• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاشرے کو پُرامن بنانے اور قانون کی حکم رانی کے لیے ایک مؤثر، تربیت یافتہ اور بغیر کسی لالچ کے اپنے فرائض نبھانے والی پولیس فورس انتہائی ضروری ہے۔ مؤثر پولیسنگ نظام سے معاشرے کے بگاڑ کی دُرستی کے ساتھ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ پنجاب پولیس عام طور پر چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتی ہے، تاہم اسی پولیس کے بہت سے دیانت دار، محنتی افسران اور اہل کار فورس کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔میاں والی، پنجاب اور خیبر پختون خوا کے سنگم پر واقع ایک نیم قبائلی ضلع ہے۔ یہاں کے باسی مہمان نواز اور قانون کی عمل داری پر یقین رکھتے ہیں۔نیز، یہاں کے شہریوں نے ہمیشہ جرائم کی روک تھام اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کا ساتھ دیا۔

میاں والی کی تاریخ کی بڑی ڈکیتی کا معما حل
صرافہ ایسوسی ایشن سرگودھا کی جانب سے ڈی پی او میانوالی حسن اسد علوی، ڈی ایس پی مہر ریاض احمد اور ایس ایچ او تھانہ واں بھچراں شاہد نثار کو شیلڈز دی جارہی ہیں

دو ماہ قبل سرگودھا سے تعلق رکھنے والے جیولر، نصیر احمد پراچہ سے واپسی پر ضلع میاں والی کے علاقے، تھانہ واں بھچراں کی حدود میں نامعلوم ڈاکو دو کروڑ روپے مالیت کے زیورات چھین کر فرار ہوگئے۔ ملزمان کی گرفتاری اور زیورات کی برآمدگی پولیس کے لیے بہت بڑا چیلنج تھا۔ ڈسٹرکٹ پولیس افسر، حسن اسد علوی نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا اور اپنی قیادت میں ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی، جس میں ایس پی انویسٹی گیشن رانا محمّد ارشد زاہد، ڈی ایس پی موسیٰ خیل سرکل مہر محمّد ریاض، ایس ایچ او تھانہ واں بھچراں شاہد نثار، انچارج آئی ٹی برانچ عبدالغفّار اور دیگر اہل کار شامل تھے۔ سی آئی اے، سرگودھا نے بھی اِس ضمن میں ٹیم سے بھرپور تعاون کیا۔ ٹاسک فورس نے ملزمان کی تلاش کے لیے دوماہ تک سرگودھا، خوشاب، بھکر اور میاں والی اضلاع میں کام کیا، جس کے دوران جدید ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کیا گیا ، آخرکار محنت رنگ لے آئی اور علاقے کی تاریخ کی اس بڑی ڈکیتی میں ملوّث ملزمان کو قانون کے شکنجے میں جکڑ لیا گیا۔ تین ملزمان کا تعلق ضلع بھکر، ایک کا ضلع خوشاب اور ایک ملزم کا تعلق ضلع میاں والی سے ہے۔

متاثرہ جیولر، نصیر احمد پراچہ کے مطابق، وہ گزشتہ کئی سالوں سے صرافہ بازار، سرگودھا میں کاروبار کررہے ہیں اور صرافہ بازار، میانوالی سے ملنے والے ارٓڈرز پر بھی زیورات فراہم کرتے ہیں۔ وقوعے کے روز اپنے ایک ملازم، سجاد حسین اور ڈرائیور، زاہد حسین کے ساتھ گاڑی نمبر LEE-7123پر صرافہ بازار، میاں والی میں کاروباری معاملات نمٹا کر سرگودھا واپس جارہے تھے کہ واں بھچراں میں سرگودھا روڈ پر نامعلوم کار سواروں نے ریلوے پھاٹک بند کرکے اُنہیں روک لیا اور 2122گرام سونا، 40000ہزار روپے نقد اور موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے۔ ڈی پی او، حسن اسد علوی نے بتایا کہ ڈکیتی کی واردات میں ملوّث ڈاکوؤں کو صرافہ بازار، میاں والی میں کام کرنے والے ایک کاریگر، عقیل عبّاس ولد مرید عبّاس نے معلومات کی فراہم کیں، جو اب پولیس حراست میں ہے۔ حن اسد علوی کے مطابق، اُن کی قائم کردہ ٹاسک فورس نے دوماہ کی محنت سے نہ صرف ملزمان کو ٹریس کرکے گرفتار کیا،بلکہ اُن کے قبضے سے چھینا گیا مال اور واردات میں استعمال ہونے والی کلاشنکوف، بندوق، رپیٹر بھی برآمد کرلیا۔

واردات کے لیے کرائے پر کار حاصل کی گئی تھی، جو برآمد کرلی گئی۔بعدازاں، ایک خصوصی تقریب میں برآمد کیا گیا مال متاثرہ جیولر کے حوالے کیا گیا۔ اس موقعے پر سرگودھا صرافہ بازار ایسوسی ایشن کی طرف سے ڈی پی اواور اُن کی ٹیم کو شیلڈز دی گئیں۔ جیولر، نصیر احمد پراچہ نے میاں والی پولیس اور خاص طور پر ڈی پی او کا شُکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈکیتی کے نتیجے میں اُس کی کُل جمع پونجی چھین لی گئی تھی۔ اگر یہ واردات ٹریس نہ ہوتی اور ملزمان گرفتار نہ ہوتے، تو وہ کوڑی کوڑی کے محتاج ہوجاتے۔ اس موقعے پر ڈی پی او، حسن اسد علوی نے کہا کہ اُنہوں نے کسی پر کوئی احسان نہیں کیا، بلکہ یہ اُن کی ذمّے داری تھی اور اُنہوں نے اپنا فرض نبھایا۔ اُنہوں نے بتایا کہ پولیس فورس جرائم کی بیخ کنی کے لیے اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے پوری جان لگاتی ہے۔ کئی مرتبہ پولیس افسران اور اہل کاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا تاکہ شہری سکون کی زندگی گزار سکیں۔ 

الحمدللہ، ڈکیتی کی اس بڑی واردات میں ملوّث ملزمان کی گرفتاری اور لُوٹا گیا مال مالک تک واپس پہنچنا پولیس کی جانب سے فرائض کی ادائی کی گواہی ہے۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح محکمۂ پولیس میں بھی گندی مچھلیاں موجود ہیں، جو ادارے کی بدنامی کا سبب ہیں، لیکن اب وہ دَور نہیں رہا کہ کوئی غلط کام کرکے چُھپ سکے۔ اب ادارے کی بدنامی کا سبب بننے والے افسران اور اہل کاروں کی فوری نشان دہی ہوجاتی ہے، جس پر اُن کا سخت محاسبہ بھی کیا جاتا ہے۔ شہریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی پولیس پر اعتماد کریں تاکہ مل جُل کر جرائم پیشہ عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔

تازہ ترین