آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

یہ آج سے 30سال پہلے کا سچّا واقعہ ہے، جو میرے ساتھ پیش آیا۔ اُن دنوں ایبٹ آباد کے آس پاس اور شمالی علاقہ جات میں شدید برف باری کا سلسلہ جاری تھا، جس نے غالباً 80سالہ ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ اس قدر شدید برف باری میں لوگ سرِشام ہی گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے تھے، پہاڑی علاقوں میں جو تھوڑی بہت رونق ہوتی ہے، ختم ہوکر یاسیت اور اداسی میں بدل چکی تھی، آمد و رفت کے تمام راستے مسدود ہوچکے تھے، کئی کئی فٹ برف ہونے کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر تھے۔ ان دنوں میری آٹھ ماہ کی بیٹی شدید بیمار اور موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھی۔ 

اس کڑے موسم اور مسدود حالات کے تحت میں نے اس کی خصوصی دیکھ بھال کے لیے اپنی ڈیوٹی شام کی شفٹ میں کروالی تھی تاکہ خدا نخواستہ دن کے وقت کسی تکلیف کی صورت میں فوری طور پر اسپتال لے جاسکوں۔ اس روز میں بہت اداس تھا، کیوں کہ بیٹی کی طبیعت بہت خراب تھی۔ ڈیوٹی پر جانے کو دل کسی طرح آمادہ نہیں تھا، لیکن پھر بھی بادلِ نخواستہ کام پر جانا پڑا۔ سارا دن کام میں مصروف رہا، شام ہوتے ہی حسبِ معمول شدید طوفانی بارش کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس قدر تیز طوفانی بارش ہورہی تھی کہ دل گھبرانے لگا، بار بار بیمار بیٹی کا چہرہ نگاہوں کے سامنے آرہا تھا، ڈیوٹی ٹائم ختم ہوتے ہی گھر جانے کے لیے پَر تولنے لگا، لیکن اس خوف ناک اور طوفانی بارش نے میرے جلد از جلد گھر پہنچنے کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ 

بارش تھمنے کی آس میں کافی دیر کھڑکی کے سامنے کھڑا رہا، مگر اسے نہ رکنا تھا اور نہ رکی۔ بارش اور ژالہ باری کا سلسلہ رات 2بجے تک جاری رہا۔ میرے ساتھ آفس میں ٹھہرے ہوئے بہت سے ساتھی میری پریشانی اور بے چینی دیکھ کر تسلّی دے رہے تھے کہ اب کافی رات بیت چکی ہے، بارش رکنے کے کوئی آثار نہیں ہیں، نہ ہی اس طوفانی رات میں کسی ٹیکسی کا بندوبست ہوسکتا ہے، لیکن میں بیٹی کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔

کچھ دیر بعد میں نے سائیکل لی اور گھر جانے کے لیے تیار ہو گیا۔میرے ساتھی سمجھانے لگے کہ راستے میں بہت گھنا جنگل ہے، جہاں مختلف قسم کے جنگلی جانور ہیں، جنوں، بھوتوں کے بسیرے ہیں۔ میں نے ان کی باتوں کو ہنس کر ٹال دیا کہ اس قدر شدید سردی اور ژالہ باری میں جنگلی جانور اور جن بھوت بھی نہیں نکلیں گے۔ بہرحال، میں سب کی باتیں رد کرتا ہوا اللہ کا نام لے کر گھر کی طرف چل پڑا۔ سخت سردی میں ہر طرف سنّاٹا چھایا ہوا تھا۔ صرف میری سائیکل کے چلنے کی آواز آرہی تھی۔ گھر کے راستے میں مرکزی سڑک عبور کرتے ہی گھنے جنگل کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا، جہاں سے عموماً ہنستے کھیلتے گزر جایا کرتے تھے، لیکن اس روز اس خوف ناک اور گھنے جنگل کو دیکھ کر دل گھبرانے لگا۔ 

تاہم، دل کو تسلّی دے کر اور مختلف قرآنی آیات پڑھتا ہوا آگے بڑھتا رہا، ابھی تھوڑی ہی دُور گیا تھا کہ اچانک ایک کڑک دار آواز گونجی، ’’رُک جائو‘‘ میرا پورا جسم خوف کے مارے کانپنے لگا اور سخت سردی میں پسینہ پسینہ ہوگیا۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ رات کے اس پہر اس ویرانے میں یہ کس کی آواز ہو سکتی ہے۔ صورتِ حال ایسی تھی کہ نہ واپس جاسکتا تھا، نہ کسی کو مدد کے لیے پکار سکتا تھا۔ موت کو اتنا قریب دیکھ کر زور زور سے کلمہ شہادت پڑھنے لگا۔

چند ثانیے میں ایک دراز قد سایہ میری طرف بڑھنے لگا، اب مجھے اپنی موت کا پکّا یقین ہوگیا۔ سوچنے لگا کہ صبح میرے گھر والے مجھے یہاں ڈھونڈتے پھریں گے۔ مجھے اندازہ ہونے لگا کہ اس گھنے جنگل میں اور آدھی رات کو یہ کیا چیز ہوسکتی ہے۔ اس لیے اس کی طرف خصوصاً اس کے پیروں کو دیکھنے سے قصداً احتراز کیا۔ معاً اس غیرمرئی مخلوق نے قریب آکر پیار سے کہا کہ ’’بیٹا! میرا پیر زخمی ہے، میں سامنے والی پہاڑی پر رہتی ہوں، مجھے وہاں پہنچادو۔‘‘ چند لمحے پہلے میں خوف سے کانپ رہا تھا اور سخت سردی میں پسینے پسینے ہورہا تھا، لیکن اُن کے محبت بھرے لہجے سے خوف کچھ کم ہوا، تو اُنہیں اپنی سائیکل پر بٹھالیا۔ 

راستے میں وہ بہت پیار سے کہنے لگیں کہ ’’بیٹا! آدھی رات کو اس خوف ناک جنگل میں کیوں آئے ہو؟‘‘ میں نے کہا ’’امّاں جی! میری بیٹی زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہے، اس لیے ہر صورت جلد از جلد اپنے گھر پہنچنا چاہتا ہوں۔‘‘باتیں کرتے کرتے ہم پہاڑی کے قریب پہنچ گئے، تو امّاں جی نے بڑے پیار سے کہا ’’بیٹا! مجھے یہاں اتار دو۔‘‘ اب میرا ڈر و خوف بہت حد تک ختم ہوچکا تھا۔ میں نے کہا کہ ’’اماں جی! یہ پہاڑی علاقہ ہے، آپ کا پائوں زخمی ہے اور اس وقت ہر طرف بہت اندھیرا ہے، میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ آتا ہوں۔‘‘ تو انہوں نے کہا کہ ’’بیٹا! میں تو پہاڑی علاقے میں چلنے کی عادی ہوں۔ آگے میں خود چلی جائوں گی۔‘‘ میرے بار بار اصرار کرنے پر اُنہوں نے سختی سے کہا، ’’خبردار! میرا پیچھا نہ کرنا، سیدھے اپنے گھر جائو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری بیٹی کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔‘‘ امّاں جی یہ کہہ کر تیزی سے آگے بڑھ گئیں، تو مَیں بھی واپس اپنے گھر کی جانب چل پڑا۔

اس وقت رات کے تین بج رہےتھے۔ گھر کے قریب پہنچا، تو مجھے دُور سے بیٹی کے رونے کی آوازیں آنےلگیں۔ گھر کے دروازے پر دستک دی، تو بیوی نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا اور کہا کہ ’’اتنی دیر سے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ خدانخواستہ راستے میں کوئی حادثہ پیش آجاتا تو.....‘‘ میں نے بیوی کی بات نظرانداز کرتے ہوئے مسلسل روتی ہوئی بچّی کو بے تابی کے عالم میں گود میں اٹھایا، تو حیرت انگیز طور پر وہ پرسکون ہوکر مجھے گھورنے لگی۔ میں بھی اسے والہانہ انداز سے پیار کرنے لگا۔ پھر کچھ دیر بعد شکرانے کے نوافل ادا کیے کہ اللہ تعالیٰ نے خیریت سےمجھے گھر پہنچادیا۔ بیٹی کی حالت دیکھ کر دل بہت دُکھ رہا تھا۔ اللہ سے گڑگڑا کر دعا کی کہ ’’یااللہ! یہ معصوم سی بچّی ہے، سخت تکلیف میں ہے، اسے شفا دے دے یا اس کی تکلیف مجھے دے دے۔‘‘

صبح ہوئی تو کمرے کے ایک کونے میں اطمینان و سکون سے بیٹی کو کھیلتے دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی، اور یقین ہوگیا کہ یہ اس پراسرار خاتون کی دعا اور خصوصاً اللہ رب العزت سے گڑگڑا کر مانگی ہوئی میری دعائوں کا اثر ہے۔ مَیں اکثر سوچتا ہوں کہ وہ قد آور بھاری جسم والی خاتون میری سائیکل پر بیٹھیں اور پورے راستے میں آسانی سے سائیکل چلاتا رہا،مجھے ذرا بھی بوجھ محسوس نہ ہوا کہ میرے پیچھے کوئی بیٹھا ہے۔ اکثر یہ خیال بھی ذہن میں آتا ہے کہ کہیں وہ میری والدہ کی روح تو نہیں تھی، جو اکثر مصیبت یا پریشانی کے وقت میرا ساتھ دینے آجاتی ہے اور خواب میں مجھے تسلّی دے کر چلی جاتی ہے۔ حالاں کہ میری والدہ کو فوت ہوئے پچاس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے۔ (اعجاز احمد، انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی، اسلام آباد)

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کاربرائے صفحہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘

٭کراچی کے لٹیروں کی دیدہ دلیری (ڈاکٹر محمد فیضان خان کراچی) ٭میری زندگی کا تجربہ (سید شاہ رخ حسین، نارتھ ناظم آباد، کراچی)نیت صاف (محمد طلحہ یاسر، لاہور) ٭امیر حمزہ کم سِن ترین لیکچرار کیسے بنا؟ (صوبیدار (ر) محمد یوسف خان عباسی، رشید پلازا، راول پنڈی) ٭حقیقت پر مبنی کہانی (عرفان علی رحم دل، راول پنڈی) ٭4اپریل 1979ء (سیماب گل) ٭ناکام محبت (مقبول حسین، تحصیل تلہ گنگ، ضلع چکوال) ٭سبزی والا (پروفیسر ظفر، گلشنِ معمار، گڈاپ ٹائون،کراچی) ۔

سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!

اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے، جو کسی کردار کی انفرادیت، پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بِنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اٹھائیے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں، صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز، اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔

ایڈیٹر، ’’سنڈے میگزین‘‘ صفحہ ناقابلِ فراموش، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔