آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بسا اوقات الفاظ وہ نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں ، بقول ِ غالب :

ہیں کواکِب کچھ ، نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

الفاظ کبھی معنی بدل لیتے ہیں اور کبھی شکل بھی بدل لیتے ہیں۔ الفاظ کی اصل ، ان کے اشتقاق اور ان کے بدلتے مفاہیم کا سراغ لگانا ایک دل چسپ علمی سرگرمی ہے ۔ اس علم کو علم ِ اشتقاق کہتے ہیں اور انگریزی میں اس کا نام etymology ہے۔

آئیے اردو میں مستعمل چند الفاظ و تراکیب کی اصل پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

٭حلقہ بگوش

یہ فارسی ترکیب اردو میں رائج ہے اوریہ غلام کے معنی میں بھی آتی ہے بلکہ درحقیقت اس کے معنی پہلے غلام ہی کے تھے کیونکہ’’ حلقہ بگوش‘‘ یا اگر توڑ کر لکھیں تو ’’حلقہ بہ گوش ‘‘کے لفظی معنی ہیںجس کے گوش( یعنی کان) میں حلقہ ہو ۔ قدیم زمانے میں جس کو غلام بناتے تھے اس کے کان میں ایک چھلّا یا حلقہ ڈال دیتے تھے تاکہ نشانی رہے کہ یہ غلام ہے ۔ رفتہ رفتہ اس سے دوسر ے معنی پیدا ہوگئے، یعنی مطیع، اطاعت کرنے والا، فرماں بردار،تابع، اس لیے کہ غلام بے چارہ اطاعت کرنے کے سوا اور کیا کرسکتا ہے۔

حلقہ بگوش کا ایک مفہوم ’’ماننے والا،عقیدت رکھنے والا‘‘ بھی ہے۔مثلاً :وہ فلاں صاحب کے حلقہ بگوش ہیںیعنی ان کو بہت مانتے ہیں یا ان سے بہت عقیدت رکھتے ہیں۔ نجانے کس کا شعر ہے ،لیکن خوب ہے :

تمھارے حلقہ بگوشوں میں ایک ہم بھی ہیں

پڑا رہے یہ سخن کان میں گُہر کی طرح

اس مفہوم میں حلقہ بگوش کی ترکیب اقبال نے ضرب ِ کلیم کے قطعے ’’ایک سوال‘‘میں استعمال کی ہے :

کوئی پوچھے حکیم ِ یور پ سے

ہند و یوناں ہیں جس کے حلقہ بگوش

کیا یہی ہے معاشرت کا کمال

مرد بے کار و زن تہی آغوش

٭تحریر

تحریر کو اب ہم اردو میں لکھائی یا عبارت کے معنی میں استعمال کرتے ہیں ۔یہ عربی زبان کا لفظ ہے اور تحریر کے لفظی معنی ہیں آزاد کرنا، رہا کرنا۔ قدیم زمانے میں جس کو غلامی سے آزاد کرتے تھے اس کو ایک عبارت لکھ کر دے دیتے تھے تاکہ وہ اسے اپنی آزادی کے ثبوت کے طور پر دِکھا سکے۔ اس سے رفتہ رفتہ لکھائی یا عبارت کا مفہوم پیدا ہوگیا۔ اب تحریر کا مطلب لکھائی یا لکھی ہوئی چیزیا عبارت بھی ہے اور آزادی بھی۔اسی لیے مصر کے شہری آزادی کے لیے قاہرہ کے جس چوک پر احتجاج کرتے تھے اس کا نام تحریر اسکوائر یعنی آزادی چوک ہے۔

حُرّیت کا لفظ بھی اسی عربی مادّے سے بنا ہے جس سے تحریر کا لفظ بنا ہے اور حرّیت کے لفظی معنی آزادی ہی کے ہیں، خاص طور پر غلامی کے بعد ملنے والی آزادی۔ اسی لیے’’ حریت پسند ی‘‘ کی ترکیب ’’آزادی پسندی ‘‘ کے علاوہ ’’غلامی سے آزاد ہونے کی جد وجہد ‘‘کے مفہوم میں بھی مستعمل ہے۔ کشمیری حریت پسند اصل میں آزادی پسند ہیں، غلامی سے چھٹکارے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ اسی طرح ’’حُر‘‘ بھی اسی مادے سے ہے اور حُر کا مطلب ہے آزاد یعنی غلام کی ضد، اور یہ شریف کے معنی میں بھی آتا ہے۔

٭چُھوئی مُوئی

چُھوئی یعنی جس کو چُھوا گیاہو۔اسی لیے اَن چُھوئی کا مطلب ہے جس کو چھوا نہ گیا ہو۔ مُوئی یعنی مری۔ چھوئی موئی کا مطلب ہے کہ جیسے ہی اس کو چھواگیا، وہ مرگئی۔یہ دراصل ایک پودے کا نام ہے ۔ یہ ایک پھیلنے والی بیل ہوتی ہے جس پر ہلکے بنفشی رنگ کے پھول آتے ہیں۔یہ پودا بہت حسّاس اور نازک ہوتاہے اور ہاتھ لگانے سے اپنے پتّے سُکیڑ لیتا ہے ۔ اگرچہ چھونے سے پتے مرتے تو نہیں اور نہ بیل مرتی ہے لیکن اس کا نام چھوئی موئی پڑگیا ۔

جان ٹی پلیٹس نے اپنی اردو بہ انگریزی لغت میں اس کا نام sensitiva mimosa دیا ہے لیکن جدید انگریزی لغات میں اس کا نام shameplant لکھا ہے ،یوں سمجھ لیجیے کہ ’’ شرمیلا پودا‘‘۔اب اردو میں چھوئی موئی کی ترکیب ’’بہت نازک ,، کم زور، شرمیلی ‘‘ کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتی ہے اور اس کی وجہ یہی شرمیلی بیل ہے۔