماعی سطح پر قبول کرلیا جاتا ہے۔ اب جون کے دوسرے ہفتے میں برمنگھم ٹائون سینٹر بل رنگ کے علاوہ چھوٹے بڑے شاپنگ سینٹر معمول کے مطابق نئی شرائط کیساتھ کاروباری سرگرمیاں شروع کررہے ہیں۔ سٹی کونسل کی جانب سے سماجی فاصلوں کو یقینی بنانے، مختلف مقامات پر سینٹائزنگ پوائنٹ، یکطرفہ راستے متعارف کرانے پر زندگی آہستہ آہستہ معمول کے مطابق آئے گی، لیکن ہمیں زندگی کے ہر موڑ پر کورونا کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔
یورپ سے سے مزید