آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میر شکیل کی گرفتاری سے ملکی صحافت خطرے میں ہے، مقررین

میر شکیل کی گرفتاری سے ملکی صحافت خطرے میں ہے، مقررین 


لاہور (نمائندگان جنگ) جنگ، جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میرشکیل الرحمان کی نیب کے ہاتھوں غیرقانونی گرفتاری کے خلاف لاہور اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی کیمپس اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا ، اس موقع پر سیاسی قائدین ، سول سوسائٹی کے رہنمائوں ، صحافتی تنظیموں کےعہدیداران سمیت سینئر صحافیوں نے شرکت کی ، مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری سے ملکی صحافت خطرے میں ہے ، میرشکیل کوگرفتارکرنیوالی قوتیں میڈیا کو دبانا چاہتی ہیں، ایڈیٹر انچیف جنگ وجیو گروپ کی رہائی کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز بارش کے باوجود لاہور میں ڈیوس روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں ایڈیٹر جنگ شاہین قریشی،معروف کالم نگار افضال ریحان، سول سوسائٹی کے عبداللہ ملک،مسلم لیگ ق لاہور شعبہ خواتین کی جنرل سیکرٹری عزیزہ سعید، ظہیر انجم، زاہد علی خان، اویس قرنی، شیرعلی خالطی، عزیز شیخ،محمد علی، اکمل بھٹی، افضل عباس، جنگ،جیو گروپ کے کارکنوں کے علاوہ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر میرشکیل الرحمان کی رہائی کیلئے نعرہ بازی بھی کی گئی۔ اپنے خطاب میں مقررین نے کہاکہ آزادی اظہار رائے زندگی کی نشانی ہے اور حکومت میر شکیل الرحمان کی گرفتار ی سےآزادی اظہار چھیننا چاہتی ہے گویا کہ زندگی چھیننا چاہتی ہے، دریں اثناء میر شکیل الرحمان کی گرفتاری اور آزادی صحافت پر قدغن لگانے کی سازشوںکے خلاف روزنامہ جنگ راولپنڈی کے باہر مری روڈ پر احتجاجی کیمپ سےخطاب کرتے ہوئے مقررین نےکہا کہ میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرنے والی قوتیں میڈیا کو دبانا چاہتی ہیں۔اسکرپٹ کہیں اور لکھا گیاہے۔جس پر عمل ہورہا ہے۔بغیر مقدمہ،تفتیش،ریفرنس میر شکیل الرحمان کی گرفتاری انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے۔80روز قید میں رکھنے کے باجود میر شکیل الرحمان کو جھکانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔میر شکیل الرحمان کی رہائی کی جدوجہد سے جنگ گروپ کے ورکرز بھی نہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔سازش کرنے والے دستانوں میں چھپے ہاتھ بے نقاب ہوچکے ہیں۔میر صحافت کےحوصلے بلند ہیں۔عوام کے حقوق کیلئے قربانی دےرہے ہیں۔اس موقع پر شدیدنعرے بازی کی گئی ۔احتجاجی کیمپ میں فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی، فاروق اقدس، رانا غلام قادر،آر آئی یو جے کے سیکرٹری جنرل آصف بھٹی،جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےچیئر مین ناصر چشتی ،امجد عباسی،ملک نصرت،راحت منیر،اظہر سلطان،ذوالفقار علی خان،شعیب خان،استاد شبیر،ظفر اقبال،آغا سجاد،محمد صادق،ندیم خان،محمد مبین،راجہ حنیف،شہزادہ افتخار،اطہر نقوی،سردار ہیرا،ظفر احمد،ندیم شاہد،اسلم خان،مظفر بھٹی،عبید عباسی،لیاقت علی،اختر محمود،اقبال محمود سمیت جنگ،دی نیوز اور جیوکے ورکرز بھی بڑی تعدادمیں موجود تھے۔ ملک بھر کی طرح پشاور میں بھی میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کیخلاف صحافیوں اور تاجر رہنماؤں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومتی اقدام کو ناجائز، غیر قانونی اور حق وسچ کی آواز دبانے کی انتقامی کاروائی قرار دیا ہے ۔

اہم خبریں سے مزید