آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تاریخی خسارے کا ٹیکس فری بجٹ، اشیائے تعیش مہنگی، سگریٹ، سگار، ڈبل کیبن گاڑیوں، انرجی ڈرنکس کی قیمتوں میں اضافہ، سریا، سیمنت، موٹرسائیکل، رکشہ، کپڑے، جوتے، ایل ای ڈی لائٹ، مقامی موبائل، سینیٹری ویئرز سستے

تاریخی خسارے کا ٹیکس فری بجٹ، اشیائے تعیش مہنگی


اسلام آباد (نمائندہ جنگ، تنویر ہاشمی ) آئندہ مالی سال 2020-21 کا3437 ارب روپے خسارےکیساتھ 71کھرب 37ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا ،بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا گیا اور آئندہ برس کیلئے اس مد میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔

بجٹ میں درآمدی سگریٹ، سگار، انرجی ڈرنکس اور ڈبل کیبن گاڑیاں مہنگی کر دی گئیں، سیمنٹ، سریا، پاکستان میں تیار ہونیوالے موبائل فون، آٹو رکشا ، موٹرسائیکل سمیت 200سی سی تک کی گاڑیاں، کپڑے، جوتے، ایل ای ڈی لائٹ، سینٹری ویئرز سستے کردیئےگئے، شادی ہالوں پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کر دیاگیا۔

غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر آمدن میں ٹیکسوں میں ریلیف کیلئے کیپٹیل گین کی مدت کو 8 سال سے کم کر کے چار سال کر دیا گیا ، ہرسال کیپٹل گین ٹیکس کی مقدار میں 25 فیصد کمی کی جائیگی اور کیپٹل گین ٹیکس کی شرح میں 50 فیصد کمی کر دی گئی۔


سروس سیکٹر، ٹول مینوفیکچرنگ کیلئے ٹیکس میں کمی، انشورنس پریمیم، ڈیلرز اور آڑھتیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم، ہوٹل انڈسٹری کیلئے ٹیکس میں دوتہائی کمی کردی گئی،کھیل، چمڑا، ٹیکسٹائل، ربڑ، کھاد، بلیچنگ اور گھریلو اشیاء میں استعمال ہونیوالے 20 ہزار درآمدی آئٹمز پر کسٹم اور ایکسائز ڈیوٹیاں ختم کردی گئیں،اسمگلنگ روکنے اور مقامی صنعت کو فروغ دینے کیلئے ہاٹ رول کوائل، کمبل اور پیڈلاکس وغیرہ پر ڈیوٹیوں میں کمی کردی گئی۔

 وفاقی صنعت وپیداوار حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا۔آئندہ مالی سال کیلئے اقتصادی شرح نمو کا ہدف 2.1 فیصد رکھا گیا ہے، کرنٹ اکائونٹ خسارے کا ہدف 4.4فیصد ، مہنگائی کی شرح کا متوقع ہدف 6.5فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

آئند ہ مالی سال قومی ترقیاتی بجٹ 1324 ارب روپے جس میں سے وفاقی ترقیاتی پروگرام کیلئے 650 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، سود کی ادائیگی کیلئے 2946 ارب روپے مختص کیے گئے، آئندہ مالی سال کیلئے ایف بی آر کا ٹیکس ریونیو کا ہدف 4963ار ب روپے مختص کیا گیا ہے ، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 1610 ارب روپے مقرر کیا گیا۔

این ایف سی کے تحت صوبوں کو 2874ارب روپے منتقل کیے جائینگے ، عام خریدار کیلئے شناختی کارڈ خریداری کی حد 50ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دی گئی، آئندہ مالی سال بجٹ خسارےکا تخمینہ 7 فیصد اور پرائمری بیلنس کا تخمینہ منفی 0.5فیصد لگایا گیا ہے۔

سماجی شعبے کے تحت احساس پروگرام کیلئے 208ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، سبسڈیز کیلئے209 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں توانائی ، خوراک اور دیگر شعبوں کو سبسڈیز دینےکیلئے 179ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ریٹیلرز کے پوائنٹ آف سیل کی تعداد 6616 سے بڑھا کر دسمبر تک 15000 تک لے جانے کا ہدف رکھاگیا اور پوائنٹ آف سیل کی ٹیکس کی شرح 14 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کردی گئی ، ہوٹلوں کیلئے کم از کم ٹیکس کی شرح 1.5فیصد سے کم کر کے 0.5فیصد کر دی گئی یہ چھوٹ اپریل سے ستمبر تک چھ ماہ کیلئے ہوگی۔

 20ہزار درآمدی خام مال کی اشیاء جن میں کیمیکلز ، لیدر ، ٹیکسٹائل ، ربڑ، کھاد میں استعمال ہونیوالے خام مال بھی شامل ہے کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیدیا گیا ، مزید 200 خام مال اور دیگر اشیاء جن میں بلیجنگ ، ربڑ اور گھریلو اشیا شامل ہیں پر کسٹم ڈیوٹی میں کمی کر دی گئی۔

مقامی انجینئرنگ کے شعبے کی حوصلہ افزا ئی اوراسٹیل پائپ، انڈگرائونڈ ٹینک اور بوائلر کی صنعت کو فروغ دینےکیلئے ہاٹ رولڈ کوائلز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کو 12.5فیصد سے کم کر کے 6 فیصد کر دیا گیا۔ 

اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کیلئےکپڑے ، سینٹری ویئر، بجلی کے الیکٹروڈ ز، کمبل، پیڈلاکس پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے، کورونا وائرس اور کینسر کی ڈائیگناسٹک کٹس پر عائد تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کو ختم کر دیا گیا۔

بچوں کے خصوصی فوڈ سپلیمنٹ، پرہیزی غذا کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں سےا ستثنیٰ دیدیا گیا، بچوں اور حاملہ خواتین کیلئےتیار ہونیوالے سپلیمنٹری فوڈ میں استعمال ہونیوالے خام مال کو بھی کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیدیا گیا۔

اسمگلنگ کی سزاؤں کو عقلی اور جامع بنانے کیلئے کم سے کم سزا دینے کا قانون متعارف کر ایا جائیگا تاکہ کسٹم حکام اپنی مرضی سے اسمگلنگ میں ملوث شخص کو چھوڑ نہ سکیں ، سیلز ایکٹ 1990 میں ترمیم کرتےہوئےوراثتی میٹابولک سینڈروم میں مبتلابچوں کیلئے طبی مقاصد کیلئے درآمد کی جانیوالی غذا کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔

 کورونا وائرس سے متعلقہ سازوسامان کی درآمد کو مزید تین ماہ کیلئے ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے استثنیٰ دیدیا گیا ہے، درآمدی سگریٹ، بیڑی ، سگارز اور چھوٹے سگارز اور تمباکو کی دیگر اشیاء پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 65فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کر دیا گیا تمباکو کے متبادل اور ای سگریٹ پر بھی ایف ای ڈی کو 100 فیصد کر دیاگیا۔

فلٹر راڈ سگریٹ پر ایف ای ڈی 0.75فیصد سے بڑھا کر ایک روپے فی کلوگرام کر دی گئی، درآمدی اور مقامی انرجی ڈرنکس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 13 فیصد سے بڑھاکر 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ، ڈبل کیبن پک اپ گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کر دی گئی، پوٹاشیم کلوریٹ کی درآمد پر سیلز ٹیکس 70 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 80 روپے فی کلوگرام کر دی گئی۔

 علاوہ ازیں اس پر 17 فیصد سیلز ٹیکس بھی عائد ہے یہ شرح دفاعی پیداوار کے زیر نگرانی اداروں کی جانب سے درآمد کی جانیوالی درآمد پر لاگو نہیں ہوگی۔

ٹیکس بیس کے دائرہ کار میںپالیسی کے اقدامات کے تحت اب مینوفیکچر رز کے ساتھ رجسٹرڈ سپلائر کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ شدہ افراد کو 10 کروڑر وپے سے زائد مالیت کی اشیاء فراہم نہیں کر سکیں گے۔

سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی دو روپے فی کلوگرام سے کم کر کے ایک روپے 75 پیسے کر دی گئی، موبائل فون پالیسی کے تحت پاکستان میں بنائے جانے والے موبائل فون پر سیلز ٹیکس میں کمی کر دی گئی ،شادی ہالوں پرعائد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کر دیا گیا۔

تعلیمی اداروں میں ٹیکس گزار والدین کے بچوں کی فیس پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا، درآمدات پر انکم ٹیکس کی شرح کو خام مال پر عائد 5.5فیصد انکم ٹیکس کم کر کے 2 فیصد اور مشینری پر عائد 5.5فیصد ٹیکس کم کر کے ایک فیصد کر دیا گیا جبکہ اسکے ساتھ ایگزیمپشن سرٹیفکیٹ کا نظام بھی ختم کرد یا گیا، کاروباری اخراجات کی نقد ادائیگیوں کی حد میں اضافہ کر دیا گیا اور یہ حد 10 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار کر دی گئی۔

کاروبار میں اکاؤنٹ ہیڈ کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر ڈھائی لاکھ کر دی گئی ، کاروباری افراد کو سہولت دینے کیلئے تنخواہوں اور اجرت دینےکیلئے نقد رقم کی حد 15 ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کر دی گئی، آٹو رکشا، موٹر سائیکل رکشہ اور 200 سی سی تک موٹر سائیکل پر ایڈوانس ٹیکس ختم کر دیا گیا۔

ایسےافراد جو ٹیکس پیئر فہرست میں نہیں اور انکے اسکول کے بچوں کی سالانہ فیس 2 لاکھ روپے سالانہ سے زائد ہے ان پر 100 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، غیر منقولہ جائیداد کی فروخت سے حاصل ہونیوالے منافع کو ٹیکس سے استثنیٰ دیدیا گیا۔ 

بنکوں کے منافع کی آمدن پر یکساں شرح سے 15 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، عطیات کی نگرانی اور منی لانڈرنگ سے بچنے کیلئے مخصوص اداروں کو دیئے جانے والے عطیات کو مخصوص شرائط کے ساتھ استثنیٰ دیا گیا ہے،غیر منافع بخش اداروں کی آمدن کو ٹیکس سے استثنیٰ دینے کی تجویز ہے۔

غیر منافع بخش اداروں ، ٹرسٹس اور فلاحی اداروں کیلئے لازمی کر دیا گیا ہے کہ 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ کے حصول کیلئےسابقہ ٹیکس سال کے دوران حاصل ہونیوالے رضاکارانہ چندوں اور گوشواروں کے گوشوارے جمع کرائیں ، غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کی مدت پانچ سال سے کم کر کے چار سال کر دی گئی۔

غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر آمدن میں ٹیکسوں میں ریلیف کیلئے کیپٹیل گین کی مدت کو 8 سال سے کم کر کے چار سال کر دیا گیا اور ہرسال کیپٹل گین ٹیکس کی مقدار میں 25 فیصد کمی کی جائیگی اور کیپٹل گین ٹیکس کی شرح میں 50 فیصد کمی کر دی گئی۔

 وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماداظہر نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خصوصی علاقہ جات میں آزاد کشمیر کیلئے 55 ارب روپے، گلگت بلتستان کیلئے 32 ارب روپے ،خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 56 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سندھ کیلئے 9ا رب روپے اور بلوچستان کیلئے 10 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ کے طور پر مختص کیے گئے ہیں، یہ این ایف سی کے مختص شدہ رقم کے علاوہ ہونگے، ترسیلازر بنکوں کے ذریعے بڑھانے کیلئے 25 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ 

حماد اظہر نے کہا کہ بجٹ میں وفاقی حکومت نے لاہور اور کراچی میں ہسپتالوں کیلئے 13 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ای گورننس کی بہتری کیلئے ایک ارب روپے سے زائد رقم، خصوصی اصلاحاتی پروگراموں کیلئےخصوصی فنڈز کے قیام کیلئے دس کروڑ روپے ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کیلئے 40 کروڑ روپے اور پاکستان انوویشن کیلئےدس کروڑ روپے مختص کیے گئے، بیرونی سرمایہ کاری میں 25 فیصد آئندہ برس اضافہ کیا جائےگا۔ 

حماداظہر نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں جاری منصوبوں کیلئے 73 فیصد اور نئے منصوبوں کیلئے 27 فیصد رقم مختص کی گئی ہے، سماجی شعبے کے منصوبوں کیلئے 206 ارب روپے کی رقم بڑھا کر 249 ارب روپے کر دیئے گئے۔

کورونا اور دیگر آفات کے انسانی زندگی پر منفی اثرات کو زائل کرنے اور معیارزندگی میں بہتری کیلئے خصوصی ترقیاتی پروگرام کیلئے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، توانائی اور بجلی کے توسیع منصوبوں اور ترسیل و تقسیم کے نظام میں بہتری کیلئے 80 ارب روپے مختص کیے گئے۔

آبی وسائل کیلئے 69 ارب روپے مختص کیے گئے ، اس سے 30 ہزار افراد کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے،مواصلات کیلئے 37 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، صحت کے شعبہ میں بہتر طبی خدمات، وبائی بیماریوں کی روک تھام اور طبی آلات کی تیاری و صحت کے اداروں کی استعداد کار میں اضافے کیلئے 20 ارب روپے مختص کیے گئے۔

سائنس و ٹیکنالوجی و آئی ٹی کیلئے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے 6 ارب روپے ، پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت ترقیاتی بجٹ کیلئے 24ا رب روپے ، تحفظ خوراک اور زراعت کے فروغ کیلئے12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں ٹی ڈی پیز کے انتظام و انصرام کیلئے 20 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ، افغانستان کی بحالی میں معاونت ط 2 ارب روپے مختص کیے گئے۔ 

حماد اظہر نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا ان کیلئے بڑے اعزاز اور مسرت کی بات ہے۔مالی سال 2019-20ءکے دوران پاکستان پر کورونا کے جو فوری اثرات ظاہر ہوئے ہیں ان کی وجہ سے تقریباً تمام صنعتیں اور کاروبار بری طرح متاثر ہوئے۔ 

جی ڈی پی میں اندازاً 3300 ارب روپے کی کمی ہوئی جس سے اس کی شرح نمو 3.3 فیصد سے کم ہو کر 0.4 فیصد تک رہ گئی۔ مجموعی بجٹ خسارہ جو جی ڈی پی کا 7.1 فیصد تک تھا، 9.1 فیصد تک بڑھ گیا۔

ایف بی آر محصولات میں کمی کا اندازہ 900 ارب روپے ہے۔ وفاقی حکومت کا نان ٹیکس ریونیو 102 ارب روپے کم ہوا ہے۔ برآمدات اور ترسیلات زر بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے۔

 بجٹ میں رہائشی عمارتوں کی ڈویلپمنٹ کی حوصلہ افزائی کیلئے غیر منقولہ جائیداد کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے بشرطیکہ رہائشی عمارتوں کی ڈویلپمنٹ 30 جون 2020ءتک مکمل کر لی گئی۔

تجویز ہے کہ اس مدت کو 30 جون 2021ءتک بڑھا دیا جائے، خصوصی معاشی زونز کے ڈویلپرز کو جو رعایتیں اور سہولیات حاصل ہیں وہ معاون ڈویلپرز کو بھی فراہم کردی گئی ہین ، ٹال مینو فیکچرنگ کیلئے ٹیکس کی شرح 8 فیصد سے کم کر کے کمپنیوں کیلئے 4 فیصد اور دیگر کیلئے 4.5 فیصد کر دی گئی۔

ٹیکس بیس میں وسعت کی غرض سے تجویز ہے کہ بجلی کے اخراجات کو مخصوص شرائط کے تحت قابل قبول کاروباری کٹوتیوں میں شمار کیا جائے جس میں موجودہ استعمال کنندہ کے مکمل کوائف کا اندراج لازم کر دیا جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید