کراچی (ٹی وی رپورٹ)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی اپوزیشن لیڈرشہباز شریف اور بلاول بھٹو کو وزارت خارجہ آنے کی دعوت ، خطے کی صورتحال، بھارتی عزائم اور کشمیرسمیت قومی ایشوزپر بریفنگ کی پیشکش، اگروہ نہیں آسکتے توا ن کے پاس جانےکے لئے تیار ہوں، قومی معاملات پر میری کوئی انا اور ضد نہیں ہے، اہم مسئلے پرقومی اتفاق رائے ہونا چاہئے۔ وہ جیوکے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگوکررہے تھے۔ پروگرام میں ن لیگ کے رہنما سینیٹر عبدالقیوم اور سینئر صحافی عامر متین بھی شریک تھے۔سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ وزیرخارجہ کی اپوزیشن رہنماؤں کو بریفنگ کی پیشکش کوسراہتا ہوں لیکن یہ پیشکش وزیراعظم کی طرف سے آنی چاہئے، وزیراعظم اپوزیشن رہنماؤں اور پارلیمانی لیڈرزکے ساتھ بیٹھ کر آگے بڑھنے کا راستہ طے کریں، چین ہندوستان کے علاقے میں نہیں آیا ہے کیونکہ لداخ کا علاقہ متنازع ہے،امریکن لابی بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنا چاہ رہی ہے۔سینئر صحافی عامر متین نے کہا کہ چین اورہندوستان کی لڑائی بہت سنگین ہوگئی ہے بدقسمتی سے پارلیمنٹ اورسیاسی جماعتیں اس پربات نہیں کررہی ہیں، شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن رہنماؤں کو اس مسئلہ پر بریفنگ کی پیشکش بہت اچھی بات ہے، وزیراعظم عمران خان کو اس مسئلہ پر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنا چاہئے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت ہندو راشٹرا نظریے پر برسراقتدار آئی ہے، یہ حکومت نہرو اورگاندھی کے سیکولر انڈیا کو دفن کرنے پر تلی ہوئی ہے، بھارتی حکومت اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھ رہی ہے، اکھنڈ بھارت کے نظریے سے پاکستان، چین، نیپال، سری لنکا اور افغانستان متاثر ہوتے ہیں، مودی حکومت کورونا کے بعد مقبوضہ کشمیرسے پابندیاں اٹھاسکتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا۔شاہ محمود قریشی کاکہنا تھا کہ بی جے پی حکومت اپنے ایجنڈے پرگامزن رہی توخطے کا امن متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس صورتحال پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بات کی ہے، سلامتی کونسل کوایک نیا خط لکھا ہے، او آئی سی کو بھی باورکروایا ہے کہ اب جاگئے، یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی توجہ بھی اس خطرناک صورتحال پردلوارہا ہوں۔