• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خطرناک ایلین مچھلی کراچی فش ہاربر پہنچ گئی

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ سندھ اور زیریں پنجاب کے پانیوں میں ایک حملہ آور مچھلی کی نسل دیکھی گئی ہے جو آبی حیات اور ماہی گیری کے شعبے کے لیے خطرہ ہے۔

ماحولیاتی تنظیم نے اپنے بیان میں بتایا کہ 4 جنوری کو سندھ سے کراچی فش ہاربر پر ایک غیر معمولی مچھلی آئی ہے جسے ’ایلین‘ قرار دیا گیا کیونکہ کوئی بھی اس کی شناخت نہیں کر سکا تھا، یہ ایمازون سیلفن کیٹ فش ہے۔

ایمازون سیلفن کیٹ فش کا موٹا جسم ہڈیوں کی پلیٹوں سے ڈھکا ہوا ہے اور یہ ایک غیر ملکی مچھلی ہے جو حادثاتی طور پر پاکستان کے  قدرتی آبی ذخائر میں داخل ہونے کے بعد سندھ اور پنجاب کے پانیوں میں پھیل گئی ہے۔

اس مچھلی کا تعلق لاطینی امریکہ سے ہے اور یہ ایکویریم مچھلی کے طور پر دنیا بھر میں مشہور ہے۔ 

مچھلیوں کی یہ نسل ایک انتہائی کامیاب حملہ آور کے طور پر جانی جاتی ہے اور چونکہ یہ نسل اب پاکستان میں بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے تو اس کا خاتمہ اور کنٹرول ناممکن ہے۔

یہ نسل مچھلیوں کی ان 26 انواع میں سے ایک ہے جو حادثاتی طور پر یا جان بوجھ کر پاکستان میں متعارف کروائی گئی ہیں۔ یہ مچھلیاں پاکستان کی آبی حیات پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں اور ماحولیاتی نظام کے توازن کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

اس سے قبل 1928ء میں براؤن ٹراؤٹ اور رینبو ٹراؤٹ نامی دو غیر ملکی مچھلیوں کی نسلیں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقوں میں متعارف کروائی گئیں۔

پاکستان میں مچھلی کی پیداوار کو بڑھانے اور ناپسندیدہ جڑی بوٹیوں پر قابو پانے کے لیے مچھلی کی کئی غیر ملکی نسلوں جیسے کہ موزمبیق تلپیا، کامن کارپ، گولڈ فش، اور گراس کارپ کو متعارف کروایا گیا۔

1980ء کی دہائی میں سلور کارپ، بگ ہیڈ کارپ، نیل تلپیا اور نیلے تلپیا کو بھی متعارف کروایا گیا۔

ان تمام نسلوں نے پاکستان میں قدرتی ماحولیاتی نظام میں خود کو قائم کیا جس سے دیگر حیوانات اور نباتات متاثر ہو رہی ہیں، ان تمام نسلوں کی افزائش کا مقصد آبی زراعت کی پیداوار کو بڑھانا تھا، اس لیے ماحول پر ان کے منفی اثرات پر مناسب غور نہیں کیا گیا۔

خاص رپورٹ سے مزید