• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس پانچ جون سے اس صورتحال میں شروع ہوئے جب ملک میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 90ہزار سے زائد اور مرنے والوں کی تعداد 18سو سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں کورونا کی وبا جس تیزی سے پھیل رہی ہے وفاقی حکومت نے لاک ڈائون کو بھی اسی تیزی سے تقریباً ختم کر دیا ہے۔ اس وقت ملک میں صرف تعلیمی ادارے، شادی ہالز اور ریستورانوں کی بندش جاری ہے جبکہ سیاحت کو بھی کھولنے کے لیے متعلقہ صوبائی حکومتوں کو ایس او پیز تیار کرنے کی ہدایات کر دی گئی ہیں۔ لاک ڈائون کے خاتمے اور عوام کی طرف سے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کے جو نتائج سامنے آ رہے ہیں اس کی انتہائی ڈرائونی تصویر پنجاب حکومت کی لیک ہونے والی ایک سمری میں دیکھی جا سکتی ہے۔

کورونا کی وبا کے بڑھنے کے دوران ہی مختلف شعبوں کے کھولے جانے کی مثالیں دے کر اپوزیشن نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بھی طلب کرنے کے لیے حکومت پہ شدید دبائو ڈالا جس کے نتیجے میں گزشتہ ماہ ایک ہفتے کے لیے دونوں ایوانوں کے اجلاس منعقد کیے گئے، یہ اجلاس کورونا سے متعلق صورتحال کے جائزے، حکومتی اقدامات اور مشاورت سے مستقبل کی حکمت عملی مرتب کرنے کے نام پہ منعقد ہوئے تاہم اس دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو روایتی الزام تراشی اور کردارکشی دیکھنے میں نظر آئی اس نے ثابت کر دیا کہ سیاست دان ملک کو درپیش چیلنجز میں بھی سیاست کا کھیل کھیلنے سے باز نہیں آ سکتے۔ جس اپوزیشن نے کورونا کی وبا کے دوران قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کو غیرمعمولی اہمیت کا حامل قرار دیا تھا قومی اسمبلی میں اس کے لیڈر شہباز شریف اجلاس میں تشریف ہی نہیں لائے اور عین آخری وقت پہ جواز پیش کر دیا گیا کہ ان کی صحت کے مسائل کی وجہ سے ڈاکٹرز نے انہیں اجلاس میں شرکت سے منع کر دیا ہے اور پارٹی کی پارلیمانی پارٹی نے بھی ڈاکٹرز کی رائے کی تائید کرتے ہوئے انہیں اجلاس میں شرکت کرنے سے روک دیا ہے۔ اسی طرح جو حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ کورونا سے نمٹنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے اور وزیراعظم پاکستان خود براہ راست تمام امور کی نگرانی کر رہے ہیں اس حکومت کے وزیراعظم بھی اجلاس میں نہ آئے جبکہ اجلاس کے انعقاد کے حوالے سےاپوزیشن میں متضاد آر پائی جاتی تھیں اور فواد چوہدری جیسے کئی ارکان پارلیمنٹ ورچوئل سیشن منعقد کرنے کے حامی تھے تاہم آئین اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے قواعد وضوابط میں ایسی گنجائش نہ ہونے کا جواز بتاتے ہوئے فزیکل اجلاس منعقد کیے گیے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دونوں ایوانوں کے ان سیشنز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقبل میں ورچوئل اجلاس یقینی بنانے کے لیے درکار قانون سازی کر لی جاتی لیکن حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو ایک دوسرے پہ تنقید سے فرصت ملتی تو اس بارے بھی سوچا جاتا۔ یوں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگاتے ہوئے یہ بے سود اجلاس ملتوی ہو گئے۔ اسی دوران چار پانچ ارکان پارلیمنٹ، صحافیوں اور عملے کے کئی افراد میں کورونا ٹیسٹ کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے جبکہ اس سے قبل ہی اسپیکر اسد قیصر بھی کورونا کا شکار ہو کر گھر میں قرنطینہ ہو چکے تھے۔ اسپیکر کورونا سے صحت یاب ہو کر دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں تاہم گزشتہ اجلاس میں شریک ہونے والے رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں، منیر اورکزئی اجلاس سے قبل کورونا کا شکار ہوئے تھے اوربعد میں ٹیسٹ نیگیٹیو آنے پہ انہوں نے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی تھی تاہم دوران اجلاس ان کی طبیعت خراب ہونے پہ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور اب ان کی موت کا سبب ہارٹ اٹیک بتایا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کے 130دن پوری کرنے کی آئینی پابندی کے تحت پانچ جون سے شروع ہونے والے بجٹ اجلاس کو تیرہ اگست تک مسلسل جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس اس وقت ہونے جا رہے ہیں جب پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے تقریبا ایک درجن سے زائد ارکان کورونا کا شکار ہیں، قومی اسمبلی کے ایڈیشنل سیکریٹری شمعون ہاشمی سمیت پارلیمان کے عملے کے کئی افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے، وفاقی وزیر فواد چوہدری ایک بار پھر پارلیمان کے ورچوئل سیشن منعقد کرنے کی تجویز دے رہے ہیں تاہم ایسا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ وفاقی حکومت کی طرف سے بارہ جون کو وفاقی بجٹ پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اس لیے بارہ جون کےبعد سے قومی اسمبلی میں بجٹ کے علاوہ دوسری کوئی کارروائی ممکن نہیں ہو سکے گی۔ ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت کی عمر پچاس سال سے زائد ہے اس لیے ان کے کورونا سے متاثر ہونے کے خدشات زیادہ ہیں چناچہ پارلیمانی جماعتوں کی مشاورت سے ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ ہر سیاسی جماعت کے چند ارکان باری باری اجلاس میں شریک ہوں اور اگر ممکن ہو سکے تو بیک وقت فزیکل اور ورچوئل اجلاس منعقد کرنے کی کوشش کی جائے جس میں بعض ارکان وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہو سکیں، بجٹ چونکہ ایک ٹیکنیکل اور پیچیدہ اعداد و شمار پہ مبنی معاملہ ہے جس سے ارکان کی اکثریت لا علم ہوتی ہے چناچہ ہر جماعت میں سے صرف ان ارکان کی اجلاس میں شرکت کو یقینی بنایا جائے جو بجٹ کو بہتر بنانے کے لیے عوام اور ملک کے مفاد میں ٹھوس تجاویز دے سکیں جبکہ باقی ارکان کی ورچوئل شرکت کو ممکن بنایا جائے۔ بجٹ کی منظوری کے عمل کے دوران ووٹنگ کے لیے بھی مشاورت اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی معاونت سے ایسا لائحہ عمل مرتب کیا جائے جس میں ارکا ن کی ورچوئل ووٹنگ کو یقینی بنایا جا سکے، کورونا کے باعث بجٹ پہ بحث کے دورانیے کو محدود کر دیا جائے جس میں سیاسی جماعتوں کے متعلقہ ارکان ہی حصہ لیں جبکہ طویل اجلاس کی بجائے جس قدر جلد ممکن ہو بجٹ منظور کیا جائے اور اس کے بعد فوری اہم قانون سازی کر کے اجلاس ختم کر دیا جائے۔موجودہ حالات میں دن پورے کرنے کی آئینی پابندی سے استثنالیا جا سکتا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین