آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ذہانت و تخلیق کا مکمل انحصار سوچ اور کام کے انداز پر منحصر ہے کہ آپ اپنے کام اور خیالات کی کیسے نمو کرتے ہیں؟ کام سےآپ کو دلچسپی ہے یا نہیں؟ اپنے اہداف کو مکمل کرنے میں کتنے پُر خلوص اور پُرجوش ہیں؟ اگر تخلیقی دانشورکی بات کریں تو وہ اپنی ذات کو سنوارنے کی مستقل سعی کرتے رہتے ہیں۔ انھیں دوسروں کی فکر کے بجائے اپنی اصلاح مطلوب ہوتی ہے۔وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں، قائدانہ صلاحیت اور اپنے زورِ بازو پر بھروسہ ان کی خاص پہچان ہے۔

وہ اپنی تخلیقات سے اک نیاجہاں آباد کرتے ہیں۔ زمانے کے گرم و سرد مزاج کو اپنے تبسم اور مثبت خیالات سے بھر دیتے ہیں۔ عجز و انکساری،خاموشی ان کی عام خوبی ہوتی ہے۔نیکی اور سچائی کے پرستار ہوتے ہیں۔ تخلیقی مفکرین میں عام طور پر سات خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ جب آپ ان میں سے ایک یا زائد پر عمل کرتے ہیں تو آپ بھی دل سے محسوس کرنے لگتے ہیںکہ واقعی ذہین شخص دعوے نہیں بلکہ اپنے عمل سے ثابت کرتا ہے۔کام سے گہری محبت اوروالہانہ وابستگی رکھنے والے ہی تخلیق کار ہوتے ہیں۔

سوالات پوچھیں

تخلیقی مفکرین کی سب سے پہلی خوبی بچوں کی سی حیرت اورتجسس ہے۔ و ہ بچوں کی طرح ہر وقت سوالات کرتے رہتے ہیں کہ یہ کیا ہے اورکیوں ہے؟ ہم اسے کیوں نہیں کر سکتے؟ اگر یہ پہلے نہیں کیا گیا تو کیا اب یہ کیا جاسکتا ہے؟ یہی ان کی ذہانت و فطانت کی چابی ہے۔ وہ کوئی بھی نئی بات جاننے کے لیے اس خوف سے سوال پوچھنے سے نہیں گھبراتے کہ لوگ کیا کہیں گے۔

صفر سے ابتدا

تخلیقی مفکرین کا دوسرا معیار یہ ہے کہ وہ ہر وقت خود کو کم علم جانتے ہیں۔انھیں اپنے حاصل کردہ علم کا کوئی زعم نہیں ہوتا۔ ہم میں سے کئی لوگ اپنا وقت ایسے شعبے میں ضائع کردیتے ہیں،جس کی فطری صلاحیت ہم میں نہیں پائی جاتی اور پھر پریشان رہتے ہیں کہ ہمیں مہارت کیوں حاصل نہیں ہوئی۔ تخلیق کار ہر لمحہ اپنی صلاحیت کو آزماتے ہوئے اس شعبے کا انتخاب کرتا ہے، جہاں اس کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں اور پھر نئے جذبے اور شوق سے وہ صفر سے ابتدا کرکےکمالِ فن کے درجے پر پہنچتا ہے۔

اپنی غلطی تسلیم کرنا

انتہائی تخلیقی مفکرین کی چوتھی خوبی اپنی غلطی کا اعتراف کرنا ہے۔ ہمارے یہاں اکثرلوگ یہ قبول کرنےکو ہی تیار ہی نہیں ہوتےکہ ان سے غلطی بھی ہوسکتی ہے اور وہ اپنی بیشتر دماغی و جذباتی توانائی اسی کے دفاع میں صرف کردیتے ہیں۔ انتہائی تخلیقی لوگ کھلے اورلچکدار ذہن کے مالک ہوتے ہیں، وہ اپنی غلطی تسلیم کرتےہیں اور جواز نہیں تراشتے۔

نئےتصورات تشکیل دینا

تخلیقی لوگوں کا چھٹا معیار یہ ہے کہ وہ مستقل نئے تصورات کی تشکیل پر توجہ مرکو زرکھتے ہیں۔ تخلیقی سوچ کا سب سے اہم حصہ آپ کے خیالات پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ جتنے زیادہ خیالات آئیں گے، اتنا ہی معیار بہتر ہوگا اوراس بات کے امکانات روشن ہوںگے کہ آپ کو صحیح وقت پر صحیح خیال مل سکے۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ دانشور اپنے تخیل سے سوچتا ہے، وہ دوسروں کے اقوال پر نہیں جیتا۔ وہ دوسروں کے خیالات نقل کرنے کے بجائے اپنی تخلیق پر توجہ دیتے ہوئے ہمہ وقت سیکھنے کا عمل جاری رکھتا ہے۔ وہ اس بات کو فوقیت دیتا ہے کہ اس نے کیا کہا؟ اس نے کون سی اختراع کی؟ نئے خیال کی قدر و قیمت کو پہچانیں اور علم کے راستے میں اپنے لیے منفرد راہ کا انتخاب کریں۔

سیکھنے کا عمل جاری رکھنا

تخلیق کار تسلیم کرتے ہیں کہ ہر چیز کے بارے میں جاننا ناممکن ہے ، لہٰذا جب ان سے کوئی خاص سوال پوچھا جائے اور اگروہ جواب نہیں جانتے تو فوری اعتراف کرتے ہیں کہ انھیں نہیں معلوم۔ اگر ضرورت ہو تو وہ جواب تلاش کرتے ہیں۔ لیکن غلط جواب دینے سے گریز کرتے ہیں۔وہ سقراط کے اس قول کی عملی تصویر ہوتے ہیں،’’میں اتنا جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا‘‘۔

اپنا ذہن تبدیل کریں

تخلیقی مفکرین کی تیسری خوبی ہر وقت تبدیلی کےلیے رضامندی ہے۔ وہ اپنی زندگی میں ذمہ دار بننے کو ترجیح دیتے ہوئےناگزیر تبدیلی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ محققین کے مطابق آپ جو فیصلے کرتے ہیں ان میں سے 70 فیصد غلط ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہنی لچک کا ہونا سب سے اہم صلاحیت ہے جس کی آپ کو کامیابی کے لیے لازمی ضرورت ہوتی ہے۔

انا کو ختم کریں

تخلیقی مفکرین کی ساتویں خوبی یہ ہے کہ وہ خود کو درست ثابت کرنے کے لیے اپنی انا کو درمیان میں نہیں لاتے۔ اگر ان کے نتائج غلط ہیں تو انھیں سرتسلیم خم کرتے ہوئے قبول کرکے اس کی اصلاح پر توجہ دیتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ کون زیادہ حق بجانب ہے بلکہ اپنے مقصد کے حصول ، رکاوٹ کی دوری یا مسئلے کو حل کرنے کے لئے کسی بھی ذریعے سے آنے والے تصورات کو قبول کرنے میں فراخ دل ہوتے ہیں۔

تعلیم سے مزید