آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

حادثے انسانی زندگی کا لازمہ ہیں۔ فطرت نے شاید اس کا انتظام اس لیے کہا ہے کہ انسان ان سے سبق حاصل کرے، لیکن پاکستان میں ایسا لگتا ہے کہ ہم بڑے سے بڑے حادثے سے کچھ نہیں سیکھتے۔ گزشتہ دنوں کراچی میں پی آئی اےکے طیارے کو حادثہ پیش آیا تو بہت سے سوالات نے جنم لیا۔ اس ضمن میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ محفوظ شہری ہوا بازی کے لیے عالمی اور ملکی معیارات کیا ہیں اور اس ضمن میں آپریٹرز، سول ایوی ایشن اتھارٹی، جہاز کے کپتان، ایئرکرافٹ انجینئرز، فرسٹ آفیسراور ایئرٹریفک کنٹرولرزکا کیا کردار ہوتا ہے ؟ کیاہم ان معیارات پر پورے اترتے ہیں اور متعلقہ افراد کس طرح اپنا کردار نبھا رہے ہیں۔ ان سوالات کے جواب پانے کے لیے ہم نے ان شعبوں کے بعض ماہرین سے تفصیلی گفتگو کی۔

تاہم انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط عاید کی ،کیوں کہ انہیں مختلف خدشات لاحق ہیں۔ اس گفتگو اور بعض ماہرین کے بیک گرائونڈ انٹرویوز کے بعد جو صورت حال سامنے آئی وہ نیندیں اڑا دینے کے لیے کافی ہے۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہم حالیہ حادثے کو بنیاد تو بنایا، مگر اپنی نگاہ مستقبل کے حالات پر رکھی اور ہمارا مطمح نظر کسی کو اس حادثے کا ذمے دار ٹھہرانا مقصود نہیں ہے۔ ہم نے تلاش اور جستجو کا یہ سارا سفر حادثے سے سبق سیکھنے اور مستقبل میں کسی اورممکنہ حادثے سے بچنے کی نیت سے کیا۔

چند برسوں میں پاکستان میں شہری ہوا بازی کے ضمن میں کئی خطرناک واقعات رونما ہوچکے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف ملک میں ایئرسیفٹی کے اقدامات کے بارے میں طرح طرح کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں، بلکہ اس نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے غیر مستند ہونے کی طرف بھی اشارے کیے ہیں۔ان برسوں میں جو چار طیارے حادثات کا شکار ہوئے، ان میں سے تین نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی سے اڑان بھری تھی جہاں اتھارٹی کے مرکزی دفاتر قائم ہیں۔ چوتھا طیارہ لاہور سے روانہ ہوا تھا۔ 2010ء میں جو طیارہ سب سے پہلے حادثے کا شکار ہوا وہ ایئربلو کا تھا۔ دوسرا طیارہ جے ایس ایئر کا تھا جس میں 20 مسافر سوار تھے۔ ان مسافروں کا تعلق ایک یورپی تیل کی کمپنی سے تھا۔ اس طیارے کی منزل اندرون سندھ کا ایک علاقہ تھا، لیکن یہ فضا میں بلند ہونے کے چند سیکنڈ بعد ہی رن وے سے چند کلومیٹر دور حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔ 

لاہور ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والا تربیتی جہاز ماڈل ٹائون کے رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہوا۔ اس حادثے میں ایک خاتون ٹرینر اور پائلٹ سوار تھا پھر بھوجا ایئر کا حادثہ ہوا۔ ایک نجی فلائنگ کلب کے تین طیارے چند ماہ میں حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بچے کہ تربیتی پرواز کے دوران ان کے انجن بند ہوگئے تھے۔ ان میں سے ایک طیارہ کو سپرہائی وے اور نیشنل ہائی وے کے درمیان اور دوسرے کو ملیر میں کھیل کے میدان میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔پھر ملتان کا حادثہ ہوا۔ اسی طرح پی آئی اے کے بعض طیاروں کے پرواز کے دوران انجن بند ہوجانے کی اور دیگر شکایات بھی سامنے آئیں۔

جہاز اور اس کے مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا سی اے اے کی بنیادی ذمے داری ہے۔ اسے جہازکے ایئروردی ہونے کا سو فی صد یقین ہونا چاہیے۔چند برس قبل روس کے جو دو نجی طیارےیہاں گرے ،ان کے بارے میں یہ خبریں آئیں کہ ان میں مقررہ حد سے زیادہ وزن لادا گیا تھا۔ ایئربلیوکے طیارے کی حادثےکی ذمے داری مکمل طور پر کپتان پر ڈالی گئی۔یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ پاکستان میں فضائی حادثات کے بعد تیار کی جانے والی کی رپورٹس منظرِ عام پر کیوں نہیں لائی جاتیں؟

کپتان کی صحت اور دماغی حالت

ماہرین کے مطابق کپتان کا صرف تجربہ ہی نہیں بلکہ محفوظ شہری ہوا بازی کے لیے اس کی صحت، آرام اور دماغی حالت پر بھی توجہ دینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایئر بلیو کے کریش کے بعد یہ سوال بھی اٹھا تھا کہ اس کے عملے نے کیبن ری سورس منیجمنٹ کا کورس کیا تھا یا نہیں؟ یہ کورس جہاز کے عملے کو مل جل کر حالات سے نمٹنا سکھاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ حادثے کی شدت کا تقاضا ہے کہ اس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں بورڈ آف ایکسیڈنٹ انکوائری تشکیل دیا جائے۔ سی اے اےکے 1994ء کے ضابطوں کے تحت ضابطہ نمبر 282 خود اس سطح کی تحقیقات کی ہدایت کرتا ہے۔ 

اس سطح کی تحقیقات کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل تیکنیکی اور قانونی لحاظ سے اس معاملے میں فریق ہیں ،کیوں کہ یہ دیکھنا ان کی ذمے داری ہے کہ ٹیک آف کرنے سے قبل پاکستان کا ہر تجارتی طیارہ ہر لحاظ سے ایئروردی ہے یا نہیں، اس کا کپتان اسے اڑانے کے لیے تمام ضروری معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں اور ایئرٹریفک کنٹرول اور نیوی گیشن کی سہولتیں ملکی اور عالمی معیارات پر پوری اترتی ہیں یا نہیں؟

سی اے اے کا کردار

سول ایوی ایشن اتھارٹی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرنے والے یاد دلاتے ہیں کہ19جنوری 2012ء کو پشاور ہائی کورٹ نے حکومت کو یہ ہدایت کی تھی کہ تین ماہ کے اندر پی آئی اے اور نجی ایئرلائنز کے طیاروں کا سیفٹی آڈٹ کیا جائے۔ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے 23 اپریل 2012 کو مختلف مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے یہ آبزرویشن دی تھی کہ اگر اس ہدایت پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جاتا تو بھوجا ایئرلائنز کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے سے بچا جاسکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عدالت نے چند ماہ قبل واضح ہدایت دی تھی اور یہ واضح کیا تھا کہ اگر عدالت کے حکم پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی اور کوئی حادثہ ہوا تو اس کی ذمے دار حکومت ہوگی۔ 

اس عدالت نے19جنوری کو پی آئی اے اور نجی ایئرلائنز کے طیاروں کی حالت پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے وزارت دفاع اور سی اے اے کو ہدایت کی تھی کہ ان ایئرلائنز کے تمام طیاروں کا معائنہ کرنے کے لیے بورڈ آف انکوائری تشکیل دیا جائے جس میں غیر ملکی ماہرین بھی شامل کیے جائیں۔ اس کے علاوہ سی اے اے کی کارکردگی اور مسافر بردار طیارے اڑانے والے کپتانوں اور کریو کے دیگر اراکین کی استعداد کا بھی جائزہ لیا جائے۔ عدالت نے ہدایت کی تھی کہ یہ بورڈ سی اے اے کی سہولتوں اور اس کے حفاظتی اقدامات کا تجزیہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہو اوروہ طیاروں کو دوران پرواز سی اے اے کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں اور حفاظتی اقدامات، آلات، زمینی مواصلاتی نظام، لینڈنگ اور ٹیکنگ آف کی سہولتوں، خریدے ہوئے اوراسٹور میں موجود فاضل پرزہ جات کا بھی تجزیہ کرے۔ بورڈ مکینیکل، الیکٹریکل اور انجینئرنگ کے دیگر عملے کی استعداد کا جائزہ لے اور سی اے اے کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فٹنیس سرٹیفکیٹس کا بھی جائزہ لے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے معاملات پر گہری نگاہ رکھنے والے حلقے طویل عرصے سے اس ادارے کی کارکردگی پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ ادارہ صحیح طور سے کام کرتا تو حفاظتی نقطۂ نظر کے تحت پی آئی اے کے طیاروں پر یورپی ممالک میں بعض پابندیاں نہ لگائی جاتیں۔ سی اے اے کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ ہر سویلین طیارے کی مستقل جانچ پڑتال کو یقینی بنائے اور تمام ایئرلائنز کی جانب سے ملکی اور عالمی ایوی ایشن قوانین اور ضابطوں کی پابندی کرنے پر گہری نگاہ رکھے۔ اس ادارے پر اقربا پروری اور پسندیدہ افراد کی ناجائز حمایت کرنے، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ٹیکنیکل پروفیشنلز کی جگہ معیار سے کم تعلیم یافتہ اور نان ٹیکنکل افراد کی بعض عہدوں پر تقرری اور تعیناتی اور ایئرلائنز سے سختی سے قاعدوں اور قوانین کی پابندی نہ کرانے کا بھی الزام عاید کیا جاتا ہے۔ 

ادارے کے معاملات پر گہری نگاہ رکھنے والے الزام عاید کرتے ہیں کہ سی اے اے میں ایسا بھی ہوچکا ہے کہ ایک اکائونٹس گروپ آفیسر کو جو فنانس ڈپارٹمنٹ کی سربراہ تھیں ،ایئر ٹریفک ڈائریکٹر مقرر کردیا گیا ،حالاں کہ یہ اسامی خالصتاً تیکنیکی نوعیت کی ہے۔ ڈائریکٹر فلائٹ اسٹینڈرڈزکے بارے میں بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔بتایا گیا کہ ادارے کے بعض انسپکٹرز 5000 گھنٹوں کی انچارج کپتان کی حیثیت سے پرواز کا ضروری تجربہ نہیں رکھتے۔ اسی طرح حادثات کی تحقیقات کرنے والوں کے چنائو میں بھی عجیب و غریب منطق استعمال کی جاتی ہے۔ چند برس قبل ایک حادثے کی تحقیقات کرنے والی دو رکنی ٹیم میں ایک میڈیکل ڈاکٹر کو شامل کرلیا گیا تھا، لیکن جب ذرایع ابلاغ نے بھانڈا پھوڑا تو انہیں ٹیم سے علٰیحدہ کردیا گیا۔

ذرایع کے مطابق انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ضابطوں کے مطابق ہر سویلین طیارے میں فلائٹ ڈیٹاحاصل کرنےکے آلات نصب ہونے چاہییں، لیکن بعض نجی ایئرلائنز اس ضابطے کی پابندی نہیں کر رہی ہیں ،مگر اتھارٹی نے ان سے اس بارے میں کوئی باز پرس نہیں کی۔ دوسری جانب پالپا ایک ایسا آزاد اور خودمختار ادارہ بنانے کا مطالبہ کرچکی ہے جو ایئر سیفٹی کے اقدامات کے بارے میں تجاویز دے، ان پر عمل درآمد کرائے اور ان تمام معاملات پر مسلسل نگاہ رکھے۔ اسی طرح پالپافضائی حادثات کی تحقیقات کے لیے ایسا آزاد ادارہ بنانے پر زور دیتی ہے جو کسی ادارے یا فرد کے دبائو میں نہ آئے۔

سی اے اے پر چند برس قبل ایسا وقت بھی آچکا ہے جب پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو یہ حکم دیاتھا کہ وہ سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل کو فوری طور پر معطل کردے۔ اس کے علاوہ عدالت نے پی آئی اے اور نجی ایئر لائنز کے تمام طیاروں کا سیفٹی آڈٹ کرانے کے اپنے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر وزارتِ دفاع کے سیکریٹری کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا تھا۔

فلائٹ اسٹینڈرڈز

انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ضابطوں کے تحت فلائٹ اسٹینڈرڈز کے شعبے میں کوئی بھی اہل کار ڈیپوٹیشن پر نہیں ہونا چاہیے، لیکن سی اے اے میں اس کی مسلسل خلاف ورزی کی شکایت کی جاتی ہے۔ اتھارٹی کے سربراہ بھی ڈیپوٹیشن پر آتے جاتے رہتے ہیں۔ آئی کیو اس بارے میں اپنی آڈٹ رپورٹ انٹرنیٹ پر پیش کرچکا ہے جس میں سی اے اے کو اس خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا، مگر پاکستان کی اتنی بدنامی ہونے کے باوجود متعلقہ حکام کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگی۔

نجی ایئرلائنز میں پائلٹس کو ایسوسی ایشن بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ حالاں کہ پائلٹس کی ایسوسی ایشن شہری ہوا بازی کو محفوظ بنانے میں دنیا بھر میں معاون و مددگار تصور کی جاتی ہے۔ محفوظ شہری ہوا بازی میں گرائونڈ انجینئرز کا بھی بہت اہم کردار ہوتا ہے، کیوںکہ جہاز کو اڑنے کے قابل بنانے اور قرار دینے میں ان کا کلیدی کردار ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں انہیں جائز مراعات اور سہولتیں نہیں دی جاتیں، لہٰذا بہت سے گرائونڈ انجینئرز ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ کریو کی صحت کے معیار پربھی سمجھوتا کرنے کے الزامات ہیں۔

ایئر ٹریفک کنٹرولرز کا کردار

محفوظ شہری ہوابازی میں ایئر ٹریفک کنٹرولرز کا بھی بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ بعض ممالک میں اس کی تربیت نجی طور پر حاصل نہیں کی جاسکتی ،کیوں کہ اس کے لیے آن جاب ٹریننگ ضروری ہوتی ہے۔ پاکستان میں پہلے ایئرٹریفک کنٹرولر بننےکے خواہش مندوں کےلیے ضروری تھا کہ وہ سائنس گریجویٹ یا ماسٹر ہوں، لیکن چند برس قبل سی اے اے نے کسی بھی مضمون میں گریجویشن یا ماسٹرز ڈگری کے حامل فرد کے لیے دروازے کھول دیے ۔ ایئرٹریفک کنٹرولر بننے کے لیے سی اے اے پہلےنو ماہ کا کورس کراتی ہے۔

پہلے انہیں سرکاری گریڈ سترہ ملتا تھا، لیکن پھر ان کا ابتدائی گریڈ سولہ کردیا گیا۔ 1982ء میں ان کا انتخاب فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوتا تھا۔ انتخاب کے بعد حیدرآباد میں واقع سی اے اے کے تربیتی مرکز میں نوماہ کا کورس کام یابی سے مکمل کرنے والے امیدواروں کو ایئر ٹریفک کنٹرولر کی حیثیت سے سی اے اے میں ملازمت دی جاتی ہے اور انہیں لاہور یا کراچی میں تعینات کیا جاتا ہے اور مقامی حالات کی کلاس میں تعلیم دی جاتی ہے۔ پھر ٹاور یا ایریا کنٹرول میں کسی انسٹرکٹر کے ساتھ اسے تعینات کیا جاتا ہے۔ یہ تربیت چار تا چھ ماہ جاری رہتی ہے اور اس کی کارکردگی کے بارے میں مسلسل رپورٹ بنائی جاتی ہے۔ 

پھر وہ بورڈ کے سامنے پیش ہوتا ہے اور وہاں سے کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد پھر ایک دو برس تک سینئر کے ساتھ کام کرتا ہے۔ نئے آدمی کو ایک مقام پر چار پانچ برس گزارنے ہوتے ہیں۔ اس دوران اسے ایریا نان ریڈار یونٹ اور ٹاور یونٹ میں خدمات انجام دینا ہوتی ہیں۔ پھر اسے کسی دوسرے یونٹ میں اتنا عرصہ گزارنا ہوتا ہے۔ ایئر ٹریفک کنٹرول کے ٹاور، ایریا نان ریڈار، ایریا ریڈار، اپروچ نان ریڈار، اور اپروچ ریڈار یونٹ ہوتے ہیں۔ ان تمام یونٹس میں تربیت پانے میں 13 تا 16 برس لگ جاتے ہیں۔ ریڈار یونٹ کی ٹریننگ کے لیے انہیں فرانس، سوئیڈن، انگلینڈ، اسپین، کوریا یا ملائیشیا بھی بھیجا جاسکتا ہے۔

ایئرٹریفک کنٹرول کے معاملات کے بارے میں معلومات رکھنے والے ماہرین کے مطابق اس وقت سی اے اے کے پاس تین سو کے بجائے صرف تیس پینتیس ایئر ٹریفک کنٹرولرز ایسے ہیں جو تمام یونٹس کی مہارت رکھتے ہیں، لہٰذا ہر شفٹ میں ایسے ایک دو ماہر ہی موجود ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے آرام بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، کیوں کہ ان کی آنکھیں ڈیوٹی کے دوران تمام وقت اسکرین پر اور کان جہازوں کے پائلٹس کی آوازوں پر لگے ہوتے ہیں اور زبان سے وہ ہدایات دے رہے ہوتے ہیں۔ انہیں پائلٹس کی آنکھیں اور کان کہا جاتا ہے۔ ایوی ایشن کے حادثات میں پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی اہلیت اور استعداد کا بھی بہت دخل ہوتا ہے۔ لیکن ان دونوں کے لیے خراب موسم کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا، کیوں کہ روس میں بہت برف باری ہوتی ہے اور امریکا میں بہت دھند ہوتی ہے۔ کنٹرولرز ہر لمحے جہاز کے کپتان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جہاز میں ویدر ریڈار نصب ہوتا ہے، لیکن کنٹرولر کے پاس نہیں ہوتا۔ لہٰذا اگر کسی بادل یا طوفان میں بجلی (چارج) ہو تو کنٹرولر کو اس کی ہلکی سی بھنک پڑتی ہے۔ 

وہ طوفان یا بادل کی بلندی نہیں معلوم کرپاتا، لیکن پائلٹ کو معلوم ہوجاتی ہے۔ کنٹرولر کے لیے یہ لازمی نہیں ہے کہ وہ موسم کے بارے میں پائلٹ کو اطلاع دے، لیکن وہ اخلاقاً دیتا ہے۔ کنٹرولر کی بنیادی ذمے داری اپنی حدود میں اڑنے والے جہازوں کو باہم تصادم سے بچاتا ہے۔ اگر کنٹرولر کی کسی حادثے میں غلطی یا کوتاہی ثابت ہوجائے تو اسے سزائے موت تک دی جاسکتی ہے۔ کوئی پائلٹ کسی ایئرٹریفک کنٹرولر کی ہدایات کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا اور اگر ایسا ہو تو کنٹرولر اپنے اختیارات استعمال کرکے کپتان کو ہدایات پر عمل کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

کراچی اور لاہور کی فضائی حدود سے یومیہ 1200 تا 1300 جہاز گزرتے ہیں۔ ایئرٹریفک کنٹرولرز کے ذریعے سی اے اے کو سالانہ تقریبا پچّیس ارب روپے کی آمدن ہوتی ہے۔ تاہم ادارے کے زیادہ تر سربراہ ڈیپوٹیشن پر چھ ماہ تا دو سال کے لیے آتے ہیں جو ادارے کو مستقل بنیادوں پرپالیسی نہیں دے پاتے۔چند برس قبل ادارے پر یہ وقت بھی آیا کہ کئی ماہ تک ایئرٹریفک کنٹرولرز گوبائی بک کام کرتے رہےاور پھر ایک روز انہوں نےکام چھوڑ دینے کا الٹی میٹم دے دیا تھا۔ لیکن اعلیٰ سطح پر مداخلت اور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا۔ باخبر حلقوں کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود میں تحفظ کے خدشات ایئرٹریفک گنجان ہونے کی وجہ سے بڑھتے جارہے ہیں اور ایئرٹریفک کنٹرول کا نظام وقت کی ضرورت کو مناسب طور پر پورا کرنے کااہل نہیں ہے۔ 

ہر کنٹرولر کے حصے میں معیارسے زیادہ طیاروں کی ہینڈلنگ آتی ہے۔ ان میں بے چینی کی کئی وجوہ ہیں۔ مثلاً کام کے دبائو میں روز بہ روز اضافہ، ترقی کے بارے میں کوئی پالیسی کا نہ ہونا، انشورنس اور الائونس کی سہولتوں کا فقدان۔ حالاں کہ د نیا بھر میں انہیں جہاز کے کپتان سے کہیں زیادہ معاوضہ ملتا ہے ،کیوں کہ ایک کپتان کے ہاتھ میں سیکڑوں جانیں ہوتی ہیں اور ایک کنٹرولرکے ہاتھ میں درجنوں کپتانوں کی جانیں ہوتی ہیں۔ یورپ کے بعض ممالک میں ان کی تنخواہیں ان کے وزرائے اعظم سے زیادہ ہیں۔ اسپین، انگلینڈ اور ملائیشیا اس کی عام مثال ہیں۔

دنیا بھر میں ایئرٹریفک کنٹرولر کے لیے یہ سخت ضابطہ موجودہے کہ وہ بہ یک وقت دو گھنٹے سے زاید فرائض انجام نہیں دے سکتا۔ اتنے وقفے کے بعد اسے دو گھنٹے تک آرام کرایا جاتا ہے جس کے لیے کام کے مقام سے دُور اُن کے لیے علیٰحدہ ماحول میں تفریحی سہولتیں ہوتی ہیں، جہاں دو گھنٹے گزارنے کے بعد وہ پھر فرائض انجام دینا شروع کرتے ہیں۔ اس طرح وہ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی میں صرف چار گھنٹے کام کرنے کے پابند ہوتے ہیں، لیکن پاکستان میں اس ضابطے کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ان کے ہر عمل کی آڈیو وڈیو ریکارڈنگ ہوتی ہے ،حتیٰ کہ ان کی نجی ٹیلی فون کالز تک ۔

یہ ریکارڈنگ تین ماہ تک محفوظ رکھی جاتی ہے۔ پاکستان میں ایئرٹریفک کنٹرولرزلازمی خدمات کے قانون کے تحت آتے ہیں ،حالاں کہ دنیا بھر میں انہیں ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونی کیشن یا وزارت سیاحت کے ماتحت رکھا جاتا ہے۔ بھارت میں 1996ء میں دو طیاروں کے فضاء میں ٹکرا جانے کے بعد جسٹس لاہوتی کی سربراہی میں بننے والے کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی تنخواہ، مراعات، آرام کے وقت اور ان کے کام اور رہائش کی جگہ تک کے لیے واضح معیار کاتعین کیا گیا اور ان پر عمل درآمد بھی ہو رہا ہے۔

کہاں تک سنو گے۔۔۔

اصول اور ضابطے یہ کہتے ہیں کہ ایئر وردی نیس کے شعبے میں کام کرنے والے لوگ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ملازم ہوں نہ کہ ڈیپوٹیشن پر ہوں، مگر اس شعبے میں پی آئی اے سے لوگوں کو مستعار لینے کے الزامات ہیں۔

ایوی ایشن کی صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق دنیا بھر میں کیبن کریو کے بہترین انداز میں استعمال کے لیے کریو ری سورس منیجمنٹ کا کورس کرایا جاتا ہے، لیکن یہاں یہ کام واجبی اندازمیں کیا جاتا ہے۔ فلائٹ اسٹینڈرڈز کے شعبے میں سینئر افراد کو لانے کی ضرورت ہے، لیکن انہیں اس لیے نہیں لایا جاتا کہ وہ بہت سے افسران سے سینئر ہیں اور وہ معیارات پر سمجھوتے نہیں کرتے۔بتایا گیاکہ پائلٹس کی تربیت کے دوران انسٹرکٹرز اپنے تجربات بتاتےہیں، حالاں کہ انہیں یہ بتانا چاہیے کہ اگر کوئی پائلٹ چین یا کٹھمنڈو کی طرف پرواز کرے گا تو وہ پہاڑوں کے درمیان سے کیسے گزرے گا۔ اس کی عملی تربیت نہیں دی جاتی۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سی اے اے کے عملے میں فلائٹ اسٹینڈرڈ زکے شعبے میں زیادہ تجربے کار افراد نہیں ہیں، اس کا عملہ جہاز کی روانگی سے قبل کاک پٹ میں آکرمعیار کے مطابق چیکنگ اور کاغذات کی جانچ پڑتال کرتاہے۔

دنیا بھر میں مسافر بردار طیاروں کے پائلٹس کی تربیت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور اس کے لیے بہت سخت معیارات مقرر ہیں۔ پی آئی اے کے پائلٹس کو بھی اچھی تربیت دی جاتی ہے، لیکن بعض معاملات ایسے ہیں جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہاں جہاز کے عملے کے ڈیوٹی ٹائم میں عالمی معیار کے برخلاف اضافہ کردیا گیا ہے۔ عالمی معیار کے مطابق طویل فاصلے کی فلائٹس پر جانے والے کیبن کریو کے آرام کا مناسب حد تک خیال رکھنا ایئرلائنز کی اہم ذمے داریوں میں شامل ہے۔ اب زیادہ تر طیاروں میں ان کے لیے علیٰحدہ حصے یا بنکس موجود ہوتے ہیں۔ 

پی آئی اے کے جہازوں میں یہ بنکس موجود ہیں، لیکن چند برس قبل ضابطے تبدیل کرکے بنکس کی لازمی شرط ختم کرکے بنکس یا کریو سیٹس کے الفاظ شامل کردیے گئے اور سی اے اے نے اس کی منظوری بھی دے دی تھی۔ کریو بنکس میں عملہ زیادہ سہولت سے آرام کرلیتا ہے جو نشستوں پر نہیں مل سکتا۔ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے سی اے اے کا آڈٹ کرنے کے بعد اس معاملے پر اعتراض اٹھایا تھا، لیکن اسے کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔

تحقیقات کے لیےآزاد اور خومختار ادارے کی ضرورت

ماہرین کے مطابق اگر 2010ء سے ہونے والے طیاروں کے حادثات کے ذمے داروں کا تعین اور ان کا احتساب ہوجاتا تو شاید یہ حادثہ نہ ہوتا۔ امریکا میں جہازوں، ریل گاڑیوں اور آٹوموبیل کے حادثوں کی تحقیقات کے لیے نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی بورڈ کے نام سے آزاد اور خومختار ادارہ موجود ہے ،یہاں بھی ایسا ہی ادارہ قائم ہونا چاہیے۔ یہاں طیاروں کے حادثات کی تمام تحقیقات خود سی اے اے کرتا ہے ،جس کے پاس اس کام کے لیے مناسب حد تک تربیت یافتہ اور تجربے کار لوگ نہیں ہیں۔ اس ادارے میں کمرشل طیاروں کے معاملات کے بارے میں زیادہ تجربہ رکھنے والے لوگوں کی شدید کمی ہے۔

دنیا بھر میں مسافر بردار طیاروں کے جتنے بھی حادثات ہوتے ہیں، ان کے بارے میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ان میں سے نوّے صد انسانی غلطیوں اور دس فی صد خراب موسم کی وجہ سے ہوتے ہیں۔گرائونڈ لیول پر بھی انسانوں سے غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ ایک اسکریو یا نٹ نہ لگنے کی وجہ سے پورا طیارہ تباہ ہوسکتا ہے۔ کسی طیارے کے محض پرانا ہونے کی وجہ کو حادثے کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔