آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تفہیم المسائل

سوال: کچھ اَئمہ ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت اس انداز میں کرتے ہیں کہ مائیک میں پیچھے مقتدیوں پر امام کی قرأت مکمل طور پر ظاہر ہوتی ہے ،کیا اس پر جہر کا اطلاق ہوگا یا نہیں ؟ ایسی نماز کا کیا حکم ہے ؟ صاحبِ ہدایہ نے جہر کی یہ تعریف کی ہے :وَالْجَہرُ:أنْ یُّسْمِعَ غَیْرَہٗ،وَھٰذَاعِنْدَالْفَقِیْہ أَبِی جَعْفَرِ الْھِنْدُوَانِیّ رَحِمَہُ اللہُ،۔وَقَالَ الْکَرْخِی:أَدْنَی الْجَہْرِ أَنْ یُسْمِعَ نَفْسَہٗ،(محمد نذیر احمد ، کراچی )

جواب:اس قرأ ت پر جہر کا اطلاق نہیں ہوگا اور نماز بلاکراہت جائز ہوگی ۔آپ نے جو عبارت حوالے کے طورپر درج کی ،اس کی اگلی عبارت میں ہے : ترجمہ:’’ اس لیے کہ آواز کے بغیر صرف زبان کو حرکت دینے کا نام قرأ ت نہیں ہے ،(ہدایہ ،جلد1،ص: 224)‘‘۔ عموماً جب مائیک کی frequency بڑھائی جائے تو وہ حساس طریقے سے کم آواز کو بھی بڑھادیتاہے،امام کی اس قرأ ت پر جہر کا اطلاق نہیں ہوگا،اس سے کم تر درجے میں سِر بھی نہیں ہوسکے گا۔محض دل میں قرأ ت کرنے سے نماز نہیں ہوگی ،بلکہ قرأ ت زبان سے اتنی آواز سے ہونی چاہئے کہ خود سُن سکے ،علامہ برہان الدین ابوبکر فرغانی لکھتے ہیں :ترجمہ:’’پھر اخفاء (یعنی نماز میں آہستہ قرآن پڑھنا)یہ ہے کہ اپنے آپ کو سنائے(یعنی پڑھنے والے کو خود سنائی دے ) اور جہر یہ ہے کہ دوسرے کو سنائے اور یہ’’ فقیہ ابوجعفر ہندوانی‘‘ کے نزدیک ہے، کیونکہ آواز کے بغیر محض زبان کی حرکت کا نام قرأ ت نہیں ہے اور امام کرخیؒ فرماتے ہیں: جہر کی ادنیٰ صورت یہ ہے کہ خود سن سکے اور آہستہ (اِخفاء)یہ کہ حروف صحیح ادا کرے، کیونکہ قرأ ت توزبان کا فعل ہے ،نہ کہ کان کا ،(ہدایہ اولین ،ص:98)‘‘۔علامہ زین الدین ابن نُجیم لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ صحیح قول کے مطابق قرأ ت کی حد یہ ہے کہ حروف کو اپنی زبان سے اس طرح صحیح طور پر اداکرے کہ خود کو سنائی دے،(البحرالرائق ،جلد1،ص: 510)‘‘۔غرض وہ قرأ ت جونماز میں فرض ہے ،جب تک اسے زبان سے لفظاًادانہ کیا جائے ،فرض ادا نہیں ہوگا اور نماز میں محض دل میں قرآن پڑھنے کا اعتبار نہیں ، ایسا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہے، یعنی اس سے فرضِ قرأ ت ادانہیں ہوگا اور ترکِ فرض سے نماز ادا نہیں ہوتی۔ بہتر صورت یہ ہے کہ مائیک کی آواز کو کم کردیاجائے ،نیز مائیک کومنہ سے تھوڑے فاصلے پر رکھاجائے ،تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔اس انداز میں بعض اوقات حرمین طیّبین کے اَئمہ کی آواز کی بھی سرسراہٹ سنائی دیتی ہے، کیونکہ ان کے اسپیکر بہت اعلیٰ کوالٹی کے اورحساس ہوتے ہیں ،بہرحال ایسی قرأ ت پر ، جس کی نشاندہی آپ نے کی ہے ، جہر کا اطلاق نہیں ہوتا اورنماز بلا کراہت جائز ہے۔

اقراء سے مزید