آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نیوزی لینڈ نے کورونا وائرس سے نمٹنے میں کامیابی کیسے حاصل کی ؟

کرائسٹ چرچ /کراچی (نیوز ڈیسک) کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو مسائل کا شکار کر دیا ہے، ایک طرف متاثرین کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے تو ہلاکتیں بھی بڑھ رہی ہیں، معیشت کا جنازہ الگ نکل رہا ہے۔ لیکن دنیا کے ایک علیحدہ کونے پر موجود چھوٹے سے ملک نیوزی لینڈ نے وائرس کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کر لی ہے اور اور گزشتہ پانچ دن سے ملک میں کورونا وائرس کا ایک بھی نیا مریض اسپتال میں داخل نہیں ہوا۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ دنیا کے بڑے اور طاقتور ملک اس وائرس سے نجات حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں تو دوسری طرف ایک چھوٹے ملک نے کامیابی حاصل کر لی۔ جس دن امریکا میں وائرس کی وجہ سے ایک لاکھویں شخص کی موت ہوئی تھی اسی دن نیوزی لینڈ نے وائرس پر اپنی کامیابی کا اعلان کیا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اسپتال میں زیر علاج کورونا وائرس کے آخری مریض کو 27؍ مئی کو ڈسچارج کیا گیا جبکہ ملک میں فعال کورونا وائرس کے صرف 21؍ کیسز باقی ہیں۔ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے اعداد و شمار پر نظر رکھنے والے امریکی ادارے جان ہاپکنز یونیورسٹی کے کورونا ریسورس سینٹر کے مطابق نیوزی لینڈ میں کورونا کے صرف 1500؍ کیسز سامنے آئے جبکہ 21؍ لوگ ہلاک ہوئے۔ اسی دوران امریکا میں متاثرین کی تعداد 17؍ لاکھ 40؍ ہزار ہے جبکہ ایک لاکھ سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ یقیناً نیوزی لینڈ امریکا کے مقابلے میں چھوٹا اور 48؍ لاکھ آبادی پر مشتمل ایک ملک ہے جبکہ امریکا کی آبادی 32؍ کروڑ 82؍ لاکھ ہے ۔ نیوزی لینڈ میں ہر مربع میل میں 46؍ جبکہ امریکا میں ہر مربع میل میں 94؍ افراد رہتے ہیں۔ یہ بات بھی کورونا کے پھیلنے کو محدود بنانے میں نیوزی لینڈ کیلئے مددگار ثابت ہوئی۔ لیکن مجموعی لحاظ سے دیکھیں تو آسٹریلیا نے بھی دیگر مغربی ممالک کے مقابلے میں کورونا سے متاثرہ افراد اور ہلاکتوں کی کم تعداد دکھائی ہے۔ نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ کے سٹی اسپتال کے انٹنسیو کیئر یونٹ میں ڈاکٹر کریس پوائنٹر کے مطابق نیوزی لینڈ میں ہم جانتے ہیں کہ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کیونکہ لوگوں کے ساتھ تعلق اور جڑنے کے معاملے میں ہم ان سے دور رہتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ نیوزی لینڈ کی خوش قسمتی ہے لیکن زمینی حقائق دیکھیں تو وائرس پھیلنے کے بعد لاک ڈائون کے جلد فیصلے، شہریوں کی جانب سے وبا کی وجہ سے نافذ کیے گئے قوانین اور اصولوں پر سختی سے کاربند رہنا، بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کی سہولت اور رابطے کی بہترین نظام کی وجہ سے نیوزی لینڈ کامیاب ہوا۔ اعداد و شمار دیکھیں تو نیوزی لینڈ میں وائرس 3؍ فروری کو پہنچا جس کے بعد فوراً ہی نیوزی لینڈ نے سفری سختیاں نافذ کرنا شروع کر دیں حالانکہ ابھی تک کوئی واضح کیس سامنے نہیں آیا تھا۔ نیوزی لینڈ میں پہلا باضابطہ کیس 28؍ فروری کو رپورٹ ہوا اور ایک مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ مجموعی کیسز کی تعداد 102؍ ہوگئی۔ اس موقع پر وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے ملک میں خطرے کے سگنل کو تیسری سطح پر کرنے کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں اسکول بند ہوگئے، اجتماعات پر پابندی عائد ہوگئی جبکہ لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے ڈاکٹروں سے صرف آن لائن ہی رابطہ کر سکتے ہیں۔ دو دن بعد خطرے کے سگنل کو چوتھی سطح پر لانا پڑا اور وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سفر بند کر دیں اور گھروں میں رہیں۔ نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف اوٹاگو کے پبلک ہیلتھ کے ماہر پروفیسر نک ولسن کہتے ہیں کہ ابتدائی مرحلے پر ہی سخت ایکشن اور سخت لاک ڈائون کی وجہ سے ہی ہم آج اس وبا کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے عوام نے بھی دل سے نافذ کیے گئے اصولوں اور ضابطوں پر عمل کیا اور اعداد و شمار بھی موجود ہیں جن کی مدد سے یہ سب ثابت کیا جا سکتا ہے۔ نک ولسن نے 12؍ اپریل کو اپنے بلاگ میں گوگل کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ عوام سختی کے ساتھ لاک ڈائون کے اصولوں پر عمل کر رہے ہیں۔ تمام سماجی سرگرمیاں فوری طور پر بند ہوگئیں، جبکہ انتہائی ضروری سمجھے جانے والے شعبہ جات میں بھی 90؍ فیصد تک نئے قوانین پر عمل کیا گیا۔ ان تمام سختیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے 10؍ دن کے اندر کورونا کے کیسز بڑھنے کے امکانات معدوم ہوگئے۔ سی بی ایس کے مطابق، نیوزی لینڈ نے مجموعی طور پر 2؍ لاکھ 67؍ ہزار 435؍ ٹیسٹ کیے جبکہ 20؍ مئی کو کورونا کے مریضوں کی تلاش کیلئے تیار کی گئی ایک ڈیجیٹل ایپ NZ CoviD Tracer جاری کی۔ اگرچہ سنگاپور کے مقابلے میں یہ ایپ تھوڑا تاخیر سے جاری کی گئی لیکن اس کا مقصد کورونا کے ممکنہ مزید کیسز سامنے آنے کی معلومات ملے گی اور متاثرہ علاقے کو پیشگی لاک ڈائون کیا جا سکے گا۔ نک ولسن کے مطابق، نیوزی لینڈ میں سائنسی ماہرین کی تعداد زیادہ ہے اور اس کا فائدہ بھی ہوا، مریضوں، کیسز اور ہلاکتوں کو کنٹرول کرنے کے معاملے میں پالیسی سازی میں معاونت ملی جبکہ وزیراعظم، جو پہلے ہی رابطہ کاری میں ماہر سمجھی جاتی ہیں، انہوں نے عوام کا اعتماد بھی رابطہ کاری میں پیش پیش رہ کر مضبوط کیا۔ وزیراعظم آرڈرن کی تعریف اسلئے بھی زیادہ ہوئی کہ انہوں نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران اپنی تنخواہ میں 20؍ فیصد تک کمی کا اعلان کیا اور ساتھ ہی دیگر سرکاری عہدیداروں نے بھی ان کی مثال پر عمل کیا۔ دوسری جانب امریکا میں رابطہ کاری کا فقدان ہے اور صدر ٹرمپ لوگوں کو کنفیوژ کرتے نظر آئے کہ وبا شاید کم ہو جائے یا شاید بڑھ جائے۔ ہیلتھ کیئر کے شعبے کے ماہرین بھی حیران و پریشان نظر آئے اور یہ کہتے دیکھا گیا کہ کورونا وائرس پورے امریکا میں نہیں پھیلے گا۔ ٹفٹ یونیورسٹی کی ماہر عمرانیات روز میری ٹیلر کا کہنا ہے کہ رابطہ کاری کے فقدان کی وجہ سے ہی لوگوں کو پتہ نہ چلا کہ کیا کرنا ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھانے کیلئے کہ خطرہ بڑا ہے، حکومت کی طرف سے شفافیت کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی سائنسی اعداد و شمار کو بھی غیر جانبدار انداز سے دیکھنا ہوگا اور یہ وہ باتیں ہیں جن کے معاملے میں صدر ٹرمپ نے اختلاف دکھایا ہے۔
یورپ سے سے مزید