آپ آف لائن ہیں
منگل20؍ذی الحج 1441ھ 11؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا سے نبردآزما ’’فرنٹ لائن فائٹر‘‘

عالمی سطح پر پھیلنے والی مہلک وباکوروناہمارے ملک میں بے قابو ہوگئی ہے اور اس کے مریضوں کی تعداد میں روز بروزاضافہ ہو رہا ہے۔ وباءکے ساتھ ساتھ ڈاکوؤں اور لٹیروں نے بھی شہر میں تباہی مچائی ہوئی ہےڈاکوؤں کے خودساختہ قانون کے مطابق ڈکیتی مزاحمت پر کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

کورونا کی تباہ کاریوں کا یہ عالم ہے کہ شہرکے بڑے اسپتالوں جناح،سول، انڈس کے بعد ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال نے بھی کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے اپنے دروازے بند کر کے بینرز آویزاںکر کے واضح طور پر تحریر کردیا گیاہے کہ اسپتال میںاب گنجائش نہیں ہے۔ کروناکی تباہ کاری سے خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے لیکن عوام کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کی کوششیں کرنے والے پولیس اہل کار جو لاک ڈاؤن میں اپنے فرائض کی بجاآوری کررہے ہیں وہ بھی اس کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔فرنٹ لائن فائٹرز ،سندھ پولیس کے افسران سمیت8اہلکا ر اس موذی مرض کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار چکے ہیں ۔ 

تادم تحریر پولیس ذرائع سے ملنے والے تازہ اعداد و شمار کے مطابق بدھ کی دوپہر تک صوبے بھر میں5اعلی پولیس افسران و اہل کاروںسمیت فرنٹ لائن فائٹرز فورس کے کورونا وائرس کا شکار ہونے والوںکی تعداد402ہوگئی ہے ۔ سندھ پولیس کے اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) کے کمانڈو راشد جو لاک ڈاؤن کے دوران اپنے فرائض انجام دے رہے تھےکورونا وائرس کے باعث بدھ کی صبح انتقال کر گئے۔ ایک ایس ایس پی،4ایس پی،5ڈی ایس پی، 19انسپکٹرز، 32 سب انسپکٹر،35اسسٹنٹ سب انسپکٹر، 56ہیڈ کانسٹیبل،230کانسٹیبل اور دیگر عملہ کورونا وائرس کا شکار ہو چکا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ،کورونا وائرس کا شکار ہونے والے 133 پولیس افسران اور اہل کار اس ہلاکت خیز وبا کو شکست دے کر صحت یاب ہوچکے ہیں ۔ پولیس ذرائع کے مطابق سندھ کے 5 سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سمیت پولیس اہل کار اب بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوکر309 مختلف اسپتالوں، میڈیکل سنٹرز یا گھروں میں قر نطینہ میں ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کا شکار پولیس اہل کاروں کی سب سے زیادہ تعداد کراچی پولیس کی ہے۔ ضلع کورنگی کے شاہ فیصل اور گلبرگ تھا نے کے ایس ایچ اوز سمیت 22 پولیس اہل کاروںکے کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آچکے ہیں اور ان تمام اہل کاروں کوان کے گھروں میں آئیسولیٹ کردیا گیا ہے ۔ چند روز قبل ایس ایس پی کورنگی فیصل عبداللہ چاچڑ کاکورونا ٹیسٹ مثبت آیا جس کے بعد وہ قرنطینہ میں چلے گئے۔کراچی پولیس چیف کے مطابق کورنگی ضلع اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں پولیس کے ضلعی سربراہ سمیت 80سے زیادہ اہل کار کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

ایس ایس پی سینٹرل کے دفتر کے احاطے میں واقع سی پی ایل سی آفس میں تعینات وائرلیس آپریٹر ہیڈ کانسٹیبل سید حسن رضا کو کئی دن سے کورونا وائرس کی علامتیں ظاہر ہورہی تھیں، ان کا کورونا ٹیسٹ کرایا گیا اور منگل 2 جون کو ملنے والی رپورٹ میں ان کا ٹیسٹ مثبت آیا اور وہ دوران علاج خالق حقیقی سے جا ملے۔ ایس ایس یو کے کمانڈو راشد بھی کورونا وائرس کے باعث بدھ کی صبح انتقال کر گئے، جولاک ڈان کے دوران فیلڈ میں ڈیوٹی ادا کر رہے تھے۔ گزشتہ نوں 54سالہ پولیس اہل کار شکیل احمد کورونا کا شکار ہوکر خالقِ حقیقی سے جا ملے، ۔ علاو ہ ازیں سعیدآباد پولیس ٹریننگ سینٹر کا عملہ بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگیاجہاں200سے زا ئد افراد کا کوروناکاٹیسٹ کیا گیا جس میں سے 48اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کچھ روز بعد سعیدآباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں زیر تربیت اہل کاروں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ جہاں باوجود سماجی فاصلے کا خیال رکھنے کے، ایک ساتھ دوڑ لگانے اور ایک ہی اسلحہ کو تمام ٹرینیز دوران امتحان استعمال کرنے سے اس بات کا خدشہ ہے کہ زیر تربیت عملے میں کورونا وائرس پھیل سکتا ہے۔جو افسران و اہل کار اس موذ ی وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں ان میں زیادہ تر اہل کاروں نے پلازمہ عطیہ کرنا شروع کردیا ۔پلازمہ کے ذریعے کورونا وائرس کا شکار افراد کا علاج کیا جائے گا۔واضح رہے کہ پیسوو ایمونائزیشن میں صحتیاب ہونے والے مریض کا پلازمہ متاثرہ مریض کو دیا جاتا ہے۔

لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد وزیر ٹرانسپو رٹ نے ٹرانسپورٹرزکی جانب سے ایس او پیز کی مکمل پابندی کرنے کی یقین دہانی پرپبلک ٹرانسپورٹ کھول تودی ہے لیکن طے شدہ ایس او پیز کی کھلم کھلاخلاف ورزی کے خلاف ٹریفک پولیس نے کارروائیاں کرکےسیکڑوں ڈرائیوروں کو گرفتار کر کے مقدمات درج کر کے چالان اوربھاری جرمانہ عائد کیا جب کہ متعدد گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں۔

کورونا کی وبا کی تباہ کاریوں کے باوجود ڈاکو اوررلٹیرےشہر بھر میںدندناتے پھر رہے ہیں۔لاک ڈائون اور بے روزگاری کے ستائے ہوئے شہر ی ڈاکو اور اسٹریٹ کرمنلز کے رحم و کرم ہیں جبکہ پولیس میںموجود کالی بھڑیںبھی قتل و غارت گری اور لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث پائے گئےہیں ۔گزشتہ دنوںنارتھ ناظم آباد کھنڈو گوٹھ میںکامران نامی شہری کے قتل میں پولیس اہل کار محمد زبیر، احمد نعمان، غلام مصطفی اور امداد حسین ملوث نکلے۔ایڈیشنل آئی جی کراچی کی ہدایت پر چاروں اہل کاروں کو معطل کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ۔ ملیر میمن گوٹھ کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزمان نے ڈکیتی کے دواران مزاحمت پر فائرنگ کرکے 30سا لہ عبدالواحد ولد ارشاد کوا قتل کردیا ۔ مقتول اپنی بہنوں اور بہنوئی کے ہمراہ میمن گوٹھ سے ملیرجارہا تھا۔ کورنگی زمان ٹائون میں سیکٹر B-50 غوث پاک روڈ پر 2 ڈاکو عوام کے ہتھے چڑھ گئے جن پرتشدد کے بعد جلانے کی کوشش کے دوران پولیس موقع پر پہنچ گئی تو مشتعل عوام نےڈاکو حوالے کرنے کی بجائے مزاحمت کی۔ پولیس نے ڈاکوئوں کو مشتعل عوام سے چھڑا کر تھانے منتقل کیا ۔ گرفتار ڈاکوئوں کی تحویل سے 2پستول برآمد کئے گئے ہیں۔ 

سہراب گوٹھ تھانے کی حدود جونیجو کالونی الآصف اسکوائر کے قریب ڈکیتی میں مزاحمت کرنے پر ملزمان کی فائرنگ سے 55سالہ محمد اسلم ولد چوہدری اللہ والا زخمی ہو گیا ۔ اورنگی ٹاون نمبر 15 میں واقع میڈیکل اسٹور میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ملزمان نے دکاندارکو زخمی کرکے دکان سے رقم لوٹ کر فرار ہوگئے۔ گلبہار میں موٹر سائیکل سوارملزمان کی فائرنگ سےٹریفک پولیس اسے نامعلوم ملزمان نے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی مزاحمت پر اسے فائرنگ کر کے زخمی کردیا اور اس کا سرکاری اسلحہ چھین کرفرار ہو گئے۔ نیو کراچی تھانے کی حدد پاور ہاؤس کے قریب 20سالہ محمد احمد ولد عبداللہ کو ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کر کے زخمی کر دیا ۔ لینئم مال کے قریب ملزمان نے ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کر کے28سالہ یاسر فاروقی کو زخمی کر دیا۔محمود آباد تھانے کی حددو چنیسر گوٹھ میں دوران ڈکیتی ملزمان کی فائرنگ سے28 سالہ ثناء اللہ زخمی ہو گیا۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید