آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہر بیمہ پالیسی تنازعے کیلئے ہم سے رجوع کریں

انٹرویو:منور راجپوت

عکّاسی:ا سرائیل انصاری

ڈاکٹر محمّد خاور جمیل نے کراچی، امریکا اور لندن سے اکنامکس اور قانون کی تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں، جامعہ کراچی سے اُردو ادب میں ڈاکٹریٹ کیا۔ مختلف سرکاری مناصب پر فرائض سرانجام دیتے ہوئے وفاقی سیکریٹری کے عُہدے تک پہنچے۔ اِن دنوں وفاقی انشورنس محتسب کی ذمّے داریاں نبھا رہے ہیں۔ اُن کے تعارف کا ایک دوسرا رُخ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے والد، معروف ادیب و محقّق، ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی وراثت کے امین ہیں اور اس وراثت کی نگہہ بانی کے فرائض بھی بحسن و خُوبی ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں اُن سے ایک تفصیلی نشست ہوئی، جس کا احوال قارئین کی نذر ہے۔

ہر بیمہ پالیسی تنازعے کیلئے ہم سے رجوع کریں
نمایندہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے

س: سب سے پہلے تو اپنے خاندان، تعلیم اور کیرئیر کے بارے میں کچھ بتائیے؟

ج: مَیں نے کراچی یونی ورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز کیا اور پھر والد، ڈاکٹر جمیل جالبی کی طرح سِول سروس کے امتحان میں کام یابی کے بعد عملی زندگی کا آغاز کیا۔ میری مختلف عُہدوں پر پوسٹنگ ہوتی رہی، مگر اس دوران بھی حصولِ تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ جامعہ کراچی سے ایل ایل بی اور پھر ایل ایل ایم کیا۔ اوہائیو اسٹیٹ یونی ورسٹی، امریکا سے ایم بی اے فنانس اور اسکول آف اکنامکس، لندن سے ڈی پی ایم کی اسناد حاصل کیں۔ بعدازاں کراچی یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا۔ کمشنر سوشل سیکوریٹی، ایم ڈی اسمال انڈسٹریز کارپوریشن، ایم ڈی سائٹ لمیٹیڈ، ڈائریکٹر لیبر سندھ، ڈائریکٹر سِول ڈیفینس، ڈی جی فنانس پورٹ قاسم اور ڈی سی او جام شورو رہا۔ 

پھر گریڈ 22 میں ترقّی ہوگئی، جو ہر سِول سرونٹ کا خواب ہوتا ہے، لیکن بہت سے اِس گریڈ تک تو پہنچ جاتے ہیں، مگر وفاقی سیکریٹری نہیں بن پاتے۔ الحمدللہ، مَیں والدین کی دعاؤں کے طفیل وفاقی سیکریٹری بھی بنا اور ساڑھے پانچ برس اس حیثیت سے کام کرتا رہا، حالاں کہ بہت کم افسران اِتنا عرصہ اس گریڈ میں رہ پاتے ہیں۔ بعدازاں والدین کی خرابیٔ صحت کے سبب کراچی منتقل ہوگیا کہ اُنھیں کسی صُورت تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ یوں بھی ہم شروع ہی سے جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے آ رہے ہیں کہ اِس میں بہت برکتیں ہیں۔کراچی منتقلی کے بعد ممبر انچارج ریجینل آفس وفاقی محتسب (سندھ) اور ایکسپورٹ پروسسینگ زونز اتھارٹیز کا چیئرمین رہا اور اب 12 دسمبر 2019 ء سے وفاقی انشورنس محتسب کے عُہدے کی ذمّے داریاں ادا کر رہا ہوں۔

س: آپ کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا موضوع کیا تھا؟

ج: والد صاحب کی خواہش تھی کہ ہم دونوں بھائیوں میں سے کوئی اُردو ادب میں ضرور پی ایچ ڈی کرے۔ لہٰذا، مَیں نے مغل بادشاہ اور اُردو کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر، شاہ عالم ثانی آفتاب کے کلام کو تحقیق کا موضوع بنایا۔ اُن کا کلام اکٹھا کرنے کے لیے بہت محنت کرنی پڑی، کیوں کہ وہ کہیں بھی مکمل طور پر دست یاب نہیں تھا۔ اِس مقصد کے لیے برٹش میوزیم، لندن بھی گیا اور یوں ڈھونڈ ڈھانڈ کر اُن کا کلام یک جا کیا۔اِس وقت تک اُن کا اِتنا ہی کلام دست یاب ہے، جو مَیں نے اکٹھا کیا۔

س: سُنا ہے، جالبی صاحب کے پاس کتب کا بہت بڑا ذخیرہ تھا، کیا وہ محفوظ ہے؟

ج: جی ہاں۔ والد صاحب کے کتب خانے میں ایک لاکھ سے زاید کتب تھیں۔ 2014 ء میں ایک غیر مُلکی ادارے نے معاوضے کے عوض یہ ذخیرہ مانگا، لیکن مَیں نے صاف انکار کردیا کہ والد کا اثاثہ کیسے بیچا جا سکتا ہے۔ پھر ایک کلچرل سینٹر نے پیسوں کے عوض کتب مانگیں، تو اُنھیں بھی جواب دے دیا۔ بعدازاں، کافی غورو خوض کے بعد مَیں نے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر، ڈاکٹر قیصر کو فون کرکے کتب دینے کی پیش کش کی۔ 

کتب خانے کا دورہ کرنی والی جامعہ کی ٹیم نے رپورٹ دی کہ جالبی صاحب کی کتب کے لیے یونی ورسٹی کی موجودہ لائبریری کا پورا فلور بھی ناکافی ہوگا۔ اس پر جامعہ کی سندیکیٹ نے ایک قرار داد منظور کی، جس کے تحت موجودہ لائبریری کے برابر میں’’ ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری‘‘ کی عمارت تعمیر ہو رہی ہے، جو رواں سال کے آخر تک مکمل ہوجائے گی۔

س: محتسب کا نظام کیا ہے؟ اور یہ کس طرح کام کرتا ہے؟

ج: ابتدا میں ایک وفاقی محتسب ہوتا تھا، جس کے صوبوں میں بھی دفاتر تھے، مگر کام زیادہ ہونے پر اس نظام کو پانچ محتسبین میں تقسیم کردیا گیا۔ ٹیکس، جنرل اور ہراسمنٹ یعنی ان تین وفاقی محتسب کے مرکزی دفاتر اسلام آباد میں ہیں ، جب کہ ان کے صوبوں میں بھی ذیلی دفاتر ہیں۔ اِسی طرح باقی دو، یعنی بینکنگ محتسب اور انشورنس محتسب کے مرکزی دفاتر کراچی میں ہیں، جب کہ ان کے بھی مُلک کے دیگر حصّوں میں ذیلی دفاتر ہیں۔

س: کس طرح کے متاثرین وفاقی انشورنس محتسب سے رجوع کرسکتے ہیں؟

ج: لوگ بڑھاپے کو محفوظ بنانے، بچّوں کی شادی یا اُن کی تعلیم کے لیے بیمہ پالیسیز لیتے ہیں۔ تاہم، جب رقم وصولی کا وقت آتا ہے، تو اُنھیں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی کے کاغذات پورے نہیں ہوتے، تو کسی کے ساتھ کوئی اور مسئلہ ہوتا ہے۔ کمپنیز اُنھیں رقم نہیں دیتیں یا اگر دیتی بھی ہیں، تو کٹوتی کر لیتی ہیں۔یوں کلائنٹ اور کمپنی کے درمیان تنازع جنم لے لیتا ہے۔ اِس طرح کے افراد کو کسی اور فورم کی بجائے انشورنس محتسب ہی سے رجوع کرنا چاہیے۔

س: درخواست دینے کا طریقۂ کار تو خاصا پیچیدہ ہوگا؟

ج: نہیں، نہیں، بہت آسان ہے۔ متاثرہ شخص سادہ کاغذ پر اپنے شناختی کارڈ کی نقل کے ساتھ درخواست دے سکتا ہے۔ 24 گھنٹے کے اندر اندر درخواست رجسٹر کرکے ایک نمبر الاٹ کردیا جاتا ہے۔ البتہ اِس دَوران درخواست گزار کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت وغیرہ میں نہیں لے کر جائے گا۔ بعدازاں، فریقین کو نوٹس جاری کرکے بلوایا جاتا ہے۔ محتسب اِس طرح کی درخواستوں پر ساٹھ دنوں میں فیصلے کے پابند ہیں، جس کے خلاف صرف صدرِ مملکت ہی کے پاس اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق محض 1.5 فیصلوں کے خلاف اپیلز کی جاتی ہیں اور اُن میں سے 98 فی صد پر محتسب کا فیصلہ برقرار رہتا ہے۔ دراصل، کمپنیز محض وقت حاصل کرنے کے لیے اپیل میں جاتی ہیں، وگرنہ اُنھیں بھی پتا ہوتا ہے کہ محتسب کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے۔

س: زیادہ تر فیصلے کس کے حق میں ہوتے ہیں؟ کمپنی یا عوام؟

ج: محتسب کے ادارے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں، اِس لیے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ عوام کو اُن کا قانونی حق دِلوائیں۔ البتہ اس سلسلے میں باہمی افہام وتفہیم سے حل نکالنے کو فوقیت دی جاتی ہے۔ مجھے یہ عُہدہ سنبھالے چند ماہ ہوئے ہیں اور اس کا بھی بڑا حصّہ کورونا کی نذر ہوگیا، مگر اس کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بیمہ پالیسیز لینے والوں کو انشورنس محتسب کا علم ہی نہیں۔ جب بے چاروں کی جمع پونجی پھنس جاتی ہے، تو وہ اِدھر اُدھر مارے مارے پِھرتے ہیں، جس کی وجہ سے اُن کا مزید پیسا اور وقت ضایع ہوتا ہے، جب کہ بہت سے متاثرین تو مایوس ہو کر گھر بیٹھ جاتے ہیں۔ اِس صُورتِ حال کے پیشِ نظر ہم عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے بھی مہم چلا رہے ہیں۔

س: بیمہ پالیسیز سے متعلق قوانین کسے سپورٹ کرتے ہیں؟

ج: ظاہر سی بات ہے، کمپنیز کے قوانین بنیادی طور پر اُنھیں ہی سپورٹ کرتے ہیں۔ انشورنس پالیسی لیتے ہوئے کلائنٹ کے سامنے جو شرائط رکھی جاتی ہیں، وہ اِتنی باریک لکھی ہوتی ہیں کہ اُنھیں پڑھا نہیں جا سکتا۔ تاہم ،اب ہم نے کمپنیز کو پابند کیا ہے کہ وہ ان شرائط کو نمایاں طور پر چھاپیں تاکہ کلائنٹ اُنھیں باآسانی پڑھ کر کوئی فیصلہ کرسکے۔ چوں کہ محتسب کا ادارہ کوئی ریگولیٹری باڈی نہیں ہے، اِس لیے ہم اپنی تجاویز ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک کو بھجواتے رہتے ہیں تاکہ معاملات بہتر بنائے جا سکیں۔

س: زیادہ تر تنازعات کی کیا نوعیت ہوتی ہے؟

ج: بیش تر تنازعات کا تعلق رقم کی کٹوتی سے ہوتا ہے۔ مثلاً کلائنٹ دعویٰ کرتا ہے کہ اُس کے مقرّرہ مدّت میں 12 لاکھ روپے بنتے ہیں، مگر کمپنی مختلف کٹوتیاں کرکے بتاتی ہے کہ بارہ نہیں، چھے لاکھ روپے بنتے ہیں۔ اُس وقت باریک لکھی ہوئی شرائط کلائنٹ کے سامنے رکھ دی جاتی ہیں کہ دیکھو! تم نے تمام شرائط قبول کرتے ہوئے دست خط کیے تھے اور ان ہی شرائط کے تحت فلاں فلاں مَد میں رقم کاٹی گئی ہے۔ اگر اعداد وشمار دیکھیں، تو لائف انشورنس پالیسیز سے متعلق 75 فی صد، جب کہ 25 فی صد شکایات جنرل پالیسیز کے حوالے سے سامنے آ رہی ہیں۔ پھر یہ کہ لائف پالیسیز میں بھی سب سے زیادہ درخواستیں بینکس کے ذریعے لی جانے والی پالیسیز سے متعلق ہیں۔یہ ایشو دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ دراصل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بینک میں انویسٹ کر رہے ہیں، جب کہ ایسا ہوتا نہیں ہے۔یوں وہ بینک کے نام پر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ 

برانچ منیجر کے علم میں ہوتا ہے کہ کس اکاؤنٹ میں مناسب رقم رہتی ہے، وہ ایسے افرادکو مختلف انشورنس پالیسیز لینے کی ترغیب دیتے ہیں کہ’’ بس تھوڑی سی رقم جمع کروادیں، جو آٹھ دس سال میں دس گُنا ہوجائے گی۔‘‘کلائنٹ رقم جمع کرواتا رہتا ہے اور جب وہ کچھ عرصے بعد معلوم کرتا ہے، تو پتا چلتا ہے کہ اُس کی رقم کا ایک بڑا حصّہ مختلف حیلوں بہانوں سے کاٹ لیا گیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ کوئی بھی پالیسی لیتے ہوئے شرائط کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے اور ایجینٹس کے چکر میں پڑنے کی بجائے تمام معاملات براہِ راست کمپنی سے طے کیے جائیں، تو کئی طرح کے تنازعات سے بچا جا سکتا ہے۔

س: آپ بہت سے عُہدوں پر کام کرتے رہے، سرکاری ملازمت کا تجربہ کیسا رہا؟

ج: مَیں سندھ کے سب سے بڑے ضلعے، جام شورو کا ڈی سی او بھی رہا، جس کی سرحدیں ایک طرف کراچی، تو دوسری طرف لاڑکانہ اور بلوچستان سے ملتی ہیں۔ اس ضلعے میں صوبے کے دو بڑے صنعتی زونز، نوری آباد اور کوٹری شامل ہیں، تو سندھ کے بڑے تعلیمی ادارے، سندھ یونی ورسٹی، مہران انجنئیرنگ یونی ورسٹی اور پٹارو کالج وغیرہ بھی اس کی حدود میں آتے ہیں۔ جب کہ حضرت شہباز قلندرؒ کا مقبرہ اور تاریخی مقام، رَنی کوٹ بھی اسی ضلعے میں ہیں۔میری ملازمت کے دَوران وہاں سیلاب آیا، جس سے بہت سے دیہات زیرِ آب آگئے۔ اس دوران میرا معمول رہا کہ دفتر میں بیٹھے رہنے کی بجائے روزانہ صبح دس گیارہ بجے متاثرہ مقامات کے وِزٹ پر چلا جاتا اور شام کو واپس لَوٹتا۔ 

طوفانی بارش میں گُھٹنوں گُھٹنوں پانی میں بھی چلتا رہا۔ میری کوشش رہی کہ مسائل کو بلاوجہ طول دینے کی بجائے اُنھیں موقعے ہی پر حل کیا جائے۔ ایک روز رات گئے کچّے کے علاقے سے دو ڈھائی سو جھونپڑیوں کے جلنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ مَیں اُسی وقت وہاں کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ میرے عملے اور پولیس نے وہاں جانے سے منع کیا، کیوں کہ اُن دنوں وہاں ڈاکوؤں کا بہت خوف تھا، لیکن مَیں رات پونے دو بجے متاثرہ گاؤں پہنچ گیا۔وہیں سے وزیرِ اعلیٰ سندھ کو فون کیا کہ’’ جناب! مَیں نے متاثرین سے امدای سامان کا وعدہ کیا ہے، براہِ مہربانی ریلیف کمشنر کو ضروری سامان پہنچانے کے احکامات صادر فرمائیں۔‘‘ لوگ کہنے لگے کہ’’ آپ صرف لارے لپّے دے کر جا رہے ہیں، واپس نہیں آئیں گے‘‘، مگر مَیں دوسرے روز وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے بھجوائے گئے سامان کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ اسی عہدے پر رہتے ہوئے مجھے میڈیا کی وسعت اور محنت کا بھی اندازہ ہوا۔ 

ایک روز رات ساڑھے گیارہ بجے اعلیٰ حکّام کی جانب سے اطلاع ملی کہ میرے ضلعے میں کہیں جہاز گرا ہے۔ وائرلیس پر پیغامات دئیے، مگر ہر طرف سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا۔مَیں نے اعلیٰ افسر کو فون کرکے رپورٹ دی، تو اُن کا کہنا تھا’’ جیو نیوز دیکھیں، جہاز گرنے کا ٹِکر چل رہا ہے۔‘‘ اہل کاروں کو اِدھر اُدھر دوڑایا ، تو پتا چلا کہ شام سات بجے ایک مقام سے دھماکے کی آواز سُنائی دی تھی۔ بہرحال ،رات دو بجے ہم نے فوجی جوانوں کی مدد سے جہاز کی تلاش کا کام شروع کیا اور ڈھونڈتے ڈھونڈتے بلوچستان کی سرحد کے قریب جا پہنچے۔ وہ ایسا راستہ تھا کہ مَیں خوف کے مارے جیپ سے اُتر گیا، مگر فوجی جوانوں کو آفرین ہے کہ انتہائی جانفشانی کے ساتھ جائے حادثہ تک پہنچ گئے۔صبح کے سات بج چُکے تھے اور کچھ فوجی ہیلی کاپٹرز بھی وہاں ہم سے پہلے پہنچے ہوئے تھے۔

ایک بار معلوم ہوا کہ مظاہرین نے کوٹری میں دھرنا دے کر ریلوے ٹریک بند کر رکھا ہے۔ افسران نے مجھے وہاں جانے سے منع کیا، کیوں کہ مظاہرین بہت مشتعل تھے، مگر مَیں اُن کے درمیان پہنچ گیا اور مذاکرات کرکے ٹریک کھلوا دیا۔دراصل، واپڈا نے بِل نہ دینے پر پی ٹی سی ایل کالونی کی بجلی کاٹ دی تھی، بچّوں کے امتحانات سَر پر تھے، اِس لیے وہاں کے باسی ہنگامہ آرائی پر اتر آئے۔ مَیں نے ایک طرف تو ایم ڈی، حیسکو سے بات کرکے بجلی بحال کروائی اور دوسری طرف، چیئرمین پی ٹی سی ایل سے بھی گزارش کی کہ بروقت بِل نہ بھر کر کیوں عوام کو پریشانی میں مبتلا کرتے ہیں۔اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر افسران ذاتی طور پر دل چسپی لیں تو بہت سے مسائل باآسانی حل کیے جا سکتے ہیں۔

س: کیا دورانِ ملازمت سیاسی مداخلت کا بھی سامنا رہا؟

ج: نہیں، کبھی نہیں۔ مَیں نے اپنے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھول رکھے تھے۔ ضلعے کے سب ہی سیاسی گھرانوں سے اچھے روابط رہے، یہاں تک کہ جی ایم سیّد کے بیٹے کے ہاں بھی آنا جانا رہا۔

س: بیوروکریسی کا نظام مکمل طور پر گل سڑ چُکا ہے؟ آپ اِس تاثر سے کس حد تک متفّق ہیں؟

ج: یہ درست ہے کہ معاشرے میں اچھے بُرے کی تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے، مگر یہ کہنا کہ بیوروکریسی کا نظام گل سڑ چُکا ہے، سراسر غلط بات ہے۔چند افسران کی سوچ خراب ہو گی مگر آج بھی زیادہ تر افسران بہت باصلاحیت اور قانون پسند ہیں۔ آپ اعلیٰ افسران کے پاس جائیں، تو اُنھیں بُردبار، نرم خُو اور قانون پسند پائیں گے۔پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کی اب بھی اچھی ساکھ ہے، البتہ صوبوں کے حوالے سے طرح طرح کی باتیں اُڑتی رہتی ہیں، جن پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔

س: آپ کا ایک ادبی پس منظر بھی ہے، تو کیا دورانِ ملازمت ادبی سرگرمیوں میں بھی حصّہ لیتے رہے؟

ج: جی بالکل۔ دو سال ڈپٹی کمشنر رہا، جس کے دَوران چین کے بعد دنیا کی سب سے بڑی دیوار، رَنی کوٹ پر سیمینار کروایا، جس میں مُلک بھر سے آنے والے ماہرین نے تحقیقی مقالے پیش کیے۔ نیز، یونیسف کو خط لکھ کر اس کی اہمیت سے آگاہ کیا، جس کے بعد عالمی ادارے نے اس پر توجّہ دینا شروع کی۔ اکبر لغاری( موجودہ سیکریٹری ثقافت) کے ساتھ مل کر اُردو، سندھی مشاعرے کروائے۔

س: کیا آپ نے خود بھی کچھ لکھا ہے؟

ج: جی ہاں، اب تک میری پانچ کتابیں منظرِ عام پر آچُکی ہیں۔ بہت سے لوگ والد صاحب پر ایم فِل یا پی ایچ ڈی کے مقالے لکھتے ہیں، تو وہ اِس ضمن میں معلومات کے لیے مجھ سے بھی رابطہ کرتے ہیں۔ لہٰذا اُن کی سہولت کے لیے ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب کی حیات وخدمات پر ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب مرتب کی ہے۔ اِسی طرح میرا پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی مجلس ترقیٔ ادب، لاہور کے زیرِ اہتمام شایع ہوچکا ہے، جب کہ باقی کتب میں ادب، کلچر اور اس سے متعلقہ مسائل کو موضوع بنایا ہے۔ مَیں معروف ادبی رسالے’’ نیا دور ‘‘ کا ایڈیٹر بھی رہ چُکا ہوں۔

س: اِن دنوں جو ادب سامنے آ رہا ہے، اُسے کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

ج: ایک ایسے ماحول میں، جب زندگی کا ہر شعبہ ہی انحطاط کا شکار ہے، ادب اور ادیب کا متاثر ہونا بھی یقینی ہے، مگر اِس کے باوجود حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ادبی تقاریب تواتر کے ساتھ منعقد ہو رہی ہیں، نئی نئی کتب اور تحقیقات سامنے آ رہی ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ پوری قوم شارٹ کٹ کے چکر میں پڑ گئی ہے۔پھر یہ کہ معاشی معاملات بھی بہت اُلجھ گئے ہیں، جس کی زَد میں ادیب اور ادب بھی ہیں۔

س: نئی نسل کو ادب کی طرف متوجّہ کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

ج: بچّوں میں پڑھنے لکھنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے، بلکہ بہت سے بچّے تو اُردو پڑھ بھی نہیں پاتے۔پھر یہ کہ ترجیحات کا بھی مسئلہ ہے۔ اچھا کھانا پینا اور منہگے اسکولز میں پڑھنا ہی ہمارا مطمعِ نظر بن چُکا ہے، بچّوں کی شخصیت اور کردار سازی پر توجّہ نہیں دی جارہی۔ نیز، اسمارٹ فونز کے غیر ضروری استعمال سے بھی نئی نسل کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔اِس نے گھروں کی اکائی تک کو توڑ ڈالا ہے۔ 

گھر کے تمام افراد اپنے اپنے فونز میں مصروف رہتے ہیں، کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں۔ ایک ساتھ اُٹھنا بیٹھنا، گپ شپ سب خیال و خواب کی باتیں ہوگئیں۔اِس کی وجہ سے بچّوں میں پڑھنے لکھنے کا رجحان ختم ہوتا جا رہا ہے، نوبت یہاں تک پہنچ چُکی ہے کہ وہ امتحانات کے لیے شروحات تلاش کرتے پِھرتے ہیں، بلکہ اب تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ اُنھیں 10 سوالات بتا دئیے جائیں اور پھر اُن ہی میں سے پانچ سوالات پوچھ لیے جائیں۔

س: آپ کے والد صاحب بچّوں کی تربیت کا کس حد تک خیال رکھتے تھے؟

ج: وہ تمام تر مصروفیات کے باوجود ہم پر نظر رکھتے تھے۔ مجھے چوتھی پانچویں کلاس تک خود پڑھایا ۔ایک روز مجھے کہا’’ بیٹا! کہیں جاؤ تو مجھ سے پوچھ لیا کرو، شاید مجھے بھی کوئی کام ہو۔‘‘ کچھ دنوں بعد مَیں اُن کے کتب خانے میں گیا، گاڑی کی چابی ہاتھ میں تھی اور کہا’’ بابا مَیں جا رہا ہوں۔‘‘ انھوں نے کہا’’ ٹھیک ہے۔‘‘ مَیں نے کہا’’ آپ نے کہا تھا کہ کہیں جانے سے پہلے پوچھ لیا کرو، اِس لیے آیا تھا۔‘‘ اِس پر اُنھوں نے ہنس کر کہا‘‘ نہیں بیٹے، تم پوچھنے نہیں، بلکہ بتانے آئے ہو۔‘‘ اِس طرح وہ ہماری تربیت کیا کرتے تھے۔ والد صاحب کو ہمیشہ لکھتے پڑھتے دیکھا۔ اُن کی زندگی بے حد منظّم تھی۔ اُن میں بہت تحمّل تھا، غصّے کا اظہار بھی سلیقے سے کرتے، حقوق العباد کا بہت زیادہ خیال رکھتے۔

س: کبھی اُنھیں اپنی کوئی تحریر دکھائی؟

ج: ہاں، مگر صرف ایک بار۔ ہم نے پرتو روہیلا کے ساتھ ایک شام منائی، جن کا دوہے کے حوالے سے بڑا نام تھا۔ کچھ دنوں بعد ایک اخبار کے ادبی صفحے پر اُن کے خلاف دھواں دار مضمون چَھپا، جس کے بعد ایک طویل بحث مباحثے کا آغاز ہوگیا۔ مَیں اِس حوالے سے چَھپنے والے مضامین کو کتابی شکل دے کر والد صاحب کے پاس لے گیا تاکہ وہ سنسکرت کے الفاظ دیکھ لیں۔ انھوں نے مسوّدہ لے کر ایک طرف رکھ دیا اور کہا’’ بیٹے! یہ بُری بات ہے۔ اس طرح کے کام مت کرو۔‘‘