آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کو ان دنوں دو عشروں کے دوران ٹِڈّیوں کی بدترین افزائش کا سامنا ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کی جاچکی ہے۔متعلقہ حکّام صحرائی ٹِڈّیوں کے لشکروں سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔لیکن یہ ٹِڈّیاں بڑے پیمانے پر فصلیں تباہ کر رہی ہیں، جس سے خوراک کی قلت کے خدشات پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔وزیر برائےنیشنل فوڈ سکیورٹی مخدوم خسرو بختیار کا قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ ٹِڈّیوں کا حملہ بے مثال اور انتہائی قابل تشویش ہے۔

یہ ٹِڈّیاں گزشتہ برس جون کے مہینے میں میں ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوئی تھیں اور پہلے ہی جنوب مغربی علاقوں میں بڑے پیمانے پر فصلوں کو تباہ کر چکی ہیں۔ ان علاقوں میں سب سے زیادہ کپاس، گندم اور مکئی کی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔پاکستان میں یہ ٹڈیاں جنوبی صوبے سندھ سے سفر کرتی ہوئیں شمال مغربی صوبے خیبرپختون خوا تک پہنچ چکی ہیں۔ انہیں مناسب موسم ملنے اور متعلقہ حکّام کی جانب سے ردعمل میں تاخیرکے باعث ان کی تعداد اور متاثرہ علاقوں میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ٹِڈّی یا Locustکوبدترین حشرات میں سے ایک حشرہ قرار دیا جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ حشرہ تقریباً سولہ ملین مربع کلو میٹر تک تباہ کاریاں پھیلاسکتا ہے۔ اس کی حد margaritaria سے شروع ہوکر جنوبی افریقا کےصحرائے صحاراکو پار کر کےجزیرہ نما عرب کے علاقوں سے گزرتی ہوئی شمال مغربی بھارت سے ہوتی ہوئی پاکستان کا رخ کرتی ہے۔اطلاعات کے مطابق اب تک پچاس سے زاید ممالک اس دَل یا Swarmکی لپیٹ میں ہیں جو تقریباً 32ملین مربع کلو میٹر کے رقبے کے ساتھ سطح زمین کابیس فی صد بنتا ہے۔

ٹِڈّی دل ہوا کے بہائو پرسفر کرتا ہےاورایک دن میں سو تا دو سو کلو میٹرز کی مسافت طے کرلیتاہے۔ اس دوران اس کی اُڑنے کی صلاحیت تقریباً دوہزارمیٹر سطح سمندر سے بلندہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اٹلس ہندوکش یا ہمالیہ کی چوٹیوں کو نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی یہ افریقا کے گھنے جنگلات اور مرکزی یورپ کا رخ کرتاہے۔ تاہم ٹِڈّی دل باقاعدہ بنیادوں پر بحیرہ احمر، افریقا اورجزیرہ نما عرب کو بآسانی اپنی آماج گاہ بناتارہتا ہے۔

ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ایک صحرائی ٹِڈّی اوسطاً دوگرام غذا استعما ل کرتی ہے جو اس کے مجموعی وزن کے برابر ہوتی ہے۔یہ تقریباً چارہزار غذائی اجناس کو اپنی خوراک بناتی ہے۔اس کی مرغوب غذائوں میں مکئی، باجرہ، چاول، کپاس، گندم، گنا، پھل، پھول، کھجوریں ، کیلا، مختلف جڑی بوٹیاں، گھاس پھوس وغیرہ شامل ہیں۔ جنوبی افریقا میں اس کا خطرناک حملہ 2004-2005میں رپورٹ ہوا تھا۔ بدقسمتی سے موجودہ صورت حال میں پاکستان کا بدلتا ہوادرجۂ حرارت ، موسمی تغیّرات، غیرضروری اور وقت سے پہلے بارشیں ہوناوہ موسمی تغیّرات ہیں جن کی وجہ سےٹِڈّی کے افزایشِ نسل کے مقام کو بہت تقویت ملی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں اس کی Hatching پاکستان کی اقتصادی حالت کو مزید ابتر کرنے کے لیے کافی ہے ۔ہمیں اس کی روک تھام کے لیے فوری اور موثر اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا۔

پاکستان میں کپاس کی فصل پرٹِڈّی دَل کا حملہ 25سے30 سال بعد دیکھاجارہاہے۔ غالبا یہ 1982 یا1984کی بات ہے جب ٹِڈّی دَل نے نہ صرف سندھ کے کئی شہروںمیںتیّارفصلوںپرحملہ کرکےانہیں شدید نقصان پہنچایاتھا بلکہ ان کا رخ شہروں کی جانب بھی ہوا۔خصوصا اہلیانِ کراچی نے وہ مناظر دیکھے جب ٹِڈّی دَل شہر سے گزرا تو پورا آسمان ان سے بھر گیا اور ہر طرف ٹِڈّیاں ہی دکھائی دے رہی تھی۔ اس سے قبل 1950 اور 1960 کی دہائی میں بھی ٹِڈّی دَل کا حملہ ہوا تھا۔

وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ، فخر امام نے یکم جون کو بتایا تھا کہ ٹِڈّی کے مزیدجُھنڈ 'ہارن آف افریقا (افریقا کے بالکل مشرقی کونے میں واقع پانچ ممالک) سے جون اور جولائی کے مہینے میں اور ایران میں موجود جُھنڈ دو سے تین ہفتےمیں پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران میں اس وقت ٹِڈّی دَل کا ایک بہت بڑا حملہ جاری ہے۔

یہاں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کا مسئلہ دہرا ہے۔ جوٹِڈّی گذشہ برس آئی تھی وہ بھی نہیں نکل پائی اور ملک میں مختلف مقامات پر اس کی افزایش اوراس کے حملے جاری تھے۔ فخر امام کے مطابق ٹِڈّی دَل کا یہ پاکستان میں اٹھائیس برس بعد بڑا حملہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹِڈّی دَل مشرقی افریقا، مشرقِ وسطٰی سے ہوتا ہوا ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا۔ رواں برس افغانسان سے بھی ٹِڈّی پاکستان آئی،ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔اس مرتبہ ایران سے یہ افغانستان گیا،وہاں سے پاکستان میں داخل ہوا اور صوبہ پنجاب کے علاقوں کی طرف چلا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کوٹِڈّی دَل سے متاثر ہونے والے چند بڑے ممالک میں شامل کیا جا رہا ہے۔ بنیادی طور پر پاکستان میں یہ عرب کے صحراؤں سے آیا ہے۔ادہر عالمی ادارے ایف اے او کے مطابق ٹِڈّی دَل کی تعداد میں آٹھ ہزار گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے جو 2018 کے اوائل میں عرب کے صحراؤں میں تقریباً پچّیس برس بعد رونما ہوا۔

ایف اے او کے مطابق2018میں دو بڑے سمندری بگولوں کی وجہ سے ایمپٹی کوارٹر نامی صحرامیں معمول سے کہیں زیادہ بارشیں ہوئیں۔ یہ صحرا سعودی عرب، اومان، یمن اور بعض دیگر عرب ممالک کی سرحدوں سے ملتا ہے۔ان بارشوں کے نتیجے میں ٹِڈّی کی تین نسلیں ایمپٹی کوارٹر میں پروان چڑھیں اور اس کی تعداد میں آٹھ ہزار گنا اضافہ ہوا۔ایمپٹی کوارٹر میں جس جگہ ن کی افزایش ہوئی وہاں نگرانی نہیں کی جا سکتی تھی اور نہ ہی اس کی روک تھام۔ جب تک اس کا پتا چلا،ٹِڈّی کےجُھنڈ وہاں سے نکل کر دیگر ممالک کا رخ کر چکے تھے جن میںبھارت ،پاکستان کا سرحدی علاقہ، ہارن آف افریقا، سعودی عرب، ایران اور یمن شامل ہیں۔

پاکستان میں افزایشِ نسل کا سازگار ماحول

ماہرینِ حشرات کے مطابق مادہ ٹِڈّی ریت میں انڈے دیتی ہے۔ اس ریت میں نمی ہونی چاہیے اور نمی اس وقت ہوتی ہے جب بارشیں ہوں اور آس پاس ہریالی دست یاب ہو۔اس صورت حال میں ان کی افزایشِ نسل ہوتی ہے۔ابتدائی طور پر یہ سبز، گلابی اور زرد رنگ کی ہوتی ہیں اور جب بالغ ہوجاتی ہیں تو ان کا رنگ کتھئی ہوجاتا ہے جس کے بعد ان کا ملاپ ہوتا ہے اور مادہ بچے دیتی ہے جن کی تعداد ایک وقت میں اسّی ہوتی ہے۔ ایک مادہ تین بار انڈے دیتی ہے جس کے بعد فطری طور پر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ 

بالغ ٹِڈّیاں انڈے دیتی ہیں اور صحرا میں قیام کرتی ہیں اور نابالغ مسلسل پرواز کرتی اور ٹھکانے بدلتی رہتی ہیں۔ رات کو یہ درختوں پر بیٹھتی ہیں اور وہاں سے کھا پی کر آگے نکل جاتی ہیں۔یہ پہلے صحرائی علاقوں میں فصلوں کو نقصان پہنچاتی ہیں جہاں سال میں کبھی کبھارہی بارشیں ہوتی ہیں۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق اگر ٹِڈّی دَل فصلوں پر حملہ آور ہو جائے تو ان صحرائی علاقوں میں قحط سالی کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ان پر قابو پانے کے لیے ان کے جُھنڈوں کا مسلسل پیچھا کرنا پڑتاہے۔ سورج غرب ہونےکےبعدیہ پڑاؤ ڈالتی ہیں اور سورج طلوع ہونے کے ساتھ سفر شروع کر دیتی ہیں۔ان کا پیچھا کرنے والے وہاں جا کر جی پی ایس سسٹم سے کوارڈی نیٹس لیتے ہیں اور صبح سویرے جہاز یا گاڑی سےا سپرے کیا جاتا ہے۔ اس وقت یہ درختوں پر بیٹھی ہوتی ہیں جس سےا سپرے کا اثر زیادہ ہوتا ہے، ورنہ اڑتی ہوئی ٹِڈّیوں کو نشانہ بنانا ممکن نہیں ہوتا۔صحرائی علاقوں میں یا ان کے آس پاس بارشیں ہو گئیں تو ان کی تعداد میں دگنا اضافہ ہو سکتا ہے۔انہیں ختم کرنے کے لیے کیے جانے والےا سپرے میںایسی کیڑے مار ادویات استعمال کی جاتی ہیں جن سے ممالیہ جانوروں اور انسانی صحت کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ اسپرے سے قبل اعلان کیا جاتا کہ یہاں لوگ نہ آئیں اور نہ ہی جانورلائے جائیں۔

اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے کے ایک محقق ژینس لائرکے کے مطابق ٹِڈّیوں کا ایک چھوٹا گروہ پینتیس ہزار انسانوں کی خوراک ایک دن میں چٹ کر جاتا ہے۔ماہرینِ حشریات کے مطابق پاکستان میں ان کی افزایشِ نسل کے لیے سازگار ماحول موجود ہے ۔ مادہ ٹِڈّی نم ریت میںانڈے دیتی ہے۔لہذا یہ جب ریگستانوں میں ہوں تو وہیں ان کا خاتمہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 

ماہرین کے مطابق ٹڈیاں اڑنے والے کیڑوں میں سب سے تیز رفتار ہوتی ہیں جبکہ یہ روزانہ ایک سو سے دو سو کلومیٹر تک کا سفر کر سکتی ہیں۔ مجموعی طور پر ایف اے او کے مطابق، اس کرہ ارض پر ہر دس افراد میں سے ایک فرد کی زندگی ان ٹِڈّیوںسے متاثر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے یہ دنیا میں منتقل ہونے والی بدترین وبا قرار دی جاتی ہے۔

افریقا کے بعد ایشیا کا رُخ

ٹِڈّی دل مشرقی افریقا اور پاکستان کی فصلوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔صحرائی ٹِڈّیوں کے یہ جُھنڈ فروری کے مہینے میں قرنِ افریقا کی فصلوں اور جانوروں کے چارے وغیرہ کو تباہ کرچکے ہیں جس کی وجہ سے پورے خطے میں غذائی تحفظ خطرے میں ہے۔یہ تباہ کن حشرہ صومالیہ اور ایتھوپیا میں تباہی پھیلانے کے بعد کینیا میں تباہی پھیلانے پہنچا تھا۔ یہ کینیا میںستّربرس کی بدترین وباقرار دی گئی ۔ صومالیہ اور ایتھوپیا کے لیےیہ پچّیس برسوں میں ٹِڈّیوں کے بدترین حملے بتائے جاتے ہیں۔

صومالیہ نے اس بحران سے پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے قومی سطح پر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا تھا۔ اس سے پہلے پاکستان بھی قومی سطح پر ہنگامی حالت کا اعلان کر چکا ہے۔یہاں بھی ٹِڈّیوںکے ان جُھنڈوں نے ملک کےساٹھ سے زاید اضلاع میں کپاس، گندم، مکئی اور کئی دیگر اجناس کی فصلوں کو برباد کیا ہے۔

اس وقت قرنِ افریقا ایساخِطّہ ہے جس کے بارے میں ماہرین کو بہت زیادہ تشویش ہے۔وہاں ایف اے او کے مطابق ان کی افزایش بہت تیزی سے ہو رہی تھی اور یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ شایدجون کے مہینے تک ان کی تعداد میں پانچ سو گنا اضافہ ہو جائےگا۔

اس وقت وہ ممالک ٹِڈّیوں کے حملوں سے بچنے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں جہاں ماہرین نے ممکنہ طورپر ان کے پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ٹِڈّی دَل قرنِ افریقاپر حملے کرنے، بحیرہِ احمر کے دونوں ساحلوں کو تباہ کرنےکے علاوہ بھارت اور پاکستان میں بھی حملے کر رہے ہیں۔ یہ جُھنڈ ایتھوپیا اور کینیاکی جانب بھی گئے اور وہاںسےدیگرممالک کی جانب بھی پھیل سکتے ہیں۔

ایف اے او نےپہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ان کے بعض جُھنڈ ایسے بھی ہیں جویوگنڈا اور جنوبی سوڈان تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور اگر ان پر قابو نہ پایا گیا تو یہ پورے خِطّے کے لیے وبائی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔یادرہے کہ ٹِڈّی دَل گزشتہ برس دسمبر تک صومالیہ اور ایتھوپیا میں پونے دو لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلی فصلیں تباہ کرچکے تھے ۔ اس برس فروری کے مہینے میں ایف اے او کا کہنا تھاکہ یہ روزانہ ساڑھے تین سو مربع میل علاقے میں تقریباً اٹھارہ لاکھ ٹن کی زرعی خوراک کھا رہے ہیں۔ایف اے او کا خیال ہے کہ ٹِڈّیوں کا ایک اوسط سائز کا جُھنڈ چالیس تا ساٹھ کلومیٹر کے علاقے پر پھیلا ہو سکتا ہے۔

ماہرین زراعت کو خدشہ ہے کہ ٹِڈّیوںکا پیدا کردہ بحران ایسے خِطّے میں زرعی پیداوار میں شدید کمی پیدا کر سکتا ہے جو پہلے ہی سیلاب اور خشک سالی کی وجہ سے خوراک کی کمی کے بحران سے دو چار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دو کروڑ کے قریب افراد اس بحران سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ایف اے او کےٹِڈّیوں کے بارے میں سینئیر مشاورت کار، کیتھ کریسمن کہتے ہیں کہ 'ہمیں کینیا اور ایتھوپیا کے بارے میں سب سے زیادہ تشویش ہے کیوں کہ یہ ایسے علاقے ہیں جہاں بہت ہی بڑے بڑے جُھنڈ ہیں۔اس کے علاوہ ایتھوپیا میں ان کی افزایش جاری ہے،اس لیے وہاںٹِڈّیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کا کردار

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق دنیا میں باون ممالک ٹِڈّیوںسے متاثر ہیںجنہیں تین خِطّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان میں ایک مغربی خِطّہ ہے جس میں افریقی ممالک موریطانیہ، سوڈان، ایتھوپیا اور صومالیہ وغیرہ آتے ہیں۔دوسرا وسطی خِطّہ ہے اس میں مصر، یمن اور سعودی عرب وغیرہ شامل ہیں۔ تیسرا مشرقی خِطّہ ہے جس میں پاکستان، ایران، انڈیا اور افغانستان ہیں۔

ماہرین حشرات اور ماحولیات کے مطابق موسموں میں شدّت پیدا ہونے کی وجہ سے اس بحران میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹِڈّیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے موجودہ بحران کی وجہ2018اور 2019میں ہونے والی شدید بارشیں اور آنے والے طوفان بتائے جاتے ہیں۔

صحرائی ٹِڈّیاں مغربی افریقا سے لے کر انڈیا تک محیط تیس ممالک میں پھیلے خشک آب و ہوا والے خطے میں رہتی ہیں ۔ یہ تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ مربع کلو میٹر کا رقبہ بنتا ہے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق دو برس قبل جنوبی عربی جزیرہ نماکے علاقے میں نمی والے سازگار حالات کی وجہ سے ٹِڈّیوں کی تین نسلوں کی افزایش ہوئی اور کسی کو اس کا علم نہیں ہو سکا۔ان کے جُھنڈوں آج جو اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اس کا آغازدراصل 2018میں ہوا تھا۔ 2019 کے اوائل میں ٹِڈّی دَل کی پہلی کھیپ نے یمن، سعودی عرب اور ایران کا رخ کیا، اور مشرقی افریقا تک پہنچنےسے پہلے اپنی افزایشِ نسل بھی تیزی سے کی۔ یوںمزید جُھنڈ پیدا ہوئے اور 2019کے اواخر تک یہ اریٹریا، جبوتی اور کینیا تک پہنچ چکے تھے۔

ماہرین کے مطابق کئی ممالک میں اس قسم کے جُھنڈوں کے خلاف مزاحمت میں ناکامی ہوئی ہے،باوجود اس کے کہ اس سے زمین کا بہت بڑا رقبہ متاثر ہوتاہے۔ ایف اے اوکے کریسمن سمجھتے ہیں کہ ٹِڈّیوںکے موجودہ جھنڈوں کے خلاف ابتدائی دور میں بہت کچھ کیا جا سکتا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ اگر ان ملکوں کے کچھ اہم علاقوں میں ان پر قابو پانے کی بروقت کارروائی کی جاتی تو نقصان کو کم کیا جا سکتا تھا۔اپنے سائز اور تباہی پھیلانے کی صلاحیت کے لحاظ سے قرنِ افریقا میں ٹِڈّیوںکے بےمثل حملوں کے بعد اب کئی ممالک ان سے لڑنے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق صحراؤں میں پرورش پانے والے ٹِڈّی دل علاقائی سطح پر موسمی حالات کے باعث اس وقت انتہائی تیز رفتار سے نمو پا رہے ہیں اور حیاتیاتی حوالے سے ان حشرات کی فی کس اوسط عمر بھی کافی زیادہ ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ کسی بھی خِطّے میں جب ان ٹِڈّیوں کو اپنی بقا خطرے میں محسوس ہونے لگتی ہے تو وہ کئی کئی لاکھ کے گروہوں کی صورت میں کر کسی نہ کسی نئے علاقے کا رخ کر لیتی ہیں۔صحرائی ٹِڈّیاں پتّے، پھول، پھل اور بیجوں کے علاوہ درخت تک چٹ کر جاتی ہیں۔اس آفت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک کلو میٹر کے رقبے میںچار کروڑ ٹِڈّیاں ہو سکتی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق یہ ٹِڈّی دل اتنے بڑے اور اتنے تیز رفتار ہیں کہ وہ ایک دن میںڈیڑھ سو کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتے ہیں۔ پھر جب یہ کسی بھی علاقے پر حملہ کرتے ہیں تو اپنی شدید بھوک اور افزایشِ نسل کے بہت شدید حیاتیاتی رویّوں کے نتیجے میں اپنے پیچھے تباہی اور بربادی کے مناظر چھوڑ جاتے ہیں۔

قابو پانے کے لیے دو اہم عوامل

حشرات کی انواع میں Locustوہ قسم ہے، جسے کنٹرول کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی معلوم ہوتاہے۔ Locustکو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی کا آغاز 1920-1930کی دہائیوں میں اٹلی کے مقام روم سے ہواتھا۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے اس کی افزایش پر اثرات ، اس کے افزایشِ نسل کے مقامات کا تیکنیکی جائزہ لینا اور پھر رپورٹ تیار کر کے Locustسے متاثرہ ممالک کو بھیجنا اس کا بنیادی کام ہے۔ پاکستان میں ان کے حملے کے بارے میں ہمیں ایف اے اوگزشتہ برس جنوری کے آغاز میں بتا چکی تھی، لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس پر قابو پانے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں اپنائی لہٰذا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

ماہرین کے بہ قول ان پر قابو پانے کے لیے دو عوامل بہت اہم ہیں۔اوّل ،ان کی نگرانی۔دوم ،ان پر موثر کنٹرول۔

ایف اے او کے تحت صحرائی ٹِڈّیوں کی حرکات کا جائزہ لینےوالے ادارے 'ڈیزرٹ لوکسٹ انفارمیشن سروس اس بارے میں پیش گوئی کرتی ہے اور انتباہ جاری کرتی ہے تاکہ پیش بندی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ ٹِڈّیاں کہاں ہیں، کہاں کہاں ان کی افزایش ہو رہی ہے اور یہ کہاں حملہ آور ہو سکتی ہیں، یہ سب معلومات بھی یہ سروس فراہم کرتی ہے۔لیکن جب ایک مرتبہ ٹِڈّیوںکی افزایش ایک خاص تعداد سے بڑھ جاتی ہے، جیسا کہ قرنِ افریقا میں ہوا ،تو ان کی تعداد پر قابو پانے کے لیے ہنگامی نوعیت کے اقدامات اٹھانے اور ان کی مزید افزایش روکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین بتاتے ہیں کہ کس طرح پیدل، ہوائی جہازیا گاڑیوں کے ذریعے کِرم کُش ادویات چھڑکنے سے ان جھنڈوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اب جب پاکستان میں ٹِڈّیوںکی افزایش مربوط جُھنڈوںکی صورت اختیار کر چکی ہے تو یہ بہتر ہو گا کہ انہیں آسمان سے ہوائی جہازوںکےذریعے اسپرےکرکے نشانہ بنایا جائے تاکہ ہم ان کی تعداد کم کر سکیں اور انڈوں سے مزید ٹِڈّیاں نکلنے سے روک سکیں۔

اگرچہ اس وقت یہ تحقیق جاری ہے کہ ماحول خراب کیے بغیر اِن سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے،لیکن فی الحال سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ کِرم کُش ادویات کا چھڑکاؤہے۔ان پرہاتھ،مشینوںیاہوائی جہازسے چھڑکاؤ کرنے سے بڑے بڑےجُھنڈوں کو نشانہ بنا کر کیمیائی ادویات کے ذریعے کم وقت میں تلف کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ کینیا میں ٹِڈّیوںکے حملے کو روکنے کے لیے ہوائی سپرے کرنے کی کوششیں تیز کی گئی تھیں، لیکن اتنی بڑی تعداد میں ان کی آبادی اور وہ بھی دور دراز پھیلے جھنڈوں کو روکنا کافی مشکل کام تھا۔

پھر یہ کہ ایسا اُن ملکوں میں کرنا اور بھی دشوار ہوجاتا ہے جنہوں نے کئی دہائیوں سےٹِڈّیوں کے حملوں سے نمٹا ہی نہ ہو کیوں کہ وہاں اس قسم کا کوئی انفرااسٹرکچر موجود ہی نہیں ہوتا ہے۔کیتھ کریسمن کے مطابق ان جُھنڈوں پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران اُس وقت بہت زیادہ پریشانی ہوتی ہے حب ٹِڈّیاں واپس آجاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق صومالیہ، ایتھوپیا اورکینیاکے ساتھ پاکستان میںاٹھائے گئے اقدامات حالات کی سمت کا تعین کر سکیں گے کہ آئندہ کیا ہو گا۔ اگر موجودہ حملوں کا سلسلہ مزید ملکوں تک پھیلتا اور مزید خِطّوں کو برباد کرتا ہے تو پھر اسے وبائی کیفیت قرار دیا جا سکتا ہے۔اقوام متحدہ کا کہناہےکہ متاثرہ خِطّوںمیںہوائی اسپرے کی کارروائیاں ناکافی ہیں اور اس نے عطیات دینے والے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سات کروڑ ڈالر کی امداد دیں۔