آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

رنگ و نسل کا امتیاز اور اسلام

صدائے تکبیر … پروفیسر مسعود اختر ہزاروی
ان دنوں امریکہ میں رنگ و نسل کی بناء پر تفریق عروج پر ہے۔ پولیس کے ہاتھوں تشدد کا شکار سیاہ فام نوجوان کے بہیمانہ قتل کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور پولیس اب تک 10 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر چکی ہے۔ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی اسکولوں میں بھی بچوں کے ساتھ نسلی امتیاز برتا جا رہا ہے جس کی دو بڑی وجوہ ہیں۔ ایک حکومتی پالیسی اور دوسرا غربت ۔ ان دونوں وجوہات کے باعث نسلی امتیاز کے زیراثربچوں کو ایک دوسرے سے الگ کیا جا رہا ہے۔ہارورڈ یونیورسٹی میں کی جانے والی اس تحقیق کے خالق’’ چُنگ می لی‘‘ کہتے ہیں کہ اس صورتِ حال کے بہتر ہونے کے بارے میں لوگ زیادہ پر امیدنہیں۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو نسلی اور قبائلی تعصبات کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ خالق حقیقی نے نسل انسانی کی افزائش کا سلسلہ ہی کچھ اس طرح رکھا ہے کہ غیر اختیاری طور پر انسان فطری خونی رشتوں میں منسلک ہو تا ہے۔قدرت نے معاشرے میں زندگی گزارنے کے لئے روزاول سے انسانوں کو کچھ یسے اصول بھی عطا کر دیے جو انہیںباہم الفت و محبت کا پیکر بناتے ہیں لیکن یہ اصول اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ایسے فلاحی اور عادلانہ نظام کو بھی ترویج دیتے ہیں جہاں قبائلی اور نسلی تعصبات پروان نہ چڑھ سکیں۔ اور یہ بھی مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ ان تعصبات کے فروغ میں بنیادی کردار جہالت کا ہوتا ہے۔ بعثت مصطفوی ﷺ سے قبل کے دور کو کتب تاریخ و سیرت میں ایک جامع لفظ ’’دور جاہلیت‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ وہ پورا کا پورا معاشرہ دیگر اعتقادی اور عملی خرابیوں کے ساتھ ساتھ قبائلی اور نسلی تعصبات کی بھینٹ چڑھا ہوا تھا۔ قبیلوں کے سردار انانیت اور نسلی برتری کے خول میں بند تھے۔ اکثر و بیشتر حق و باطل کی تمیز میں رکاٹ بھی ان کی یہی تعصبانہ ذہنیت ہوا کرتی تھی۔ دوسرے قبائل کے ساتھ خاک و خون کا کھیل ایک معمول بن چکا تھا۔ اسی بنا پر چھوٹی چھوٹی باتوں پر جنگ و جدال کا سلسلہ شروع ہو جاتا جو کئی، کئی سال تک جاری رہتا اور اس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتیں۔ اصلاح معاشرہ کیلئے حضورنبی کریمﷺ کے کیے گئے عملی اور دور رس اقدامات میں سے ایک قبائلی اور نسلی تعصبات کا قلع قمع کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجرات کی آیت نمبر13میں ارشاد فرمایا کہ ’’اے بنی نوع انسان بیشک ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا فرمایا ہے اور تمہاری باہم پہچان اور شناخت کیلئے گروہ اور قبیلے بنا دیئے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں تم میں سے وہی قابل احترام ہے جو پرہیزگار اور متقی ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے‘‘۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کو واضح کردیا گیا کہ برادریوں اور قبیلوں میں تقسیم کی حکمت فقط شناخت اور پہچان ہے۔ حقیقی معنوں میں عنداللہ عزت و احترام کا معیار قبیلہ ہے نہ ذات۔ رنگ ہے نہ نسل بلکہ فقط خوف خدا اوراللہ کی ذات سے مضبوط تعلق ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں آپﷺ نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالی تمہاری صورتوں اور رنگوں کو نہیں بلکہ تمارے دلوں کی کیفیات کو دیکھتا ہے‘‘ خطبہ حجۃ الوداع
کے موقع پر جب اللہ پاک کی طرف سے تکمیل دین کا مژدہ جانفزا سنایا جارہا تھا تو اس موقع پر حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’کسی عربی کو عجمی یا عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں۔ کسی گورے کو کالے اور کالے کو گورے پر کوئی برتری نہیں‘‘یہی وجہ تھی کہ آپ ﷺ کے تشکیل کردہ معاشرے میں ایران سے آنے والے حضرت سلمان فارسیؓ، روم سے ہجرت کر کے آنے والے حضرت صعیب رومیؓ اور سرزمین حبشہ سے تعلق رکھنے والے حضرت بلال حبشیؓ ایک اعلی ترین مقام و مرتبہ پاگئے۔ جب حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں حضرت بلالؓ کا وصال ہوا تو کم و بیش چھبیس لاکھ مربہ میل کے خلیفہ وقت حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ’’قد مات سیدنا الیوم‘‘ آج ہمارا سردار دنیا سے چل بسا۔ ہجرت کے بعد جب ریاست مدینہ کا قیام عمل میں آتا ہے تو وزارت خزانہ کا قلمدان بھی حبشی نسل سے تعلق رکھنے والے حضرت بلال ؓ کے سپرد کیا جاتا ہے جو رنگ کے سیاہ اور آزاد کردہ غلام ہیں۔ اسی طرح مسجد نبوی شریف کے موذن ہونے کی سعادت بھی ان ہی کے حصے میں آتی ہے فتح مکہ کے موقع پر جب حضرت بلالؓ خانہ کعبہ کی چھت پہ چڑھ کے اذان دے رہے تھے تو مکہ کے سردار سٹپٹائے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ طرح طرح کی بیہودہ باتیں کیں لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ تعلیمات مصطفیٰﷺ نے رنگ و نسل کے امتیازات اور نسلی تعصبات سے انسانیت کو چھٹکارہ دے دیا ہے اور عزت و احترام اور بود و باش کے معیار تبدیل ہو چکے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ رنگ و نسل اور قبیلہ و ذات تو غیر اختیاری اور فطری طور پرعنا یت کیے جاتے ہیں۔ جس میں بندے کی خواہش شامل ہوتی ہے نہ مرضی۔ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اظہار عظمت افراد کی حسن کارکردگی اور اختیاری معاملات میں ہونا چاہیے نہ کہ فقط برادری، رنگ اور نسل کی وجہ سے۔ لیکن بصد افسوس کہنا پڑتا ہے کہ آج دنیا کی سپر پاور امریکہ سے لے کر مسلمان معاشروں تک تباہی اور بربادی کے جملہ اسباب میں سے ایک زمانہ جاہلیت کے وہی قبائلی جھگڑے، برادری ازم کی چپقلش اور رنگ و نسل کے امتیازات ہیں۔بطور مسلمان ہمیں تمام معاملات میں ذات پات اور رنگ نسل کو بالائے طاق رکھنا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔ اگر رشتہ داری کے شرعی اصول دیکھے جائیں تو واضح معلوم ہوتا ہے وہاں پر بھی تقویٰ سب سے مقدم تھا۔ آپ ﷺنے فرمایا ’’ایک آدمی چار باتوں کی بنا پر عورت سے نکاح کرتا ہے حسب ونسب، مالداری، خوبصورتی اور دینداری، تو تم دین دار عورت کو ہی معیار بناؤ‘‘۔ مومن کا اصل معیار رنگ و نسل کی بجائے تقویٰ ہی ہونا چاہیے۔ لیکن شومیء قسمت کہ اسلامی رشتہ جسے اولیت ملنی چاہیے تھی وہ ان تعصبات کے پردوں میں گم ہو کرمنہ چھپاتا نظر آتا ہے۔ اس کا نمبر کہیں پانچواں ہے تو کہیں چھٹا۔ پہلے نمبر پر چوہدری، راجہ، بٹ، مغل، جنجوعہ، اعوان، ٹوانہ اورسید وغیرہ آتے ہیں۔ دوسرے نمبر پہ پاکستانی یا کشمیری۔ تیسرے نمبر پہ امیر یا غریب۔ چوتھے نمبر پہ شعبہ زندگی آتا ہے کہ وہ مستری ہے۔ موچی ہے۔ نائی ہے۔ کمبہار ہے یا زمیندار یا بزنس مین اور پھر جا کے اسلام کا نام آتا ہے کہ ہم مسلمان بھی ہیں۔ یہی وہ بتان رنگ و بو اور نسلی تعصبات کی جاہلانہ رسومات تھیں،جنہیں حضورﷺ نے اپنے پاؤں کے نیچے روندا تھا لیکن ہم نے انہیں سر کا تاج اور فخر کا معیار بنایا ہوا ہے۔ اور ساتھ شکوہ کناں بھی ہیں کہ ہم ذلیل و رسوا اور کمزور کیوں ہو گئے۔ 
یورپ سے سے مزید