آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شازیہ ناہید

بجٹ کے ذریعے حکومت سال کے شروع میں ہی بتا دیتی ہے کہ وہ کن امورپر کتنے اخراجات کرے گی اور ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کہاں کہاں سے آمدنی حاصل کرے گی۔ حکومت کے پیش کردہ بجٹ کی روشنی میں ملکی معیشت میں کردار ادا کرنے والے ادارے، صنعت و زراعت اور دیگر شعبوں کے ساتھ گھر کی سطح بھی بجٹ کو ترتیب دیا جاتا ہے مختلف شعبےاپنی سال بھر کی منصوبہ بندی کرلیتے ہیں۔ 

رواں سال کا بجٹ بنانا ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے، کیوں کہ کورونا وائرس کے باعث پوری دنیا کی معيشت متاثر ہوئی ہے۔بجٹ بنانے کے لئے مختلف شعبوں کے ماہرین سے مشاورت لی جاتی ہے،ہم نے بھی رواںسال کے بجٹ کے لئے خواتین سے کچھ تجاویز لی ہیں ،کیوںکہ جہاںخواتین گھر کی بہترین منتظم قرار دی جاتی ہیں، وہیں قومی سطح پر بننے والے بجٹ کی تیاری میں بھی گہری دلچسپی رکھتی ہیں،مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے گھریلو اور قومی بجٹ کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا، جو نذر قارئین ہے ۔

ڈاکٹر عصمت ناز ( ڈین فیکلٹی آف ہسٹری وومن یونیورسٹی)

ہمیں انفرادی طور پر موجودہ حالات میں غیر ضروری اخراجات سے گریز کرنا چاہیے ۔تفریح اور شاپنگ کو فی الحال ترک کر دیا جائے، ہمارے معاشرے کے بہت سے مردوں کی کمائی بالکل ختم ہو چکی ہے بہت سے کام کرنے والے بے روزگار ہو چکے ہیں۔مستقبل پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ شاید بڑے شدید ترین حالات کا سامنا ہونے والا ہے۔ اس لئے ہماری خواتین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ سوچ سمجھ کر خرچ کریں فضول اخراجات سے گریز کریں اور بچت کرنے پر توجہ دیں۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کوئی ایسے امدادی معاشی وفلاحی پروگرامز ترتیب دیے جائیں جن کے ذریعے دیہاڑی دار ، گھروں میں کام کرنے والی جن کو فارغ کر دیا گیا اور مختلف تعلیمی اداروں میں چھابڑیاں لگانے والی خواتین کی زندگی کا پہیہ چلتا رہے ۔ یہ توقع کی جارہی ہے کہ رواں سال کےبجٹ میں کچھ ایسا انتظام ہوگا کہ ہنگامی حالات سے کیسے نمٹا جائے، ہمارے اتنے وسائل نہیں ہیں ہم معاشی طور پر کمزور ملک ہیں اس لئے حکومت کو دیکھنا چاہیے کہ ان حالات سے کیسے نمٹا جائے اور ہم لوگوں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں ۔خواتین اپنے اردگرد کے مشکل حالات کو سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کریں، تاکہ پوار کنبہ ان حالات میں پرسکون رہ سکے ۔

طاہرہ منظور ( سابق پرنسپل گورنمنٹ ایلمینٹری ا سکول وکالج)

قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہر بجٹ میں خواتین کی معاشی ترقی کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے رہے ہیں ،مگر انھیں عملی جامہ پہنانے کی نوبت ہی نہیں آتی میرے خیال میں خواتین کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ہر محلے میں کمیونٹی سینٹر یا کمیونٹی کونسلز بنائے، پڑھی لکھی خواتین تو مختلف شعبہ جات میں اپنا مقام بنا لیتی ہیں اور معاشی ترقی کا کچھ حد تک حصہ بنی ہوئی ہیں، مگر 80 فی صد خواتین کا معاشی ترقی میں کوئی کردار نہیں ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ آبادی کے اس بڑے حصے کو فعال بنایا جائے ان کے لیے کمیونٹی سینٹرز یا کمیونٹی کونسلز بنا کر زندگی کے مختلف شعبوں میں انھیں ہنرمند بنایا جائے، خواتین کی ممبر سازی کرکے ان کو بلا سود قرضے دیے جائے ان خواتین کو اپنے اپنے نمائندگان کے چناؤ کا اختیار ہونا چاہیئے ۔

ان نمائندہ خواتین کو حکومتی اداروں سے رابطے کا اختیار ہو ان کے کام کی تشہیر ہو اور ان کی آراء کی پذیرائی کی جائے یہ کونسلز یا کمیونٹی سینٹرز کم خواندہ بچیوں کی تعلیم و ہنر کا اہتمام کرے زندگی کے مختلف شعبہ جات میں ان کی رہنمائی کی جائے ،تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں۔ خواتین کی صحت اور بچوں کی نگہداشت کے بارے میں ان کی رہنمائی کی جائے اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت کا اہتمام کیا جائے ایسی محلہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو گھر گھر جاکر خواتین کی گھریلو صنعتوں میں مشاورت و معاونت کو یقینی بنائے اور ان کو معاشی ترقی میں حکومت کے شانہ بشانہ چلنے کی ترغیب دے۔

کورونا وائرس نے بلاتفریق دنیا کی تمام معاشی طاقتوں کو آئندہ کی ترجیحات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ہمیں بھی تمام سرکاری محکموں کے غیر ترقیاتی اخراجات کو 50فی صد کم کرنا ہو گا، کارکردگی نہ دکھانے والوں کو فارغ کیا جائے، زرعی شعبہ کی ترقی اور کسان کی مراعات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ صحت کے شعبے کی تشکیلِ نو تحصیل کی سطح تک صحت کے مراکز کو عالمی معیار کے مطابق بنانا تمام حکومتی اہلکاروں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنا علاج صرف اور صرف سرکاری ہسپتالوں میں کروائیں۔

بشری نقوی ( ایڈووکیٹ)

ہمارے ہاں سال میں کئی مرتبہ بجٹ آتا ہے، جس سے اس کی اہمیت ختم ہو چکی ہے اور بجٹ صرف ایک کاروائی بن کر رہ گیا ہے ۔قیمتوں اور پالیسیوں میں سارا سال اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ آج تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ پاکستان میں بجٹ کس کے لئے بنایا جاتا ہے ،کیوں کہ عوام کی بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہیں نہ ہی ان کی مشکلات میں کمی آتی ہے، روزگار کی فراہمی کے لئے بجٹ میں سب سےکم رقم رکھی جاتی ہے، البتہ بڑی رقوم صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کو فائدہ دینے کے لئے ضرور مختص کی جاتی ہے۔

ترقیاتی اخراجات کابھی چوتھائی حصہ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے ۔ٹیکس بھی بےشمار ہیں۔حکومت کو اپنا فوکس چند بڑی چیزوں پر رکھنا چاہیے۔ مثلاً جس کے پاس ایک ہزار گز یا اس سے زیادہ پلاٹ ہے اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے ٹیکس لیا جائے۔پندرہ لاکھ یا اس سے زیادہ مالیت کی گاڑی کےمالک سے اس کے ذرائع آمدن کے مطابق ٹیکس لیا جائے۔ہر فیکٹری کی پیداواری لاگت اور مارکیٹ ویلیو پر نظر رکھی جائے اور اسی تناسب سے ٹیکس لیا جائے اداروں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے، خواتین ورکرز کو ہر شعبے میں رجسٹرڈ کیا جائے، جس کا پوار ریکارڈ حکومتی اداروں کے پاس ہونا چاہیے۔ 

حکومت کے پاس صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے وافر ذرائع آمدن میسر ہونا چاہیے ۔بجٹ میں اگر چند اچھے نکات ہوتے بھی ہیں تو مفاد پرست عناصر ان کے ثمرات مستحق افراد تک پہنچنے نہیں دیتے، عمل درآمد میں کوتاہی بڑا المیہ ہےاس طرف توجہ دی جائے ۔

طاہرہ نجم (سماجی کارکن)

موجودہ حالات میں پہلے جو کام ہو رہا تھا،اس کو بند ہوئے اڑھائی ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ، خواتین بہت پریشان ہیں، ہنر مند خواتین کے کام کی نمائش ہر سال باقاعدگی سےکروائی جاتی ہے رواں سال یہ بھی نہیں ہوسکی، اس لئے کسی کی کوئی سیل نہیں ہورہی سرمایہ کاری منجمد ہو چکی ہے۔گھروں میں کام کروا نے والوں کے آرڈر بند ہونے سے آمدنی ختم ہو کر رہ گئی ہے خواتین کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں ایسی خواتین کو کچھ مراعات دی جائیں، تاکہ جن کو کام نہیں مل سکا وہ کام کرسکیں نمائش کروائی جائے جہاں فری اسٹالز دئےجائیں ۔

خواتین کا کردار معاشی ترقی میں اہم ہے، حکومت انہیں سہولیات دے اور مارکیٹنگ کے لئے بہترین مواقع فراہم کئے جائیں تو خواتین کی صلاحیتیں کھل کرسامنے لائی جاسکتی ہیں ۔حکومت عوام دوست بجٹ بنائے جس میں معاشرے کے ہر طبقے کا خیال رکھا جائے۔

آمنہ عطاء الرحمان ( ماہر خصوصی تعلیم)

ہمارا معاشرہ ہمیشہ سے غیر متوازن بنیادوں پر کھڑا ہے ،صنفی امتیازات کے پیش نظر ہمارے معاشرے کے بیشتر فیصلے کیے جاتے ہیں اگر ہم معیشت کی بات کریں توخواتین کی نسبت مردوں کو زیادہ پرکشش تنخواہیں اور بڑے عہدے دئیےجاتے ہیں اسی لئے خواتین معاشی عدم تحفظ کا شکار دکھائی دیتی ہیں، خواتین مجموعی طور پر دنیا میں کم آمدنی والی پوزیشنز پر کام کرتی ہیں۔ اگر ہم کورونا وائرس کے شروع کے دنوں پر نظر دوڑائیں تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ تقریباً 45 ملین خواتین مختلف شعبوں سے وابستہ تھیں جو اس وقت بیروزگار ہو چکی ہیں۔ 

مختلف شاپنگ مالز،ریسٹورنٹس ،زراعت تعمیرات ،آٹوموبائل، بیوٹی پارلرز اور بطور مددگار کے طور پر کام کرنے والی خواتین کی بڑی تعداد بے روزگار ہو چکی ہیں۔ کام کرنے والی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں 16 فی صد فی گھنٹہ اجرت کم ملتی ہے، جس سے معاشی تنزلی بڑھ رہی ہے ،رواں سال کے بجٹ میں خواتین کے لئے خصوصی پیکجز متعارف کروائے جائیں، اور ان پر عمل درآمد کے لئے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیا جائے، جس میں کرپشن کی کہیں کوئی گنجائش موجود نہ ہو۔

مہک بٹ ( بلدیاتی کارکن)

موجودہ حالات میں خواتین کی معاشی ترقی کے لیے حکومت کو بجٹ میں موئثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، کام کرنےوالی خواتین کو بلا سود قرضے دئیے جائیں، تاکہ گھروں میں بیٹھ کر ہنرمند خواتین اپنے کام کو وسعت دے سکیں ۔حکومت سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک میں موجودہ ووکیشنل ٹریننگ سینٹر ز کے لیے متوقع بجٹ میں رقم مختص کی جائے،جس سے خواتین کو چھوٹی سطح پر اشیاء تیار کرنے کی ٹریننگ کے مواقع دے جائیں اس سے گھریلو صنعت کو فروغ ملے گا اورملکی معاشی صورت حال میں بہتری آئے گی ملک کی نصف آبادی جو خواتین پرمشتمل ہے، اس کے لیے حکومت کی طرف سے کبھی مواقع فراہم نہیں کیے گئے، جس سے خواتین معاشی طور پر مضبوط نہیں ہو سکیں اور ملکی معاشی ترقی میں اپنا نمایاں کردار ادا نہیں کر سکیں۔ 

معاشی ترقی سے خواتین فیصلہ ساز اداروں میں مثبت شمولیت حاصل کر سکیں گی، کوئی بھی معاشرہ خواتین کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا ،ہوم بیسڈ ورکرز کے لیے بھی قانون سازی ہونی چاہیے، تاکہ گھروں میں بیٹھی ہنر مندر خواتین کو بھی مزدور مانا جائےاور ان کو بھی قانونی تحفظ حاصل ہو، اصل میں خواتین کی ترقی میںہی قوموں کی ترقی ہے ،خواتین معاشی طور پر مضبوط ہو ں گی تو پاکستان مضبوط ہوگا۔

فریحہ منیر (ممبر خواتین کلب)

بجٹ کا اعلان ہر سال کی طرح رواں سال بھی کیا جائے گا اور اس کے بعد زندگی معمول کے مطابق چلتی رہے گی، مرد آمدنی میں اضافے اور خواتین گھر کا بجٹ چلانے کی پریشانی میں گھری رہیں گی یعنی بجٹ کے اثرات ملکی معیشت پر دکھائی دیں گے نہ ہی گھریلو بجٹ پر، پھر بھی آمدنی و اخراجات کا تخمینہ لگانا ضروری ہوتا ہے ۔اب بےروزگاری اور بجٹ کا اعلان ایک رسم ہی بن گیاہے کہ سال بھر مختلف ڈیوٹیوں ، ٹیکسوں اور بجلی ، گیس ، پٹرول کے نرخوں میں ردو بدل ہوتا رہتا ہے۔

ابھی نیا مالی سال شروع نہیں ہوگا کہ منی بجٹ آنے شروع ہوجائیں گے ۔اسی طرح جن منصوبوں کو جاری رکھنے یا پایہ تکمیل تک پہنچانے کا اعلان ہوتا ہے، ان میں سے اکثر پر عمل ہی نہیں کیا جاتا اور ان مدات میں رکھی رقوم کہیں پر خرچ کرلی جاتی ہیں۔ 

خواتین بھی موجودہ حالات میں اپنے گھریلو بجٹ کو سوچ سمجھ کر بنائیں، کیوں کہ اب ہمیں اچھی طرح اندازہ ہونا چاہیے کہ کسی بھی وقت کسی بھی مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے، ایسے میں ایک خاتون خانہ حالات کو اپنی فہم اور بچت کے ساتھ سنبھال سکتی ہے۔