آپ آف لائن ہیں
پیر21؍ذیقعد 1441ھ 13؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو شہباز شریف کی گرفتاری سے روک دیا


مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس میں عبوری درخواست ضمانت پر لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو 17 جون تک شہباز شریف کی گرفتاری  سے روک دیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کی آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس میں عبوری درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس طارق عباسی اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔

شہباز شریف کی طرف سے اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز ایڈووکیٹ پیش ہوئے ہیں جبکہ ا سپیشل پراسکیوٹر نیب سید فیصل رضا بخاری بھی عدالت میں موجود تھے۔

نون لیگ کے صدر کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد فاضل عدالت نے 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض شہباز شریف کی ضمانت منظور کرلی، عدالت نے نیب کو حکم دیا کہ شہبازشریف کو 17جون تک گرفتار نہ کیا جائے۔

شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر لیگی کارکنوں نے زبردستی کمرہ عدالت میں گھسنے کی کوشش کی، اس موقع پر نون لیگی کارکنوں اور سیکیورٹی اہلکاروں میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔

درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے وکیل شہباز شریف سے استفسار کیا کہ درخواست گزار کہاں ہیں؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ کمرہ عدالت میں موجود ہیں اور کینسر کے مریض ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو گرفتاری کا خدشہ ہے ؟ اس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے جو جو ریکارڈ مانگا وہ دے دیا پھر بھی نیب گرفتاری کے لیے بے تاب ہے ۔

جج نے استفسار کیا کہ شہباز شریف کے خلاف کیس کس اسٹیج پر ہے؟ اس پر وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ شہباز شریف کے خلاف کیس انوسٹی گیشن کی اسٹیج پر ہے

عدالت نے پوچھا کی نیب والے کہاں ہیں روسٹرم پر آئیں ، جس کے بعد انہوں نے پوچھا کہ کیا نیب شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی مخالفت کرتا ہے؟اس پر نیب کے وکیل فیصل بخاری نے کہا کہ جی نیب شہباز شریف کی ضمانت کی مخالفت کرے گا۔

نیب وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شہباز شریف کو 5 اکتوبر 2018 ء کو صاف پانی کیس میں بلایا گیا، دوران ریمانڈ شہباز شریف کو رمضان شوگر مل کیس میں بھی گرفتار کیا گیا۔

وکیل شہباز شریف نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ نیب 63 دن کے ریمانڈ میں شہبازشریف سے تفتیش کرتی رہی، شہباز شریف کو 2 جون کے لیے طلب کیا گیا، جبکہ وارنٹ 28 مئی کے تھے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ جب وارنٹ پہلے نکلے تو آپ نے شہباز شریف کو 2 جون کو کیوں بلایا ؟ اس پر وکیل نے بتایا کہ جب نیب کے پاس گرفتاری کا مواد آیا تب شہباز شریف کے وارنٹ جاری کیے گئے ۔

عدالتی فیصلے کے بعد میاں شہباز شریف لاہور ہائیکورٹ سے واپس روانہ ہوگئے، جبکہ عدالت نے ملزم کو ضمانتی مچلکے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کروانے کا حکم جاری کردیا۔

عدالت نے درخواست کی آئندہ سماعت پر نیب سے جواب بھی طلب کر لیا ہے، واضح رہے کہ شہباز شریف کی درخواست میں چیئرمین نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید