آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہبہ کا ارادہ ظاہر کرنے سے ہبہ لازم نہیں آتا

تفہیم المسائل

سوال: میں نے اپنی تمام جائیداد اپنے بیٹے اور بیٹیوں میں بالترتیب تقسیم کردی ہے ،میری دوبیویاں تھیں، اس تقسیم کے وقت میں نے اُن سے کہا تھا کہ انہیں بھی اسی مقدار میں دوں گا ، لیکن ایک بیوی فوت ہوگئی ،اب بچوں کا مطالبہ ہے کہ آپ نے انہیں دینے کا کہا تھا ،اب ہمیں دے دیں ۔کیا میں بیوی کے فوت ہونے کے بعد بچوں کو دینے کا پابند ہوں اور کیا بچے اس مطالبے کا حق رکھتے ہیں ؟،( محمد عمر، کراچی )

جواب:آپ کی جو اہلیہ فوت ہوگئی ہیں،ان کا آپ کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہے ، البتہ اگر آپ نے اُن کا حق مہر ادا نہیں کیاتھا تو اب وہ رقم آپ کے ذمے قرض ہے اور فوت شدہ خاتون کا ترکہ شمار ہوگی اورقانونِ وراثت کے مطابق ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگی،جس میں شوہر بھی شامل ہے ،البتہ آپ کی وفات کے وقت جو بیوی حیات ہوگی ،وہ آپ کی وارث بنے گی ۔جب تمام اولاد کو آپ نے اپنی زندگی میں برابر برابر ہبہ کردیا،تو کسی کو مطالبے کا حق حاصل نہیں ،ہاں اگر اب بھی کچھ مال آپ کے پاس موجود ہے ،تو آپ کے انتقال کے وقت جو ورثاء موجود ہوں گے ، وہ حسبِ تناسب حصہ پائیں گے ،اگرچہ پہلے ہبہ کے وقت اُنہیں حصہ ملاہو ۔نیز آپ کا یہ کہنا کہ ’’میں ان کو بھی اسی مقدار میں دوں گا ‘‘ ،یہ ہبہ نہیں ہے، محض ارادہ ٔ ہبہ ہے اور تاوقتیکہ آپ کوئی چیز کسی کو باقاعدہ ہبہ کرکے اس کی مِلک اور قبضے میں نہ دیں ،محض ہبہ کرنے کا ارادہ ظاہر کرنے سے ہبہ لازم نہیں آیا ۔

اقراء سے مزید