آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گلوکار مجیب عالم کے گیت پرستار آج بھی نہیں بھولے

پلے بیک سنگر مجیب عالم کے مداح آج اُن کی16ویں برسی منا رہے ہیں۔ معروف پلے بیک سنگر کےگائے ہوئے گیت اُن کے پرستارآج بھی نہیں بھولے۔

پاکستانی میوزک انڈسٹری کے بے حد سریلی آواز کے مالک مجیب عالم 4 فروری 1948کو بھارت کے شہر کانپور میں پیدا ہوئے۔

بچپن ہی سے ان کی آواز بے حد سریلی تھی جس سے متاثر ہوکر موسیقار حسن لطیف نے انہیں اپنی فلم’ نرگس‘ میں گائیکی کا موقع دیا مگر یہ فلم ریلیز نہ ہوسکی۔ مجیب عالم کی ریلیز ہونے والی پہلی فلم’ مجبور‘ تھی۔

1966 میں انہوں نے فلم ’جلوہ‘ اور 1967میں ’چکوری‘ کا ایک نغمہ ریکارڈ کروایا،نغمے کے بول تھے ’وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں‘، مجیب عالم کو نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

اس کے بعد مجیب عالم نے واپس پلٹ کر نہیں دیکھا اور یکے بعد دیگرے متعدد مقبول نغمات سے فلمی دنیا کو سجاتے چلے گئے۔

جن فلموں میں ان کے گائے ہوئے نغمے بہت پسند کئے گئے ان میں دل دیوانہ، گھر اپنا گھر، جان آرزو، ماں بیٹا، لوری، تم ملے پیار ملا، سوغات، شمع اور پروانہ، قسم اس وقت کی، آوارہ، میرے ہمسفر، انجان، حاتم طائی اور میں کہاں منزل کہاں کے نام سرفہرست ہیں۔

مجیب عالم 2 جون 2004کوکراچی میں وفات پاگئے تھے اور سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید